Business & Finance

Buying/Selling Copyright

Answered
August 3, 2023
The Question

Is buying/selling copyright permissible?

The Answer
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب حامدا ومصليا ومسلما

At the outset, there are differences of opinion among scholars regarding copyright and whether it is a purchasable asset or not. Most contemporary scholars including the likes of Mufti Muhammad Taqī Usmani hafidhahullah have deemed it to be a purchasable asset. Therefore, it would be permissible to buy or sell a copyright.

And Allāh Ta’āla Knows Best

Answered by
Maulana Ahmad Amin
Approved by
Mufti Husain Ahmad Madani

References

المراد بالمال ما يميل اليه الطبع ويمكن ادخاره لوقت الحاجة والمالية تثبت يتمول الناس كافة او بعضهم والتقوم يثبت بها وبإباحة الانتفاع به شرعا

(رد المحتار ٧/١٠، دار الكتب العلمية)

وبه اخذ عامة المشائخ قال السائحاني وهو الصحيح وعليه الفتوي، مضمرات والفرق بينه وبين حق التعلي حيث لا يجوز هو ان حق المرور حق يتعلق برقبة الارض وهي مال هو عين فما يتعلق به له حكم العين اما حق التعلي فمتعلق بالهواء وهو ليس بعين مال

(الدر المختار: ٤/١٣٢)

والمال ما يميل إليه الطبع ويجري فيه البذل والمنع

(رد المحتار: ٣/٢٣٥، دار الكتب العلمية)

فالراجح عندنا والله سبحانه اعلم ان حق الابتكار والتأليف حق معتبر شرعا فلا يجوز لأحد ان يتصرف في هذا الحق بدون اذن من المبتكر او المؤلف

(فقه البيوع: ١/٢٨٦، مكتبه معارف القرآن)

ولا تجوز هبته والتصدق به لأن كل واحد منهما تمليك والحقوق المفردة لا تحتمل التمليك ولا يجوز الصلح عليه

(بدائع الصنائع: ٥/٢٧٦، دار احياء التراث العربي)

قوله: (لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة على الملك) قال في البدائع الحقوق المفردة لا تحتمل التمليك ولا يجوز الصلح عنها... (كحق الشفعة) ...وفي الذخيرة أن أخذ الدار بالشفعة أمر عرف، بخلاف القياس فلا يظهر ثبوته في حق جواز الاعتياض عنه

(رد المحتار: ٧/٣٣-٣٤، دار الكتب العلمية)

جو حقوق اصالة مشروع نہیں ہوئے ہیں بلکہ ان کی مشروعیت دفع ضرر کے لئے ہے ان کا عوض لینا کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے نہ توسیع کے طریقے پر نہ صلح اور دستبرداری کے طریقے پر مثلا حق شفعہ... جو حقوق فی الحال ثابت نہیں ہیں بلکہ مستقبل میں متوقع ہیں ان کا عوض لینا بھی کسی صورت میں جائز نہیں مثلاً مورث کی زندگی میں حق وراثت کا عوض لینا... جو حقوق شرعیہ اصحاب حقوق کے لئے اصالۃ ثابت ہوئے ہیں لیکن وہ حقوق ایک شخص سے دوسرے شخص کی طرف منتقل ہونے کے لائق نہیں ہیں ایسے حقوق کا بیع کے طریقے پر تو عوض لینا جائز نہیں ہے۔ لیکن ان پر مال کے بدلے میں صلح کرنا یا دستبردار ہونا جائز ہے مثلا حق قصاص... وہ حقوق عرفیہ جو اعیان کے ساتھ وابستہ ہیں اور دائمی منافع سے عبارت ہیں مثلاً راستے میں چلنے کا حق... متاخرین فقہائے احناف کے نزدیک قول مختار یہ ہے کہ ان حقوق میں سے جو حقوق اعیان ثابتہ سے متعلق ہیں۔ وہ بھی حکما مال ہیں، ان کی خرید وفروخت جائز ہے مثلاً حق مرور... بشرطیکہ اس میں جواز سے کوئی اور مانع مثلاً غرر اور جہالت موجود نہ ہو، متاخرین فقہائے احناف کے نزدیک حق تعلی کی بیع جائز نہیں ہے اس لئے کہ حق تعلی کسی پائیدار مادی چیز سے متعلق نہیں،

(فقهي مقالات: ١/٢١٨-٢١٩، ميمن اسلامك ببلشرز)

(جدید فقہی مسائل: ٤/١٨٩،  کتب خانہ نعیمیہ)

حق تصنیف پر معاوضہ لینا جائز ہے۔۔۔ موجودہ عرف میں حق تالیف وغیرہ کے ساتھ مال جیسا معاملہ کیا جاتا ہے۔

کسی شیئ کو مال قرار دینے کے لئے اس کا قابل احراز یانی حفاظت کئے جانے کے لائق ہونا ضروری ہے اور مذکورہ حقوق کا احراز قانونی طور پر رجسٹری کے ذریعہ ہوجاتا ہے- مال کے لئے ایک شرط یہ بھی ہے کہ قابل انتفاع ہو اور اس حق سے وافر مقدار میں فائدہ اٹھایا جاتا ہے- ان حقوق کو قانونی حیثیت دینے کے لیئ محنت و مشقت کے ساتھ ساتھ سرمایہ بھی خرچ کرنا پڑتا ہے لہذا ان کو کسب کا ذریعہ بنایا جاسکتا ہے-

فتاوی دار العلوم زکریا ٥/٣١٦، زمزم

حق تصنیف کوئی مال نہیں، جس کا ہبہ یا بیچ ہو سکے، لہذا یہ باطل ہے،  

(فتاوي محموديه: ٢٤/٢١٠، دار الاشاعت)

(فتاوي رشيديه: ٤٩٨، سعيد)

بعض کہتا میں محض دنیوی علوم اور کاروباری معاملات کی اور اس سے متعلق ہوتی ہیں اور ان کتابوں سے مقصد محض دنیا کمانا یا دنیوی کاروبار کرنا ہوتا ہے اور اس نے یہ کتا ہیں لکھی اور بیچی جاتی ہیں ، ایسی کتابوں کا حق تصنیف محفوظ رکھنا اور دوسروں سے روپیہ لے کر دوسروں کو چھاپنے کی اجازت دنیا کاروباری طریقہ میں مار کر مجھے درست رہے گا اور بعض کتابیں محض دینی علوم کی اور محض اشاعت دین کی ہوتی ہیں اور علوم دین اور اس کی اشاعت شرفا مطلوب اولی و اصل ہے اور اس کا روکنا یا اس کو دنیوی کا روبار بنا نا شرعاً درست نہیں ہوتا ۔ کھا اشاروالیه النصوص. مثلاً بلغوا عني ولواية " اور ثلاً ليبلغ الشاهد الغائب، وغيرهما. لہذا علوم دینیہ کی کتابوں کا حق تصنیف محفوظ کر لینا اس کی اشاعت سے روکنا درست نہیں ہوگا۔ اور اگر کوئی کتاب دونوں قسم علوم دنیوی و دینی) پرشتمل ہو تو اکثر کاحکم جاری ہو گا یہ فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔

(نظام الفتاوي: ١/٢١٦-٢١٧، مكتبه رحمانيه)

اپنی کسی تصنیف یا ایجاد کو رجسٹرڈ کرا کر دوسروں کو اس کی اشاعت یا صنعت سے روکنا جائز نہیں... اور جب یہ معلوم ہو گیا کہ اپنی تصنیف یا ایجاد کو اپنے لئے مخصوص کرنے کا مصنف یا موجد کو کوئی حق نہیں ہے تو خرید وفروخت بھی شرعاً جائز نہیں، کیونکہ خرید وفروخت کے لئے مال ہونا شرط ہے، اور حق مجرد کوئی مال نہیں ہوتا، اگر چہ ذریعہ مال بن سکتا ہے۔

(جواهر الفقه: ٤/٤٤٧،٤٥١، مكتبه دار العلوم كراچي)  

اسی طرح کتاب کا حق طباعت جب کہ اس کے ساتھ مصنف کی مالی منفعت حال میں نیا مستقبل میں متعلق ہے وہ حق ثابت بالا صالہ ہے اور مصنف اس حق کو معاوضہ لے کر منتقل بھی کر سکتا ہے... (الجواب صحیح) حضرت مولانا مفتی عبد الغنی صاحب رحمہ اللہ کا حق تصنیف وحقوق طبع سے متعلق فتویٰ صحیح ہے۔ دفع مضرت کے لئے و دیگر مصالح کی بنا پر حقوق محفوظ کر الینا درست ہے۔

(فتاوي رحيميه: ٩/٢٢٠، دار الاشاعت)

For your questions

Have a question that needs a clear, sourced answer?

Submit your question privately. Our team reviews each submission and responds with a researched answer, citing the references used.