Am I responsible to pay for damages if my car crashes into someone else's property?

Liability: Car Crashes into Someone Else's Property
Zaid was driving his car and he crashed it into someone’s property due to his brakes failing all of a sudden. Would he be responsible for the damages he caused (in shariah)?
الجواب حامدا ومصليا ومسلما
In principle, if the car was in fair condition and suitable for driving before going on the road, one would not be responsible for the damages he caused since there was no “gross negligence” from his side. “Gross negligence” also includes violating traffic laws, driving the car recklessly, or driving in an unsafe manner under certain weather conditions.
Consequently, Zaid would not be responsible for the damages he caused provided that there was no gross negligence.
And Allāh Ta’āla Knows Best
References
المباشر ضامن وإن لم يتعمد ولم يتعد ، والمتسبب لا يضمن إلا أن يتعدى
(مجمع الضمانات: ٣٨١)
(بحوث في قضايا فقهية معاصرة: ١/٢٩٠)
حد المتسبب: هو الذي حصل التلف بفعله، وتخلل بين فعله والتلف فعل مختار
(بحوث في قضايا فقهية معاصرة: ١/٢٩١)
والظاهر أن سائق السيارة ضامن لما أتلفته في الطريق سواء أتلفته من القدام أو من الخلف ووجه الفرق بينها وبين الدابة على قول الحنفية إن الدابة متحركة ركة بإرادتها فلا تنسب نفحتها إلى راكبها بخلاف السيارة فإنها لا تتحرك بإرادتها فتنسب جميع حركتها إلى سائقها فيضمن جميع ذلك ، والله سبحانه وتعالى أعلم.
(فتح الملهم : ٥٢٣،٥٢١/٢)
(ومن ضرب دابة عليها راكب أو نخسها بعود بلا اذن الراكب فنفحت أو ضربت بیدها شخصا آخر غير الطاعن أو نفرت فصدمته وقتلته ضمن هو أى الناخس لا الراكب) لانه غير متعد فترجح جانب الناخس في التغريم للتعدى
الدر المختار: ٦٠٨/٦))
فلا شك أن الإتلاف سبب لوجوب الضمان عند استجماع شرائط الوجوب لأن إتلاف الشيء إخراجه من أن يكون منتفعا به منفعة مطلوبة منه عادة وهذا اعتداء وأضرار
(بدائع الصنائع: ٧/١٦٤)
ومن حفر بيراً في طريق المسلمين أو وضع حجراً فتلف بذلك إنسان فديته على عاقلته وإن أتلف بهيمة فضمانها فى ماله
( الهداية: ٦٠٣/٤)
وَضَعَ سَيْفًا فِي الطَّرِيقِ فَعَثَرَ بِهِ إِنْسَانُ وَمَاتَ وَكُسِرَ السَّيْفُ فَدِيَتُهُ عَلَى رَبِّ السَّيْفِ وَقِيمَتُهُ عَلَى العَاثِرِ
(حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ١٢/٧٢، دار الكتب العلمية)
(رد المحتار: ١٠/٢١١، دار الكتب العلمية)
وإن كان في طريق المسلمين فوقع فيها إنسان فمات فلا يخلو إما أن مات بسبب الوقوع وإما أن مات غماً أو جوعاً فإن مات بسبب الوقوع فالحافر لا يخلو إما أن كان حراً وإما أن كان عبداً، فإن كان حراً يضمن الدية لأن حفر البئر على قارعة الطريق سبب لوقوع المار فيها إذا لم يعلم وهو متعد في هذا التسبيب فيضمن الدية
(بدائع الصنائع: ٦/٣٣٥، دار احياء التراث)
بصورت مسئولہ اگر ڈرائیور نے قصداً کوئی زیادتی کی مثلاً غلط راستہ اختیار کیا اور الٹ گئی یا بہت زیادہ تیز چلارہا تھا مثلاً ۲۰۰ سے زیادہ اسپیڈ پر یا بالکل بے پرواہی سے چلا رہا تھا تو ان تمام صورتوں میں ڈرائیور ذمہ دار ہوگا، اور اس پر تاوان آئیگا لیکن اگر ایسا نہیں تھا بلکہ ڈرائیور اپنی پوری ذمہ داری سے چلا رہا تھا اور ناگہانی طور پر کوئی حادثہ پیش آگیا تو ڈرائیور اس کا ذمہ دار نہیں ہے، اور اس پر کسی قسم کا تاوان نہیں آئیگا، ہاں اگر
باہر کسی آدمی کو ٹکر مار کر ہلاک کر دیا تو پھر دیت واجب ہوگی۔
(فتاوی دار العلوم زکریا: ٤/٦٠٩، زمزم)
(اسلامی فقه: ٢/٦٢٣ تا ٦٢٤)
اگر گاڑی چلانے سے پہلے وہ بالکل درست حالت میں تھی ، اور ڈرائیور نے چلانے سے پہلے معروف طریقے پر اس کی جانچ پڑتال کر لی تھی ، پھر گاڑی کے چلنے کے دوران اچانک گاڑی کے پرزوں میں سے کسی پرزے میں خرابی پیدا ہو جائے ، یہاں تک کہ وہ گاڑی ڈرائیور کی قدرت اور کنٹرول سے باہر ہو جائے ، اور کسی انسان سے ٹکرا جائے تو اس کے بارے میں سعودی عرب کی "اللجنة الدائمة للبحوث والافتاء نے یہ فتوی دیا ہے کہ اس صورت میں ڈرائیور پر ضمان نہیں آئیگا ، اس طرح اگر وہ گاڑی اس سبب کی وجہ سے کسی انسان پر یا کسی چیز پر الٹ جائے ، اور وہ انسان مر جائے، اور وہ چیز ضائع ہو جائے تو ڈرائیور پر ضمان نہیں آئے گا۔۔۔ ہاں ! اگر اس ڈرائیور نے ان شرائط میں سے کسی شرط میں کو تاہی کی تھی، مثلا یہ کہ اس نے چلانے سے پہلے گاڑی کو چیک نہیں کیا تھا، یا کسی پرزے میں ظاہری خلل کے باوجود اس نے گاڑی چلانی شروع کردی تھی ، یا وہ تیز رفتاری سے گاڑی چلا رہا تھا ، تو ان تمام صورتوں میں اگر وہ گاڑی اس کے کنٹرول سے باہر ہو گئی تو ڈرائیور ضامن ہوگا، اس لئے کہ وہ تعدی کر کے اس گاڑی کے قابو سے باہر نکلنے کا " مسبب" ہے۔
(فقہی مقالات: ٦/٦٢،٦٣، مِمن ٱبلشرز)
جب سواری مستی کی وجہ سے بے قابو ہو جائے ، یعنی سوار اس کے روکنے سے عاجز ہو جائے تو سوار پر ضمان نہیں ، خواہ جانی نقصان ہو یا مالی، کیونکہ اس صورت میں فعل دا بہ سوار کی طرف منسوب نہیں ہوگا ... اور یہ حکم اس وقت ہے جب کہ سوار نے گھوڑی کو معتاد رفتار سے چلایا ہو، اور اگر غیر معتادطور پر چابک وغیرہ لگایا یا سوار نےعمداً اپنی قدرت سے زیادہ رفتار پر چلایا تو اس پر ضمان ہوگا، لأنه متعد كناخس الدابة. (احسن الفتاوى ۵۱۳/۸)

Have a question that needs a clear, sourced answer?
Submit your question privately. Our team reviews each submission and responds with a researched answer, citing the references used.