Credit Card Rewards and Receiving Prizes for Opening a Bank Account?

Credit Card Rewards and Receiving Prizes for Opening a Bank Account?
What is the ruling on using credit card rewards and receiving prizes for opening a bank account?
الجواب حامدا ومصليا ومسلما
Cashback credit cards offer the chance to earn cash from the money spent, by paying back a percentage of what one spends or by giving reward points.1 Such rewards would fall under hibah (gift), therefore, it would be permissible to use the cashback rewards.
However, there are two scenarios when one is receiving a bonus or prize for opening a bank account. Their details and rulings are:
- The bank offers a bonus or prize solely based on opening an account. This will be permissible and is considered a gift.
- The bank offers a bonus or prize with the condition that a person must deposit a certain amount of money. This will be impermissible because the money deposited with the bank is treated as a loan, and the reward is regarded as interest received in return for that loan.
And Allāh Ta’āla Knows Best
References
فثبت بهذا أن الودائع المصرفية في البنوك التَّقليدية - بأنواعها الثلاثة - كلها قروض يقدمها أصحاب الأموال إلى البنك، فتجري عليها جميع أحكام القرض
(قضايا فقهية معاصرة: ١/٣٥٥، مكتبة دار العلوم كراتشي)
وبما ان حقيقة الجائزة انها هبة بدون مقابل فانها ليست من عقود المعاوضة، وانما هي من قبيل التبرعات، فمن شروط جوازها ان تكون تبرعا من المجيز بدون ان يلتزم المجاز بدفع عوض مالي مقابل الجائزة
بحوث فى قضايا فقهية معاصرة، (٢/١٥٥)، دار القلم
الهبة تصح بالإيجاب والقبول، وتتم بالقبض، فإذا قبض الموهوب له في المجلس بغير أمر الواهب جاز، وإن قبض بعد الافتراق لم تصح، إلا أن يأذن له الواهب في القبض
اللباب في شرح الكتاب (ص: ٢١٩)
الجوهرة النيرة على مختصر القدوري، ١/٣٢٤
(هي) لغة: التفضل على الغير ولو غير مال. وشرعا: (تمليك العين مجانا) أي بلا عوض لا أن عدم العوض شرط فيه
وأما تمليك الدين من غير من عليه الدين فإن أمره بقبضه صحت لرجوعها إلى هبة العين
(وسببها إرادة الخير للواهب) دنيوي كعوض ومحبة وحسن ثناء، وأخروي: قال الإمام أبو منصور يجب على المؤمن أن يعلم ولده الجود والإحسان كما يجب عليه أن يعلمه التوحيد والإيمان؛ إذ حب الدنيا رأس كل خطيئة نهاية مندوبة وقبولها سنة قال صلى الله عليه وسلم - «تهادوا تحابوا
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار)، ٥/٦٨٧
البحر الرائق – ٧/٢٨٤
يمنح بعض مصدري بطاقات الائتمان جوائز و هدايا لعملائهم من حملة البطاقات لمناسبات مختلفة ، منها : إنضمامهم لعضوية البطاقة أو تقديمهم لعملاء جدد أو لإنتظامهم في السداد.
و إنني لا أرى حرجا شرعا في هذه الجوائز و الهدايا إذا كانت على سبيل التبرع من مصدر البطاقة بقصد ترويج البطاقة و تشجيع إستخدامها دون إشتراط ذلك عليه ، لأنها تبرع من الكفيل إلى المكفول عن طيب نفسه و ليس فيها معنى الربا و لا شبهته و لا ذرائعه
قضايا فقهية معاصرة في المال والإقتصاد، ص ١٥٩
بینک والے اور کمپنی والے کارڈ ہولڈر کو جو انعامات دیتے ہیں، ان کا لیتا اور استعمال کرنا جائز ہے،
(فتاوی دار العلوم زکریا، ٥/٣٨٨، زمزم)
بینک والے اور کمپنیوں والے کریڈٹ کارڈ کے استعمال کرنے والوں کو انعامات دیتے ہیں اور اسی طرح اپنے گاہکوں کو ترغیبات دیتے ہیں مثلا اگر تم اتنی رقم کی خریداری کرو گے تو تم کو یہ چیزیں گفٹ میں ملیں گی تو کیا ان گنٹوں کا حاصل کرنا جائز ہے یا نہیں
الجواب (۸): حامد أو مصلياً ومسلماً -
بینک والے اور کمپنیوں والے کارڈ ہولڈر کو جو انعامات دیتے ہیں ان کا لینا اور استعمال کرنا جائز ہے کیونکہ بینک والے اور کمپنیوں والے کی حیثیت مال کا قرض دہندہ کی ہوتی ہے اور کارڈ ہولڈر ان اداروں کیلئے مقروض کا درجہ رکھتا ہے قرض دہندہ اگر اپنے مقروض کو کوئی انعام دے تو اسکا لینا مقروض کیلئے جائز ہے ہاں مقروض اگر قرض دہندہ کو کوئی انعام دے تو وہ سود کے حکم میں ہوتا ہے۔
(عصر حاضر کے پیچیدہ مسائل اور أن كاحل: ٢/١٩٨-١٩٩، الطاف اينڈ سنز)
یہ تجرع مشروط ہے یعنی احسان میں کوئی شرط لگانا مثلاً تین ہزار تک مفت کی اجازت دینا تبرع ہے اور اس کو اجارہ کے ساتھ مشروط کرنا کہ زائد کا کرایہ بینک ادا کریگا یہ تبرع مشروط بن گیا اس لیے یہ عقد جائز اور درست ہے۔
(فتاوی دار العلوم زکریا، ٥/٥٥٤، زمزم)
یہ معاہدہ جائز ہے کیونکہ خریدار کو سال تمام پر جو کمیشن ہر سکیڑہ پر دیا جاتا ہے وہ بائع کی طرف سے تبرع ہے خریدار کا حق لازم نہیں ، اور تبرع کو کسی شرط سے مشروط کرنا جائز ہے۔
(امداد الاحکام: ۳۸۶/۳)
بینک والے اور کمپنیوں والے کارڈ ہولڈر کو جو انعامات دیتے ہیں ان کا لینا اور استعمال کرنا جائز ہے
عصر حاضر کے بیچیدہ مسائل اور ان کا حل ٢/١٩٨، الطاف ايند سنز
جدید معاملات کے شرعی احکام ١/١٤٦، دار الاشاعت
وہ فرماتے ہیں کہ فیکس ڈپازٹ میں رکھی جانے والی رقم فقہی اعتبار سے قرض ہے، اس لئے کہ اس میں اکاؤنٹ ہولڈر کو اس بات کا اختیار نہیں ہوتا کہ وہ جب چاہے اپنی رقم بینک کو نکوالے
ان حضرات علماء کے نزدیک مندرجہ بالا دونوں اکاؤنٹوں میں رکھی جانے والی رقموں سے مختلف ہوتی ہے، ان کے نزدیک "کرنٹ اکاؤنٹ" کی رقم "مضمون" ہونے کے باوجود "امانت" ہوتی ہے، اس لئے کہ اکاؤنٹ ہولڈر کو اس بات کا اختیار ہوتا ہے کہ وہ جب چاہے بینک سے اپنی پوری رقم نکلوا لے، اور وہ کسی شرط کا پابند بھی نہیں ہوتا۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ میں رقم رکھوانے والے کی کبھی بھی یہ نیت نہیں ہوتی کہ بینک" کو سرمایہ کاری کے نتیجے میں جو منافع یا سود ہوگا، میں اس کے اندر شریک ہو رہا ہے ہوں، بلکہ وہ صرف حفاظت کی نیت سے بینک میں رقم رکھواتا ہے۔ لہذا جب اس کا مقصد بینک کو قرض دینا نہیں ہے تو اس رقم کو قرض" کا نام دینا ٹھیک نہیں۔
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ بینک کرنٹ اکاؤنٹ" میں رکھی جانے والی رقم کو بھی دو سری رقومات کے ساتھ خلط ملط کر دیتا ہے، اور اس رقم کو اپنی ضروریات میں بھی استعمال کر لیتا ہے، تو صرف اتنی بات اس رقم کو "امانت" ہونے سے خارج نہیں کرتی۔ اس لئے کہ عرفاً بینک کا یہ تصرف مالک کی اجازت سے ہوتا ہے۔ (اور مالک کی اجازت سے امانت میں تصرف کرنا جائز ہے) اور اس تصرف کے نتیجے میں وہ رقم "امانت" ہونے سے نہیں نکلے گا
فقهي مقالات ٣/٢٤، ميمن اسلامك ببلشرز

Have a question that needs a clear, sourced answer?
Submit your question privately. Our team reviews each submission and responds with a researched answer, citing the references used.