What type of service fees are merchants and storekeepers permitted to charge?

Charging a Service Fee
Zaid entered a store and asked the storekeeper to charge $50 on his credit card in lieu of giving him $50 in cash. The storekeeper agreed with the condition that Zaid pays him $3 in return for this transaction as well as the service fee charged from the bank to the merchant. Would this condition be valid?
الجواب حامدا ومصليا ومسلما
Merchants often use credit card systems that charge them a fee in lieu of using their machines. It is permissible for a merchant to charge a customer the amount he was liable of as a service fee. However, a service fee can only be charged for such actions which have been commonly accepted as a form of service. For example, it has been widely accepted that an ATM charges a card holder in lieu of the services used through ATMs. Consequently, it is not permissible for the merchant to charge a “service fee” in exchange of swiping the card as doing so is not commonly practiced as a form of service.
And Allāh Ta’āla Knows Best
References
حكم العمولة التي يتقاضاها مصدر البطاقة من التاجر وهي نسبة متفق عليها من ثمن المبيعات تتراوح ما بين ٢% و ٤ %
والتكييف الثاني الذي ذكره بعض المعاصرين ان التاجر وكل مصدر البطاقة بتسلم دينه من حامل البطاقة فمصدر البطاقة وكيل له بتسلم الدين وان العمولة التي يحسمها المصدر هي اجرة للوكالة من هذه الجهة ولكنه يشكل عليه ان المصدر يدفع دين الحامل عليها من عنده ثم يطالب الحامل بأصل الدين ولو كان توكيلا لطالب الحامل بذلك الدين واداه الي التاجر واجاب عنه... ومن المقرر شرعا جواز اخذ اجر معلوم متفق عليه علي كل من تحصيل الدين او توصيل الدين.
وان هذا التكييف وان كان له وجه ولكن الذي يظهرلي والله سبحانه وتعالى اعلم ان العملية في بطاقة الحسم الآجل عملية الحوالة فان كان لحامل البطاقة حساب في البنك المصدر بقدرة فاتورة التاجر فانه حوالة مقيدة تجوز عند جميع الفقهاء وان لم يكن له حساب في البنك المصدر فانه حوالة مطلقة والحوالة المطلقة وان كان فيها خلاد الائمة الآخرين فانها جائزة عند الحنفية. وحامل البطاقة وجب عليه دين للتاجر... وتمت الحوالة علي قول الحنفية برضا الاطراف الثلاثة... فانتقلت ذمة الحامل الي ذمة المصدر وصار مصدر البطاقة مديونا للتاجر بدين حال.
النقطة الثانية: ان مصدر البطاقة او وكيله يزود التاجر بالماكنية التي تتم به عملية قبول البطاقة وهي بذاته لها قيمة وتكون مع ال تاجر مملوكة للمصدر يستخدمها التاجر لصالحه ويقوم المصدر بصيانة هه الماكنية دوريا ويحق له من هذه الجهة اخذ الأجرة علي ذلك.
لو كان مصدر البطاقة يطل تخفيض الدين بدون اية خدمة ورضي بذلك الدائن لجاز ذلك لكون الدين حالا. ولكن لو كان الامر مقتصرا علي التخفيض لما جاز لمصدر البطاقة ان يرجع علي حامل البطاقة المحيل بكامل الثمن لان المحال عليه في الحوالة المطلقة لو صالح الدائن علي اقل من الدين فانه يرجع علي المحيل بما ادي لا بما قبل الحوالة به... ولكن اداء الدين في مسئلتنا مصحوب بهذه الخدمات التي ذكرناها في النقاط الثلاثة الأخيرة فالتخفيض مقابل لهذه الخدمات فكانه عند قضاء الدين اجري مقاصة اجرته منه ولذلك يستحق الرجوع علي حامل حامل البطاقة بكامل الدين ويتبين من هذا ان العمولة التي ياخذها مصدر البطاقة ليس بمثابة حسم الكمبيالة وانما هي مقابلة لعدة خدمات متقومة يقدمها لصالح التاجر فليس هناك اشكال في جواز دفعها وأخذها.
فقه البيوع ١/ ٤٥٧ -٤٦٢، مكتبة معارف القر آن
لا مانع من ان يطالب البنك مستقرضيه باداء مبلغ مقابل التكلفات الادارية التي تحملها في تقويم المشروعيات ومتابعة تنفيذها ما دام ذلك المبلغ لا يجاوز التكلفات الفعلية الواقعة في ذلك المشروع خاصة فان كان من الممكن تحديد هذه التكلفات بدقة فهو الانسب الاوفق بأحكام الشريعة فانه لا غبار علي جوازه... فمن الجائز ايضا ان يطالبهم البنك لا بالتكاليف الواقعية فحسب بل بعمولة الاجرائات الادارية التي يقوم بها البنك قبل دفع القرض او بعده ما دامت هذه العمولة لا تجاوز اجر المثل علي مثل هذه الاعمال فان الذي لا يجوز مطالبة الربح اوالاجر عليه هو عمل القرض بنفسه اما الاعمال الادارية بالنسبة لذلك القرض فلا يجب شرعا ان تكون مجانية.
وحينئذ يسع للبنك ان يطالب المستقرضين بنسبة مئوية من قيمة القرض تغطي التكاليف وعمولة الاجرائات الادارية ما دامت هذه النسبة المئوية تمثل اجرة المثل علي تلك الاعمال الادارية حقيقة ولا تتخذ حيلة لكسب الفوائد علي القروض نفسها.
وربما يشتكل تقدير العمولة بالنسبة المئوية بان الاعمال الادارية لا تزيد ولا تنقص بزيادة مبالغ القروض ونقصانها فينبغي ان تكون عمولتها مساوية لكل مستقرض سواء كان مبلغ قرضه قليلا او كثيرا. ولكن الجواب عن هذا الاشكال ان اجر المثل لا يتبني دائما علي قدر المشقة التي يتحملها العامل او الاجير بل ربما يلاحظ فيه قيمة العمل المعنوية والنفع الذي يرجع الي المستاجر وحينئذ تزداد الاجرة في عمل قليل المشقة و تنقص في عمل كثيرة المؤونة.
ولكن هذه المئوية لا بد ان تكون ضئيلة لا يرتاب في كونها رسم الخدمة ولا يجوز ان تتعدي اجرة مثل هذه الاعمال في حال من الاحوال والا صارت منفعة مجلوبة بالقرض وحراما دون اي تردد. وبما ان تحديده هذه النسبة المئوية التي لا تجاوز اجر المثل يخاف فيه التعدي بما يمكن ان يتدرج الي احتيال لأخذ الربا
قضايا فقهية معاصرة ١/٢١٤-٢١٧، مكتبه دارالعلوم كراتشي
وما لا يبطل بالشرط الفاسد القرض... فانه لا يبطل بهذا الشرط وذلك لان الشروط الفاسدة من باب الربا وانه يختص بالمبادلة المالية وهذه العقود ليست بمعاوضة مالية فلا تؤثر فيها الشروط الفاسدة ذكره العيني فيقال له كيف بطل عزل الوكيل والاعتكاف والرجعة بالشروط الفاسدة مع انها لم تكن من المبادلة المالية؟ وفي البزازية وتعليق القرض حرام والشرط لا يلزم.
البحر الرائق ٦/ ٣١٢، دار الكتب العلمية
مجمع الانهر ٣/١٥٨، دار الكتب العلمية
کريڈٹ کارڈ سے نقدی وصول کرنے کی دو صورتيں ہيں: -
ايک صورت ہاتھ سے وصول کرنا ہے کہ کارڈ ہولڈر بينک والوں کو اپنا کارڈ پيش کردے اور بينک والے کارڈ ديکه کر نقدی اس کے حوالے کرديں، تو يہ صورت اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ نقدی جاری کرنے پر کوئی زائد ٹيکس نہ ليا جائے کيونکہ ٹيکس قرض کے مقابلے ميں ہوگا جو کہ سود ہ ے - ATM مشين کے ذريعہ وصول کرنا، يہ مشينيں بذات خود قيمتی ہوتی ہيں، پهر اس کی تنصيب اور حفاظت وغيره پر بهی کثير اخراجات لگائے جاتے ہيں، اس کا حکم يہ ہے کہ اس کو استعمال کرنے پر اگر متعين قرم مشين کے استعمال کی اجرت کے طور پر اداره وصول کرے جو مقدار رقم سے قطع نظر ہو تو جائز ہے ليکن اداره رقم کو بنياد بنا کر کچھ وصول کرے تو يہ جائز نہيں بلکہ سود ہوگا البتہ اداره کارڈ جاری کرنے کی فيس وصول کرسکتا ہے -
بينک کا کارڈ ہولڈر سے ڈيوٹی اور اجرت وصول کرنا جائز ہے، کيونکہ يہ خدمات کی اجرت ہے۔۔۔ نيز دفتری نوعيت کی ہر قسم کی کاروائی اور خدمات انجام دينا پهر ہر بڑے شہر ميں رقم نکالنے کی مشين نصب کرنا جو کہ بذات خود قيمتی مشينيں ہيں، اب ظاہر ہے کہ ان خدمات کی اجرت وصول کی جاتی ہے، لہذا اس ميں کوئی حرج نہيں-
واضح رہے کہ کريڈٹ کارڈ ہولڈر کے ساته بينک کا عقد قرضہ کا ہوتا ہے، کہ بينک کی طرف سے دی ہوئی رقم کارڈ ہولڈر کے ذمہ قرض ہوتی ہے، ليکن قرض عقود تبرع ميں سے ہے عقد معاوضہ نہيں، اور حنفيہ کے نزديک اصول يہ ہے کہ عقود معاوضہ ميں شرط فاسد کرديتا، عقود تبرع م يں شرط فاسد خود لغو ہوجاتی ہے اور عقد فاسد نہيں ہوتا، البتہ شرط فاسد لگانے کی خرابی لازم آتی ہے -
فتاو ی دار العلوم زكريا ٥/ ٣٨٨، زمزم
کريڈٹ کارڈ کے ذريعہ نقدی حاصل کرنے کے دو طريقے ہيں پہلا طريقہ ہاته سے وصول کرنا کہ کارڈ ہولڈر بينک والوں کو اپنا کارڈ پيش کرے اور بينک والے کارڈ ديکه کر نقدی اس کے حوالے کرديں تو يہ صورت اس شرط کے استه جائز ہے کہ نقدی جاری کرنے پر کوئی زائد ٹيکس نہ ليا جائے کيونکہ زائد ٹيکس خدمات کی لاگت کے مقابلے ميں نہيں بلکہ قرض کے مقابلہ ميں ہوگا جوکہ خالص سود ہے -
دوسرا طريقہ مشين کے ذريعہ حاصل کرنا جس کو ATM کہتے ہيں چونکہ يہ مشين بذات خود بہت قيمتی ہوتی ہيں پهر اس کیتنصيب اور حفاظت وغيره پر بهی کثير اخراجات ہوتے ہيں اس لئے ان اخراجات کے تناسب سے کچه ٹيکس ليا جائے تو اس ميں گنجائش ہے - کيونکہ اس صورت ميں يہ ٹيکس قرض کے مقابلے ميں نہيں بلکہ اخراجات اور خدمات کے مقابلے ميں ہے -
عصر حاضر کے بيچيدہ مسائل اور ان کا حل ٢/ ١٩٦، الطاف ايند سنز
بينک کا تاجر سے بهی کميشن وصول کرنا جائز ہے کيونکہ اجرت صرف حوالہ قبول کرنے کے مقابلے ميں نہيں ہے بلکہ ان جائز خدمات ميں ہے جو بينک تاجرکو فراہم کرتا ہے مثلا بينک تاجر کو فراہم کرتا ہے مثلا بينک تاجروں کو يہ خدمات مہيا کرتا ہے کہ وه ان کو چيکنگ مشين فراہم کرتا ہے ان کے لئے فورا جواب دينے کا انتظام کرتا ہے اور سب سے بڑا فائده يہ ہے کہ وه اچهے گاہکوں کو جو حاملين کارڈ ہيں انکی طرف کهينچ کر لاتا ہے پهر انکے ديون (قرض) کو حاملين کارڈ سے وصول کرتا ہے ان تمام کاموں ميں محنت اور مشقت ہے تو يہ کميشن دراصل ان خدمات اور محنت و مشقت کا ہے اس لئے اس کا دينا شرعا جائز ہے -
واضح رہے کہ کريڈٹ کارڈ ہولڈر کے ساته بينک کا جو عقد ہوتا ہے وه آخر کار قرض کا عقد ہوتا ہے کہ بينک کی جانب سے تاجر کو رقم کی ادائيگی کے وقت بينک کا کريڈٹ ہولڈر کے ذمہ قرض ہوجاتا ہے اور قرض کے ساته سود کی يہ شرط فاسد لگی ہوتی ہے، قرض چونکہ عقود تبرع ميں سے ہے عقد معاوضہ نہيں ہے اور حنفيہ کے نزديک۔۔۔ عقود تبرع ميں شرط فاسد خود فاسد اور لغو ہوجاتی ہے اور عقد فاسد نہيں ہوتا البتہ اس ميں شرط فاسد لگانے کا گناه ره جاتا ہے ۔
عصر حاضر کے بيچيدہ مسائل اور ان کا حل ٢/ ١٩٧ -١٩٨، الطاف ايند سنز
ان کے علاوه کارڈ کی ايک اور قسم ہے جو کو ATM کارڈ کہتے ہيں- يہ رقم نکالنے کا کارڈ ہوتا ہے، بعض دفعہ اس کا وجود اوپر ذکر کرده کارڈ کے ضمن ميں بهی ہوتا ہے، مثلا يہ ممکن ہے کہ اس کو استعمال کرنے پر اگر متعين رقم مشين کے استعمال کی اجرت کے طور پر اداره وصول کرے جو مقدار رقم سے قطع نظر ہو تو جائز ہے- ليکن اگر اداره رقم کو بنياد بنا کر اس پر کچھ وصول کرے تو يہ جائز نہيں بلکہ سود ہوگا البتہ اداره کارڈ جاری کرنے کی فيس وصول کرسکتا ہے -
عصر حاضر کے بيچيدہ مسائل اور ان کا حل ٢/ ٢٠٢، الطاف ايند سنز
اسلامي ترقياتي بينك اپنے ركن ممالك كو بنيادی منصوبوں کی تکميل کے لئے غير سودی قرضے فراہم کرتا ہے اور قرض جاری کرنے پر جو دفتری مصارف آتے ہيں بينک سروس چارج کے نام سے ايک متعين رقم بطور مصارف کے وصول کرتا ہے۔۔۔ اس مشکل کے حل کے لئے بينک نے کہا کہ تمام قرضے جاری کرنے پرجو ادارتی مصارف آتے ہيں، ان کا حساب لگايا، اور پهر ان مصارف کو جاری کئے جانے والے قرضوں پر تقسيم کيا تو وه مصارف اصل قرض کی نسبت سے ڈها ئی سے تين فيصد بنے- لہذا اب بينک يہ چاہتا ہے کہ ہر قرض پر دفتری اخراجات کا عليحده حساب کرنے کے بجائے قرض کی رقم کی نسبت سے جو تقريبی مصارف آتے ہيں ان کو متعين کر کے سروس چارج کے نام سے وصول کرلے - کيا بينک کے لئے اس طرح سروس چارج متعين کرکے وصول کرنا جائز ہے ؟
جواب: قرض جاری کرنے اور اس کے حساب و کتاب رکهنے پر جو واقعی اخراجات آئيں ينک کے لئے اپنے قرضداروں سے بطورسروس چارج کے ان کو وصول کرنا جائز ہے، بشرطيکہ يہ رقم واقعی ان اخراجات سے تجاوز نہ کرے جو اس منصوبہ پر قرض کے اجراء کے لئے پيش آئے ہيں- البتہ اگر پوری احتياط کے ساتھ ان اخراجات کی تحديد ممکن ہو تو يہ صورت احکام شريعت کے زياده موافق اور مناسب ہوگی اس کے جواز ميں کوئی کلام نہ ہوگا -
اور اگر ہرمنصوبہ کے عليحده عليحده اخراجات کی تحديد ممکن نہ ہو تو اس صورت ميں بينک کے لئے ان سے واقعی اخراجات طلب کرنے کے بجائے قرض جاری کرنے سے پہلے اور بعد ميں کی جانے والی دفتری کاروائی کی اجرت وصول کرنا جائز ہے بشرطيکہ يہ اجرت اس قسم کے کاموں پر آنے والی اجرت مثل سے زائد نہ ہو –
البتہ بينک کے لئے قرض لينے والوں سے قرض کی مقدار پر فيصد کے حساب سے اجرت وصول کرنے کی گنجائش ہے جو کارڈ جاری کرنے پر آنے والے دفتری اخراجات کو پورا کرسکے بشرطيکہ اس ميں دو باتوں کا لحاظ رکها جائے ايک يہ کہ يہ اجرت اس جيسے کاموں پر آنے والی اجرت مثل کے برابر ہو دوسرے يہ کہ اس اجرت کی وصولی قرض پر حصولی نفع کے لئے ايک حيلہ اور بہانہ نہ بنا ليا جائے -
البتہ قرض کی مقدار پر فيصد کے حساب سے سروس چارج وصول کرنے پر اشکال کرنے پر يہ ہوتا ہے کہ قرض کی مقدار کی کمی اور زيادتی پر دفتری امور ميں يا اس قرض کے اندراجات ميں کوئی کمی يا زيادتی واقع نہيں ہوتی- اس لئے مناسب يہ ہے کہ سروس چارج کی رقم ہر قرض لينے والے سے برابر وصول کی جانی چاہئے قرض کی مقدار کی کمی اور زيادتی سے اس پر کوئی فرق واقع نہ ہونا چاہئے-
اس کا جواب يہ ہے کہ اجرت مثل ہميشہ کام کرنے کی مشقت کے بقدر ہونا ضروری نہيں ہے جو عامل نے برداشت کی ہے بلکہ بعض اوقات اس ميں کام کی نوعيت اور اس کی معنوی حيثيت کا لحاظ کيا جاتا ہے اور بعض اوقات مستاجر کو حاصل ہونے والے نفع کا بهی لحاظ کيا جاتا ہے اسی لئے بعض اوقات معمولی مشقت کے کام پر زياده اجرت دی جاتی ہے، اور بعض اوقات زياده مشقت کے کام پر تهوڑی اجرت دی جاتی ہے -
اور يہ بات تو مشہور ہے کہ فقہاء نے دلال کے کميشن کو مبيع کی قيمت ميں فيصد کے تناسب سے مقرر کرنے کو جائز قرار ديا ہے۔۔۔ تاتارخانيہ ميں ہے کہ دلالی ميں اجرت مثل واجب ہے۔۔۔ اور حاوی ميں ہے کہ محمد بن مسلمہ سے دلالی کی کميشن کے بارے ميں سوال کيا گيا تو انہوں نے فرمايا کہ ميرے خيال يہ ہے کہ اس ميں کوئی حرج نہيں، اگرچہ اصلا يہ معاملہ فاسد تها ليکن کثرت تعامل کی وجہ سے اس ميں کوئی حرج نہيں البتہ اس کی بہت سی صورتيں ناجائز بهی ہيں ليکن فقہاء نے ضرورة اس کو جائز قرار ديا ہے جيسے کہ دخول حمام ميں ضرورة جائز کہا -
اور يہ بالکل ظاہر بات ہے کہ ثمن کی کمی اور زيادتی سے اکثر اوقات دلالی ميں محنت اور مشقت کوئی اثر نہيں پڑتا ليکن اس کے باوجود ان فقہاء متاخرين کے نزديک فيصد کے اعتبار سے دلالی کا کميشن لينا جائز ہے - لہذا دلالی کے کميشن پر قياس کرتے ہو ئی زير بحث مسئلے ميں قرض کے اجراء پر آنے والے دفتری اخراجات کو قرض کی مقدار پر فيصد کے لحاظ سے مقرر کرنے کو جائز قرار ديا جائے گا اس لئے کہ دونوں کے درميان ما بہ الفرق کوئی چيز نہيں ہے -
البتہ فيصد کےاعتبار سے وصول کئے جانے والے اخراجات کی مقدار بہت معمولی ہونی چاہئے کہ واقعۃ اس کے سروس چارج ہونے ميں کوئی شک و شبہ نہ ہو اور يہ سروس چارج اجرت مثل سے زياده وصول کرنا کسی حالت ميں جائز نہيں ورنہ کل قرض جر نفعا کے تحت داخل ہو کر يقينی طور پر حرام ہوجائےگی -
اسلام اور جديد معاشی مسائل ٥/ ٢٤٥ -٢٥١، ادارہ اسلاميات
قرض حسن پر سروس چارج وصول کرنے کے لئے اس بات کا ملحوظ رکهنا ضروری ہوگا کہ سروس چارج کی مقدار واقعی اجرت مثل کی نمائندگی کرتی ہو محض حيلہ نہ ہو
احسن الفتاوی َ٧/ ١٢٤، سعيد

Have a question that needs a clear, sourced answer?
Submit your question privately. Our team reviews each submission and responds with a researched answer, citing the references used.