Business & Finance

Inheriting Life Insurance

Answered
January 18, 2024
The Question

My family member unknowingly purchased life insurance, which is prohibited in Islam. Now that they've passed away, can his heirs inherit the insurance payout?

The Answer
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب حامدا ومصليا ومسلما

In principle, insurance policies, including life insurance, are generally considered impermissible due to the involvement of two prohibited elements: interest and gambling.  

However, if someone unknowingly bought a policy and paid premiums, they may only recover their paid premiums, not the excess payment from the insurance company.  

Therefore, the deceased's heirs will only inherit the paid premiums, and the remaining amount must be given to charity as sadaqah.

And Allāh Ta’āla Knows Best

Answered by
Maulana Ahmad Amin
Approved by
Mufti Husain Ahmad Madani

References

وسمى القمار قماراً لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه، وهو حرام بالنص  

(رد المحتار: ٤٠٣/٦، كتاب الحظر والاباحة، سعيد)

الربا هو فضل خال عن عوض بمعيار شرعى شرط لأحد المتعاقدين في المعاوضة

(رد المحتار: ٥/ ١٦٨، سعيد)

الفضل المشروط فى القرض ربا محرم لا يجوز للمسلم من أخيه المسلم أبداً لإجماع المجتهدين على حرمته

(اعلاء السنن : ٥١٨/١٤ ، ادارة القرآن)

الربا هو القرض على أن يؤدى إليه أكثر وأفضل مما أخذ  

(حجة الله البالغة : ۲۸۲/۲ ، قدیمی)

الربا هو في اللغة : الزيادة ، وفي الشرع : هو فضل خال عن عوض شرط لأحد

العاقدين. التعريفات للجرجاني، ص ۱۱۲))

لائف انشورنس اور رٹائرمنٹ پالیسی جس میں رقم کے عوض رقم ملتی ہے اور ساتھ میں اضافی رقم بھی ملتی ہے یہ سودی معاملہ ہے اور یہ نا جائز ہے، اس سے اجتناب کرنا لازم اور ضروری ہے، لیکن اگر غلطی سے یا جہالت یا فسق و فجور کی وجہ سے کسی نے ایسا عقد کر لیا تھا تو ادا کردہ رقم سے زائد بلانیت ثواب صدقہ کر دیا جائے۔ پھر یہ ادا کردہ رقم میت کے انتقال کے بعد اس کے جمیع ورثاء میں شرعی طریقہ پر تقسیم کی جائیگی۔

(فتاوی دار العلوم زکریا: ٥/٤٥٨، زمزم)

زندگی کے بیمہ میں تین طریقے سے حرمت پائی جاتی ہے۔

1۔ اس میں جمع شدہ رقم پر بطور سود زائد رقم ملتی ہے اس لیے حقیقۃ رہا اور سود میں داخل ہے۔  

2۔ جیون بیمہ   اپنی صورت و شکل کے اعتبار سے قمار او جوا ہےاس لیے کہ طالب بیمہ کا کب انتقال ہو جائیگا اور کتنی زائد رقم ملے گی اور اگر کسی مجبوری سے رقم جمع کر نے کا سلسلہ بند ہو جائے تو  پچھلی جمع شده ساری رقم سوخت ہو جاتی ہے اور یہ سب امور از قبیل تعلیق الملک علی الخطر ہے جس کو شریعت میں قمار اور جوا کہا جاتا ہے۔

3۔ انسان کی جان اور اعضاء اشیاء متقومہ میں سے نہیں ہیں اور شئی غیر متقوم کا کوئی عوض نہیں ہوا کرتا ہے اوراگر بالفرض عوض مقرر کیا جاۓ تو وہ عوض نہیں ہوتا بلکہ صورۃ رشوت ہوتی ہے اور رشوت بھی بحکم خبر حرام اور باعث عذاب ہے۔ لہذا ان وجوہ حرمت کی بنا پر جیون بیمہ قطعی ناجائز اور حرام ہے اور اس کے لیے اسلامی شریعت میں کوئی وجہ جواز نہیں ہے۔  

(جدید معاشی مسائل :ص ۹۳)

(بحوالہ امداد الفتاوی: ۱٦۱/۳)

(فتاوی رحیمیہ:۲۰۰/۲)

(فتاوی محمودیہ: ۳۰۸/٦)

(کفایت المفتی : ۷٦/۸)

(آپ کے مسائل اور ان کا حل : ۲۵۵/٦)

(جدید فقہی مسائل: ۲٦۰/۱)

نظام الفتاوی: ۱۹۲/۱

For your questions

Have a question that needs a clear, sourced answer?

Submit your question privately. Our team reviews each submission and responds with a researched answer, citing the references used.