Salah

Masah on Boots and Praying in Them

Answered
October 23, 2023
The Question

Is it permissible to do masah on rain boots, construction boots, and winter boots? Would it be permissible to pray salah in them as well?

The Answer
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب حامدا ومصليا ومسلما

In principle, it is permissible to perform masah over rain boots, construction boots, and winter boots, provided that they were worn after completing wudhu and that water does not seep through them easily.

Furthermore, it would also be permissible to pray salah in them as long as the foot has direct contact with that part of the boot that is touching the ground (while performing sajdah). However, if no part of the foot has direct contact with the boot that is touching the ground, or the boots have impurity (najasah) on them, the salah would not be valid.

And Allāh Ta’āla Knows Best

Answered by
Maulana Ahmad Amin
Approved by
Mufti Husain Ahmad Madani

References

شرط مسحه ثلاثة أمور الأول كونه ساتر القدم مع الكعب والثاني كونه مشغولا بالرجل ولا يضر رؤية رجله من أعلاه والثالث كونه مما يمكن متابعة المشي المعتاد فيه فرسخا فأكثر... أو جوربيه الثخينين بحيث يمشي فرسخا ويثبت على الساق بنفسه ولا يري ما تحته ولا يشف إلا أن ينفذ إلى الخف قدر الغرض

(رد المحتار: ١/٤٤٠، دار الكتب العلمية)

(الفتاوي الهندية: ١/٣٦، دار الكتب العلمية)

وأما المسح على الجوربين فإن كانا رقيقين يشفان الماء لا يجوز المسح عليهما بالإجماع وإن كانا ثخينين لا يجوز عند أبي حنيفة وعند أبي يوسف ومحمد يجوز وروي عن أبي حنيفة أنه رجع إلى قولهما  

(بدائع الصنائع: ١/٨٣، دار إحياء التراث)

ويمسح على الثخين الذي ليس مجلدا ولا منعلا بشرط أن يستمسك على الساق بلا ربط ولا يري ما تحته وعليه الفتوي

(الفتاوي الهندية: ١/٣٦، دار الكتب العلمية)

(تبيين الحقائق: ١/١٥٢، دار الكتب العلمية)

(شرح مجمع البحرين: ١/٣١٦، دار الفلاح)

أن يكون الخف مما يمكن قطع السفر به وتتابع المشي عليه ويستر الكعبين وستر ما فوقهما ليس بشرط هكذا في المحيط، حتى لو لبس خفا لا ساق له يجوز المسح ان كان الكعب مستورا

الفتاوي الهندية ١/٣٦، دار الكتب العلمية

الفتاوي التاتارخانية ١/٤٠٤، زكريا بكدبود

الخف ما يستر الكعب كله او يكون الظاهر منه اقل من ثلاث اصابع الرجل أصغرها  

شرح وقاية ١/٤٦٤، قديمي كتب خانه

اما المسح على الجوارب فلا يخلو... اما ان كان ثخينا منعلا ففي هذا الوجه يجوز المسح بلا خلاف والمراد من الثخين ان يستمسك على الساق من غير ان يشده شيء ولا يسقط فأما أذا كان لا يستمسك ويسترخي فهذا ليس بثخين فلا يجوز المسح عليه واما إذا كان ثخينا غير منعل لا يجوز المسح عليه عند ابي حنيفة رحمه الله وعندهما يجوز وفي النصاب وعليه الفتوي

الفتاوي التاتارخانية ١/٤٠٦، زكريا بكدبود

شرح وقاية ١/٤٦٧،٤٦٩، قديمي كتب خانه

تبيين الحقائق ١/١٥٢، دار الكتب العلمية

البحر الرائق ١/٣١٣، دار الكتب العلمية

قال في البزازية والمراد بوضع القدم هنا وضع الاصابع او جزء من القدم وان وضع أصبعا واحدة أو ظهر القدم بلا اصبع، إن وضع مع ذلك إحدى قدميه صح والا لا

رد المحتار ٢/٢٠٥، دار الكتب العلمية

ولو سجد ولم يضع قدميه على الأرض لا يجوز ولو وضع إحداهما جاز مع الكراهة ووضع القدم بوضع أصابعه وإن وضع أصبعا واحدة فلو وضع ظهر القدم دون الأصابع.. تجوز صلاته

(الفتاوي الهندية: ١/٧٨، دار الكتب العلمية)

ومنها السجود بجبهته وقدميه (يجب إسقاطه لأنه يكفي وضع أصبع واحدة منهما) شرط (بشرط وضع باطن الأصبع لا رأسها  

(حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ٢/١٢٢، دار الكتب العلمية)

ووضع القدمين على الأرض حالة السجود فرض، فان وضع احداهما دون الأخرى لا يجوز وفي الخانية ولا يسجد رافعا إحدى قدميه على الأرض    

 الفتاوي التاتارخانية ٢/١٢٦، زكريا بكدبود

وإذا سجد ورفع اصابع رجليه عن الأرض لا يجوز كذا ذكر الكرخي رحمه الله والجصاص في كتابه، وفي العتابية هذا إذا لم يصب اصابعه الأرض عند وضع الرأس اصلا

الفتاوي التاتارخانية ٢/١٧٨، زكريا بكدبود

وصلوته فيهما اي في النعل والخف طاهرين أفضل مخالفة لليهود، تاتارخانية. وفي الحديث صلوا في نعالكم ولا تشبهوا باليهود... وأخذ منه جمع من الحنابلة انه سنة ولو كان يمشي بها في الشوارع لان النبي وصحبه كانوا يمشون بها في طرق المدينة ثم يصلون فيها. قلت لكن إذا خشي تلويث فرش المسجد بها ينبغي عدمه وان كانت طاهرة. واما المسجد النبوي فقد كان مفروشا بالحصا في زمنه بخلافه في زماننا، ولعل ذلك محمل ما في عمدة المفتي من أن دخول المسجد متنعلا من سوء الادب

رد المحتار٢/٤٢٩، دار الكتب العلمية

وروي المعلى عن محمد أنه قال الروثة لا تمنع جواز الصلاة وإن كان كثيرا فاحشا... وكان الشيخ الحلواني يقول: البلوي إنما تكون في النعال والنعال مما يمكن خلعها وقد اوتاد الناس خلع النعل وليس فيه كثير ضرورة والصلاة غير النعل احمد فالكثير الفاحش فيه يمنع جواز الصلاة  

المحيط البرهاني ١/٣٦٤، ادارة القرآن

قال في التجنيس: وينبغي لمن أراد أن يدخل المسجد ان يتعاهد النعل والخف عن النجاسة ثم يدخل فيه احترازا عن تلويث المسجد. وقد قيل: دخول المسجد متنعلا من سوء الأدب

(البحر الرائق: ١/٦١، دار الكتب العلمية)

سجده میں پیروں کی کسی انگلی کا زمین سے لگنا ضروری ہے، اگر سجدہ میں دونوں پیر زمین سے اس طرح اوپر اٹھ جائیں کہ دونوں میں سے کسی پیر کی انگلی کا کوئ حصہ زمین سے نہیں لگا اور تین تسبیح کے بقدریہی کیفیت رہی تو ایسی صورت میں نماز درست نہ ہوگی، اور اگر انگلی زمین سے بلا عذر اٹھ جانے کے بعد فورا زمین پر ٹیک دی جائیں تو یہ حرکت اگرچہ مکروھ ہے لیکن پھر بھی نماز ہوجاۓگی-

(کتاب النوازل: ٤/١٤٦، دارالاشاعت)

قول وجوب راجح ہے، دونوں پاؤں میں سے کسی ایک کا کوئ جزء بقدر تسبیحہ کافی ہے، اگر اتنی مقداربھی نہیں رکھا تو ترک واجب کی وجہ سے نماز واجب الاعادہ ہوگی، واضح رہے کہ ظہر قدم یا صرف ایک قدم کو زمین پر بگیر عذر رکھنے سے واجب تو اداہوجاۓ گا مگر مکروہ ہے اس لۓ کہ دونوں پاؤں زمین پر رکھنا اور انگلیوں کو قبلہ رخ رکھنا سنت مؤکدہ ہے

(احسن الفتاوی: ٣/٣٩٨، ایچ ایم سعید)

سجدہ میں فقط پیر کا انگوٹھا زمین پر رکھنا رہنے سے نماز ہوجاۓگی مگر صرف انگوٹھا رکھنے پر اکتفا کرنا اور دوسری انگلیوں کو اٹھاۓ رکھنا خلاف سنت ہے اس لۓ مکروہ ہے

(فتاوی رحیمیہ: ٥/٣٠، دارالاشاعت)

سجدہ کی حالت مین دونوں پاؤں زمین سے اٹھا دینے سے نماز نہیں ہوتی

(کفایت المفتی: ٤/٤٤٢، جامعه فاروقيه)

جوتوں میں نماز پڑھنا جائز ہے بشرطیکہ وہ پاک ہو، اس میں چند امور قابل لحاظ ہے:

انگلیوں کا زمین سے لگنا ضروری ہے۔۔۔ اگر جوتے بند اور سخت ہوں جو انگلیوں کے زمین پر لگنے سے مانع ہوں تو ان کو پہن کر نماز پڑھنا محل اشکال ہے- آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں مسجد کا فرش پختہ نہیں تھا۔۔ جوتے سمیت اس فرش پر چلتے تھے اور اس کو عرف میں بے ادبی نہیں سمجھا جاتا تها - الخ

(آپ کے مسائل اور ان کا حل: ٣/٣٢٩، مكتبه لدهيانوي)

اگر تین تسبیح سے کم مقدارتک دونوں پیر بالکل زمین سے اٹھے رہے پھر دونوں پیر یا ایک پیرکی انگلی رکھ لی تو نماز درست ہو جاۓگی، اگر تین تسبیح کی مقدار پیر بالکل اٹھے رہے تو نماز درست نہیں ہوگی- والله اعلم

(فتاوی محمودیہ: ١١/٧٦، دار الاشاعت)

ایسی جرابوں پر مسح کرنا جائز ہے جو خوب موٹی ہو اور کسی چیز سے باندھیے بغیر تین چار می ان کو پہن کر چل سکتا ہو-

(آپ کے مسائل اور ان کا حل: ٣/١٣٢، مكتبه لدهيانوي)

خفين (چمڑے کے موزوں) پر مسح صحیح ہونے کی دس شرائط ہیں: پورے قدم کو چھپا لے، قدم کی ہیئت پر بنے ہو اور پیر سے ملے ہوۓ ہوں، ایک فرسخ میدل چل سکتا ہو اس کو پہن کر- بغیر باندھے پیروں پر رک سکیں، اتنے دبیز ہوں کہ پانی کو پیروں تک نہ پہنچنے دیں، اتنی پٹھن نہ ہو جو مسح سے مانع ہو، طہارت کاملہ پر پہنے جاۓ، تیمم سے طہارت حاصل نہ ہوا ہو، مسح کرنے والا جنبی نہ ہو، تین اصبع اصغر کے بقدر اس کے قدم کا اوپری حصہ باقی ہو اگر پیر کٹا ہوا شخص مسح کرنا چاہے

(کتاب النوازل: ٣/١٣١، دار الاشاعت)

جو موزے اتنے مضبوط اور دبیز ہوں کہ ان میں پانی نہ چھنتا ہو اور ان کو پہن کر بغیر جوتہ  پہنے آپ کي تحریر کے مطابق چار میل چلنے میں نہ پھٹیں ان پر مسح کی اجازت ہے  

(فتاوی محمودیہ: ٨/٢١٠، دارالاشاعت)

(فتاوي رحيميه: ٤/٦١، دارالاشاعت)

(فتاوی مفتی محمود: ١/٤٩٩، جامعه ملتان)

اگر ایسے بوٹ پہنے ہوں کہ جن میں ٹخنے چھپ جائیں اور مضبوطی بھی اس درجہ ہو کہ ان میں پھٹن نہ ہو تو کیا ان پر مسح کرنا جائز ہے۔ واضح رہے کہ ان میں پیدل چلنا بھی تین میل سے زائد ہوسکتا ہے؟

جواب: ایسے بوٹوں میں جواز مسح کی تمام شرطیں پائ جاتی ہیں لہذا ان پر مسح کرنا جائز ہے-

(فتاوی حقانیہ: ٢/٥٥٥، جامعه حقانيه)

اگر اونی یا سوتی موزے بھی اس قدر دبیز ہو اور موٹے ہوں کہ ان پر سے پانی نہ چھنے تو ان پر بھی مسح کرنا جائز ہے

(کفایت المفتی: ٣/٤٠٩، ادارة الفاروق كراچی)

جوتوں پر مسح کرنا تو کسی بھی امام کے مذہ میں جائز نہیں

(فتاوی عثمانی: ١/٣٤٦، معارف القرآن کراچی)

انگریزی فل بوٹ جوتے پر مسح جائز ہے جبکہ ٹخنے اس سے چھپے ہوں اور اس کا چاک تسموں سے اس طرح بندھا ہوکہ پاؤں کی اس قدع کھال نظرنہ آۓ جو مسح کے مانع ہو البتہ چونکہ یہ جوتے کے طور پر استعمال ہوتا ہے اس میں نماز پڑھنا بے ادبی ہے اور نجس ہونے کا بھی احتمال رہتا ہے اس لۓ بلا ضرورت اس سے نماز نہیں پڑھنی چاہئے موزوں کے نیچے کپڑے وغیرہ کی جراب پہن لینا موزوں پر مسح کے جواز کو مانع نہیں، یہی صحیح ہے

عمدۃ الفقہ ١/٢٤٨، زوار اكيدمي ببليكيشنز

امداد الفتاوي ١/٤٣، مكتبه دارالعلوم كراتشي

مسح بریں پاپوش قابل اعتراض نیست لیکن نماز دورے قابل اعتراض است یکے ازوجہ نجاست، دوم ازوجہ وضع اصابع برزمین نہ حقیقہ ونہ حکما از جہت ارتفاع و عدم تابع شدہ پیش طرف وے کہ مضبوط و سخت باشد

فتاوی فریدیہ ٢/١٠٢، حسين احمد صديق

For your questions

Have a question that needs a clear, sourced answer?

Submit your question privately. Our team reviews each submission and responds with a researched answer, citing the references used.