Salah

How To Pray Salah While Traveling By Air

Answered
October 26, 2023
The Question

How should a person perform a fardh salah while on a plane?

The Answer
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب حامدا ومصليا ومسلما

The procedure of praying salah on a plane is the same as praying salah on land. If a person is unable to pray standing due to a lack of space or is not permitted to stand and pray on the plane, he may perform the salah while sitting. However, once the plane has landed, or permission is given to leave the aircraft during a stop, he should repeat the salah on the ground. Praying with tayammum when water is available, delaying and discarding the salah without a valid excuse, or performing the fardh salah while sitting without a valid reason will result in the salah being invalid.

And Allāh Ta’āla Knows Best

Answered by
Maulana Zubair Ahmad
Approved by
Mufti Husain Ahmad Madani

References

صلى الفرض في فلك جار قاعدا بلا عذر صح لغلبة العجز واساء وقالا لا يصح الا بعذر وهو الاظهر

قال في حاشيته: واساء أشار الي ان القيام أفضل لانه ابعد عن شبهة الخلاف والخروج أفضل ان امكنه لانه أمكن لقلبه
وهو الاظهر: وفي الحلية بعد سوق الأدلة والاظهر ان قولهما اشبه فلا وفي الحاوي القدسي: وبه نآخذ

رد المحتار ٢ /٥٧٣، دار الكتب العلمية
أما الصلاة في السفينة فالمستحب ان يخرج من السفينة للفريضة إذا قدر عليه كذا في محيط السرخسي. وإذا صلي قاعدا في السفينة وهي تجري مع القدرة علي القيام تجوز مع الكراهة عند ابي حنيفة رحمه الله تعالي وعندهما لا تجوز. ولو كانت السفينة مشدودة لا تجري لا تجوز اجماعا كذا في التهذيب

الفتاوي الهندية ١ /١٥٨، دار الكتب العلمية

قال محمد إذا استطاع الرجل الخروج من السفينة للصلاة فأحب له ان يخرج  ويصلي علي الارض وان صلي فيها جاز فان صلي فيها قاعدا وهو يقدر علي القيام او الخروج اجزاه عند ا بي حنيفة استحسانا وفي الطحاوي وقد اساء ولكن الافضل ان يقوم او يخرج وعندهما  لا يجزيه قياسا .

منهم من قال على قول ابي حنيفة انما يصلي قاعدا إذا كانت جارية فاما إذا كانت ساكنة لم تجز فيها قاعدا.. وان كانت موثقة في لجة البحر وهي تلعب اي تضطرب قيل يحتمل وجهين والاصح ان كانت الريح تحركها تحريكا شديدا فهي كالسائرة وان كانت حركتها قليلا فهي كالواقفة وكذا ذكره التمرتاشي. فلا يجوز للمسافر ان يصلي فيها بالايماء سواء كانت الصلاة مكتوبة او نافلة لانه يمكنه ان يسجد فيها
فلا يعذر في تركه والايماء انما شرع عند العجز وهو قادر فلا يجوز له الإيماء

الفتاوي التاتارخانية ٢ /٥٤١-٥٤٠، زكريا

ولو صلي في فلك قاعدا بلا عذر صح يعني صلي فرضا قاعدا بلا عذر صحت عند ا بي حنيفة وقد اساء كما في البدائع وقالا لا يجزئه الا من علة لان القيام مقدور عليه فلا يترك وله ان الغالب فيها دوران الراس وهو كالمحقق الآن ان القيام افضل لانه ابعد عن شبهة الخلاف والخر وج افضل ان امكنه لانه أمكن لقلبه

واجمعو انه لو كان بحالة يدور راسه ان قام تجوز الصلاة فيها قاعدا واراد بالصلاة قاعدا ان تكون بركوع وسجود لانها لو كانت بالايماء لا تجوز اتفاقا لانه لا عذر.

البحر الرائق ٢ /٢٠٦، دار الكتب العلمية

تبيين الحقائق ١ /٤٩٥، دار الكتب العلمية

وينبغي للمصلي فيها ان يتوجه إلى القبلة كيفما دارت السفينة لان التوجه الي القبلة فرض بالنص عند القدرة وهذا قادر بخلاف راكب الدابة لانه عاجز عن استقبالها. لان القيام مقدور عليه فلا يجوز تركه: قيد بقوله قاعدا لانه لو صلي مسافر فيها بالإيماء لا يجوز سواء كانت                   مكتوبة أو نافلة لأنه يمكنه أن يسجد فيها فلا يعذر والإيماءشرع عند العجز

تبيين الحقائق١ /٤٩٥، دار الكتب العلمية

فعلم منه ان العذر ان كان من قبل الله تعالى لا تجب الاعادة وان كان من قبل العبد وجبت الاعادة

البحر الرائق ١ /٢٤٨، دار الكتب العلمية

ٹرین وغیرہ میں حتی الامکان کھڑے ہو کر قبلہ رو نماز پڑھنا فرض ہے اور اگر آدمی کوشش کرے تو بھیڑ کے باوجود کسی نہ کسی طرح نماز پڑھنے کی شکل نکل ہی آتی ہو لیکن بالفرض اگر حد سے زیاده بھیڑ کی وجہ سے ٹرین ميں کھڑے ہو کر نماز پڑھنا دشوار ہو جائے اور اسٹیشن پر اتر کر نماز پڑھنے کی گنجائش بھی نہ ہو تو ایسی صورت ميں بیٹھے بیٹھے یا اشاره سے نماز پڑھنا لازم ہے اور بعد ميں اس نماز کا اعاده کرنا بھی ضوری ہوگا-

ہوائی ب جہاز ميں غیر معذور کے لئے  کھڑے ہو کر قبلہ رو ہو کر نماز فرض پڑھنا لازم ہے، اگر بیٹھے بیٹھے یا قصدا قبلہ کے بالکل مخالف نماز ادا کرے گا تو بعد ميں نماز دہرانا لازم ہوگا-

کتاب النوازل ٥ /٤٦٦،٤٧٠، دار الاشاعت

ریل کشتی بحری جہاز اور ہوائے  جہاز جیسی سواریوں ميں نماز فرض یا نفل پڑھتے وقت قبلہ کی طرف رخ کرنا ضروری ہے -

موجوده دور میں جہاز میں سمت قبلہ متعين کرنا کوئی مشکل نہيں ہے اس بارے میں عملہ سے بھی معلومات کی جاسکتی ہے اور یہ ممکن نہ ہو تو خود غور و فکر کر کے جس جانب قلبی رجحان ہو اس سمت رخ کرکے نماز پڑھ لی جائے اور ہر جہاز کے پیچھے اور درمیانی حصہ ميں کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کی گنجائش ہے اس لئے  جو شخص کھڑے ہوکر نماز پڑھنے پر قادر ہو اس کے لئے  جہاز ميں بیٹھ کر نماز پڑھنا درست نہ ہوگا البتہ کوئی شخص کھڑے ہونے سے معذور ہو یا اس قدر حرکت کرنے والا ہو کہ کھڑا رہنا مشکل ہو تو ایسی صورت ميں بیٹھ کر نماز پڑھنے کی گنجائش ہوگی -

کتاب النوازل ٣ /٤٤١، دار الاشاعت

ہوائی جہاز میں نماز فرض ادا کرليں قضا نہ کریں پھر زمین پر اگر اعاده کرليں تو اس ميں ان علماء کے رائے  بھی محفوظ رہےگی وہ ہوائی  جہاز مي نماز کو جائز نہيں فرماتے  -

فتاوی محمودیه ٧ /٥٣٣، جامعه فاروقيه

ہوائی جہاز میں نماز پڑھتے وقت استقبال قبلہ اور قیام ضروری ہے، ہاں اگر جگہ نہیں ہے یا کسی عارض کی وجہ سے کھڑے ہو کر۔ ماز پڑھنا دشوار ہو تو بیٹھ کر رکوع و سجدہ کے ساتھ پڑھے البتہ سیٹ پر بیٹھ کر نماز پڑھنا درست نہیں ہے۔ اکثر علماء نے لکھا ہے کہ اس صورت میں اعادہ احوط ہے۔

اگر حرکت وغیرہ کسی عارض کیوجہ سے کھڑے ہوکر نماز پڑھنا دشوار ہو تو بیٹھ کر رکوع و سجدہ کے ساتھ پڑھینگے اور سمت قبلہ کمپاس کے ذریعہ معلوم کریں گے۔ اگر کمپاس نہ ہو تو تحری کر کے جس رخ پر قبلہ پائے اس پر نماز پڑھینگے غرض جیسا عمل چلتی ریل میں کرتے اس میں بھی کریں گے اور نماز قضا نہ کریں گے۔

فتاوي دار العلوم زكريا ٢ / ١٣٥،١٣٧، زمزم

ہوائی جہاز میں نماز کا وقت آئے تو نماز قضا نہ کرے پڑھلیوے اور بعد میں اعادہ کر لیوے واللہ اعلم

فتاوی رحیمیه ٥ /٢٩، دار الاشاعت

ریل گاری اور بس میں کھڑے ہو کر نماز پڑھیں گے، گرنے کا خطرہ ہو تو کسی چیز سے ٹیک لگا کریا ہاتھ سے کوئی چیز پکڑ کر کھڑے ہوں، اگر قبلہ رخ ہونے کی گنجائش نہ ہوتو دو نشستوں کے درمیان قبلہ رخ کھڑا ہوکر قیام اور رکوع کا فرض ادا کرے اور سجدہ کے لئے پچھلی نشست پر کسی طرح بیٹھ جائے یعنی پاؐں نیچے ہی رہیں اور سامنے کی نشست پر سجدہ کرے۔ اگر کسی وجہ سے قیام یا استقبال قبلہ کا فرض کسی طرح بھی ادا نہ ہوسکے تو اس وقت جیسے بھی ممکن ہو نماز پڑھ لے مگر بعد میں ایسی نماز کا اعادہ کرے۔

بوقت پرواز ہوئی جہاز میں نماز کا۔ کم چلتے ہوئی بحری جہاز کی طرح ہے، یعنی اس میں بوجہ عذر نماز جائز ہے۔۔ اگر بحری جہاز کا عملہ نماز کے لئے اترنے کی اجازت نہ دے تو جہاز میں نماز پڑھ لے مگر بعد میں اعادہ واجب ہے۔

احسن الفتاوی ٤ /٨٧-٨٩، سعيد

For your questions

Have a question that needs a clear, sourced answer?

Submit your question privately. Our team reviews each submission and responds with a researched answer, citing the references used.