General rulings on stocks.

Rulings on Stocks
What are stocks? What is it's fiqhi takyeef? Are they permissible to buy? If so, what are the conditions and the basis for them?
الجواب حامدا ومصليا ومسلما
Stocks are a type of security that gives stockholders a share of ownership in a company. Stocks also are called “equities.” Keeping this in mind, there is a difference of opinion whether one may buy stocks if the company have transactions and investments that include giving or taking interest.
The following conditions below have been taken from a source which is the translated conditions regarding stocks tobe permissible by Mufti Muhammad Taqi Uthmani Hafidhahuallah1:
1. The main business of the company is not in violation of Shariah. Therefore, it is not permissible to acquire the shares of the companies providing financial services on interest, like conventional banks, insurance companies, or the companies involved in some other business not approved by the Shariah, such as the companies manufacturing, selling or offering liquors, pork, haram meat, or involved in gambling, night club activities etc.
2. If the main business of the companies is halal, like automobiles, textile, etc. but they deposit their surplus amounts in an interest-bearing account or borrow money on interest, the shareholder must express his disapproval against such dealings, preferably by raising his voice against such activities in the annual general meeting of the company if one has the opportunity/ability.
3. If some income from interest-bearing accounts is included in the income of the company, the proportion of such income should be given in charity and must not be retained. For example, if 4% of the whole income of a company is accrued from interest-bearing deposits, then 4% of the dividend should be given in charity.
4. The shares of a company can be purchased only if the company owns some non-liquid assets. If all the assets of a company are in liquid form, i.e., in the form of money, then that cannot be purchased or sold, except on par value, because in this case the share represents money only and the money cannot be traded in except at par value.
In addition to the second condition, the investment in stocks will only be permissible if the amount of Sharia non-compliant revenue is negligible. Many scholars have agreed that 5% is negligible.
Furthermore, regarding condition three, the interest-bearing debt to market ratio should not exceed 33%. Also, interest-bearing securities to market cap ratio should not exceed 33%.
In conclusion, it will be permissible to buy stocks with the consideration of the above conditions.
And Allah Ta’ala Knows Best
References
1
حصص تو کبھی براہ رأست کمپنی سے خریدے جاتے ہیں، کبھی ایجنسیوں کےواسطے لئے جاتے اور کبھی شخصی طور پر لوگ اپنا خرید کیا ہوا حصہ کسی اور کے ہاتھ فروخت کرتے ہیں، یہ تینوں صورتیں جائز اور درست ہیں- ان تمام صورتوں میں شیئرز کے مالکان یا تو خود شیئرز پر قبضہ کرچکے ہیں یا کمپنی کے مینجر اور منتظمین نے وکالۃ اس کی طرف سے شیئرز کی أصل ملکیت پر قبضہ کیا ہے
پھر یہ خرید وفروخت اس روپیے کی خرید وفروخت نہیں ہے، جس کی دستاویز خریداران حصص کو حاصل ہوئی ہے بلکہ یہ سامان کا وثیقہ اور اس سامان کی خرید و فروخت ہے جس کی ابتدائی قیمت کمپنی نے مقررکی تھی تواب کسی قدر فرق کے ساتھ بھی فروخت کیاجائے اور أصل قیمت میں کتنی ہی کمی بیشی کے ساتھ بيچا جائے سود کا تححق نہیں
اور جب اصولی طور پر شیئرز کی خرید وفروخت جائز ٹھہری تو اب حکم کامدار كمپنی کی نوعیت پر ہوگا، اگر کمپنی جائز کاروبار کرتی ہو تو اس کا شیئر خریدناجائز ہوگا، کمپنی کے أصل مالکان مسلم ہوں یا غیر مسلم، اور اگر وہ نا جائز اور غیر شرعی کارو بار کرتی ہو جیسے شراب سازی مجسمہ سازی وغیرہ تو اس کے شیئر ز خریدناجائز نہ ہوگا۔
چنانچہ شیئرز پر حقیقۃ قبضہ کے بغیر یا یقینی طور پر ملکیت ثابت ہویےبغیر انہیں آگے بیچنا جائز نہیں- البیع المضاف الی المستقبل بھی ناجائز ہے-بیع مالا یملک بھی ناجائز ہے
شیئرز ہولڈر اگر شرکت ختم کرنا چاہے اور کمپنی سے نکلنا چاہے تو کسی دوسرے کو فروخت کئے بغیر نکل نہیں سکتا ہے لیکن کمپنی کا پہلے سے یہ معاہدہ ہوتا ہے اور معاہدہ کی پابندی ضروری ہے اس وجہ سے اس پر عمل کرنے کی گنجائش ہے- اگر کمپنی سودی لین دین میں ملوث ہو تواس کے سالانہ اجلاس میں آواز اٹھائی جائے- نفع کا جتنا حصہ سودی ڈپازٹ سے حاصل ہوا ہو اس کو صدقہ کردیا جائے
کمپنی کے قواعد میں یہ باتشامل ہوتی ہے کمپنی مختلف بینکوں سے سودی قرضہ حاصل کریگی- اگر یہ بات صحیح ہو تو یہ ناجائز ہے اس کی وجہ سے سب شرکاء سود لینے کے گناہ میں ملوث ہوں گے- چونکہ معاملہ معمولی اور قلیل مقدار میں ہوتا ہے اور بذات خود مقصود نہیں ہوتا، نیز بسا اوقات بڑی کپنیوں کو حکومتی قوانین کی بنا پر دفع ضرر کے لئے مجبورا لینا پڑتا ہے لہذا اس کی گنجائش ہوسکتی ہے-پھر غیر مسلموں کیکمپنی ہو تو اس میں مزید تخفیف ہوگی- امداد الفتاوی میں بحث فرمائی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ غالب کا اعتبار کرتے ہوئے گنجائش ہے- البتہ کمپنی کی آمدنی میں جو معمولی مقدار سود کی ہو تو مالکان حصص کو حاصل شدہ منافع میں سے بقدر رقم صدقہ کردینا چاہئے
(فتاوي دارالعلوم زكريا: ٥/٢٢٥-٢٢٨، زمزم)
یہ شیئرز در حقیقت کسی کمپنی کے اثاثوں میں شیئرز ہولڈر کی ملکیت کے ایک متناسب حصے کی نمائندگی کرتا ہے-مثلا اگر میں کسی کمپنی کا شیر خریدتا ہوں تو وہ سرٹیفیکٹ جو ایک کاغذ ہے ، وہ اس کمپنی میں میری ملکیت کی نمائندگی کرتا ہے- جب کوئی کمپنی وجود میں آتی ہے تو پہلے وہ اپنا لائحہ عمل اور خاکہ شائع کرتی ہے اور اپنے شیئرز جاری کرتی ہے، اور شیئرز جاری کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ کمپنی میں حصہ دار بننے کی دعوت دے رہی ہے- اگرچہ عرف عام میں یہ کہا جاتا ہے کہ اس نے شیئرز خریدے لیکن شرعیاعتبار سے وہ خریدوفروخت نہیں ہے- بلکہ جب میں نے پیسے دے کر وہ شیئرز حاصل کئے تواس کے نتیجے میں مجھے کوئی سامان نہیں مل رہا ہے- اسلئے کہ کمپنی نے ابھی تک کا مشروع نہیں کیا، اور نہ ہی اب تک کمپنی کے املاک اور اثاثے وجود میں آئے ہیں- کمپنی تو اب بن رہی ہے۔۔۔ تو گویا کہ شرکت کا معاملہ کر رہا ہے- یہ ہے شیئرز کی حقیقت-عام طریق کار یہ ہے کہ وہ شیئرز ہولڈر وقتا فوقتا اپنے شیئرز اسٹاک مارکیٹ میں بیچتےرہتے ہیں
حرام کاروبار میں ملوث نہ ہو، کمپنی کے تمام اثاثے اور املاک سیال اثاثوں یعنی نقد رقم کی شکل میں نہ ہو بلکہ اس کمپنی نے کچھ فکسڈ اثاثے حاصل کر لئے ہوں، اگر نقد رقم کی شکل میں ہو تو اس صورت میں اس کمپنی کے شیئرز کو فیس ویلو سےکم یا زیادہ میں فروخت کرنا جائز نہیں بلکہ برابر سرابر خریدنا ضروری ہے- لیکن اگرکمپنی کچھ اثاثے منجمد کی شکل میں ہیں تو اس صورت میں دس روپے کے اس شیر کو کمی یا زیادتی پر فروخت کرنا جائز ہے
علماء کی دوسری جماعت کا یہ کہنا ہے کہ اگرچہ ان کمپنیوں میں یہ خرابی پائی جاتی ہے، بنیادی کاروبار مجموعی طور پر حلال ہے تو دو شرطوں کے ساتھ اس کمپنی ے شیرز لینے کی گنجائش ہے- اول کہ یہ شیر ہولڈر سودی کاروبار کے خلاف آواز اٹھائے، اس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ سالانہ میٹینگ میں اٹھائے کہ ہم سودی لین دین کو درست نہیں سمجھتے، اس سے وہ انسان اپنی ذمہ داری پوری ادا کردیتا ہے-؎
جب منافع تقسیم ہو تو وہ انکم اسٹیٹمنٹ کے ذریعہ معلوم کرے کہ آمدنی کا کتنا فیصد سود ہے اسے صدقہ کرلے-؎
(فقهي مقالات: ١/١٤١-١٥٣، ميمن اسلامك ببلشرز)
حصص کی حقیقت یہ ہے کہ ایک کمپنی، اس کے کچھ حصے تو مالکان اپنے پاس رکھ لیتے ہیں، اور کچھ حصوں میں دوسروں کو شریک کرلیتے ہیں- جو لوگ ان حصوں کو خرید لیتے ہیں وہ اپنے حصوں کے تناسب سے کمپنی کی ملکیت میں شریک ہوجاتے ہیں اور کچھ لوگ اپنے حصوں کو فروخت کرکے اپنی ملکیت دوسروں کو منتقل کردیتے ہیں، اس لئے ان حصوں کی خرید وفروخت جائز ہے بشرطیکہ کمپنی کا کاروبار صحیح ہو- اور ان حصص پر کمپنی کیطرف سے ملنے والے منافع جائز ہے بشرطیکہ وہ کل منافع کو حصص پر تقسیم کرتے ہوں
اول: جب تک کمپنی نے کوئی مل یا کارخانہ نہیں لگایا، اس وقت تک حصص کی حیثیت نقد رقم کی ہے اور دس روپے کی رقم کو نو یا گیارہ روپے میں فروخت کرنا جائز نہیں یہ خالص سود ہے-
دوم: عام طورسے ایسی کمپنیاں سودی کاروبار کرتی ہیں جو گناہ ہے، اوراس گناہ میں تمام حصہ دار شریک ہوںگے
سوم: کمپنی کی شراکت اس وقت جائز ہے جبکہ اس کے معاملات صحیح ہوں، اگر کمپنی کا کوئی معاملہ خلاف شریعت ہوتا ہے اور حصہ داروں کو اس کا علم بھی ہے تو حصہ دار بھی گناہگار ہوںگے اور اس کمپنی میں شرکت کرنا جائز نہیں ہوگا
اگر کمپنی کا کاروبار شرعا جائز نہیں ہوگا تو اس کا منافع بھی حلال نہیں ہوگا، دوسری شرط یہ ہے کہ وہ کمپنی باقاعدہ حساب کرکے حاصل ہونے والے منافع کی تقسیم کرتی ہو، اگر أصل رقم کے فیصد کے حساب سے منافع مقرر کردیتی ہے تو یہ جائز نہیں بلکہ سود ہے
(آپ کے مسائل اور ان کا حل: ٧/١١٧-١٢٠، مكتبه لدهيانوي)
شیئرز مارکیٹ وہ جگہ ہے جہاں اس مارکیٹ میں اندراج شدہ کمپنیوں کےحصص کی خرید وفروخت ہوتی ہے۔۔۔ جب لوگ کمپنی کے حصے لے کر سرمایہ دے دیتے ہیں توحصہ دار کو کمپنی ایک سرٹیفیکٹ جاری کرتی ہے جو اس بات کی سند ہوتی ہے کہ اس شخص کا اس کمپنی میں اتنا حصہ ہے اس سرٹیفیکٹ کو اردو میں حصہ عربی میں سہم اور انگریزی میں شیئرز کہتے ہیں
کمپنی کا أصل کاروبار حلال ہو-بعض شریعہ ورڈوں نے ان کمپنیوں کے شیئرز میں بھی کاروبار سے روکا ہے جو کمپنیاں آلات حرب وضرب بناتی ہیں
کمپنی کا سودی قرض خواہ طویل مدتی یا قصیر مدتی اس کے اوسط بازار کی قیمت یا سرمایہ کے مقابلہ میں (علی وجہ الاختلافین) ٣٣ فیصد سے زائد نہ ہو
کمپنی کی حرام سرمایہ کاری ٣٣ فیصد سے زائد نہ ہو اس کی بازار کی قیمت یا سرمایہ کئ مقابلہ میں- الراجحی بورڈ نے اس معیار کو حذف کر دیا اور علت یہ بیان کی گئی کہ ان ضوابط کی بنیاد اجتہاد ہے جس میں ضرورت کے اعتبار سے نظر ثانی کی گنجائش ہے
کمپنی کا واجب الوصول دین اور نقود۔ ۳۳فیصد سے زائد نہ ہو- کمپنی کی حرام آمدنی کل آمدنی کے مقابلہ میں ٥ فیصد سے زائد نہ ہو- اس معیار میں بھی بورڈس کا اختلاف ہے، لیکن تمام لوگوں کا اتفاق ہے کہ شیئرز ہولڈر کا تمام حرام آمدنی سے خلاصی حاصل کرنا واجب ہے
اس قسم کی کمپنیوں کے شیئرزمیں معاملات کرنا حاجت کے ساتھ مقید ہے؛لہذا جب ایسی کمپنیاں وجود میں آجائیں جو سود سے احتراز کرتی ہوں، تو اب ضرورت پوریہوگئی؛ لہذا اُنہیں کمپنیوں پر اکتفاء کرنا لازم ہوگا
کمپنی کا سودی قرض خواہ وہ طویل مدتی ہو یا قصیر مدتی اس کے پورےسرمائے کے مقابلے میں ۲۵ فیصد سے زائد نہ ہو، اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہ سودی قرض حرام ہے، چاہے اس کی مقدار تھوڑی ہو یا زیادہ سود کی یہ شرح اس سے کم ہے جو کہ اس سے پہلے فیصلے میں تھا اور وہ مقدار ا یک تہائی تھي
(كتاب النوازل: ١١/١٨٢، دار الاشاعت)
بظاہر اس عقد کی حقیقت شرکت عنان ہے کیونکہ جو لوگ کمپنی قائم کرتے ہیں وہ دوسروں کو شریک کرنے کے وقت خود کو بھی کمپنی کا ایک حصہ دار قرار دیتے اور اپنی عمارات مملوکہ متعلقہ۔۔ کو نقد کیطرف محمول کرلیتے ہیں۔۔۔ البتہ اس صورت میں کمپنی قائم کرنے والوں کیطرف سے شرکت بالنفقہ نہ ہوگی بلکہ بالعروض ہوگی سو بعض ائمہ کے نزدیک یہ صورت جائز ہے- پس ابتلاۓ عام کی وجہ سے اس مسئلہ میں دیگر ائمہ کے قول پر فتوی دے کر شرکت مذکورہ کے جواز کا فتوی دیا جاتا ہے
وحاصله جواز بيع الحقوق الموجودة قبل القبض دون المعدومة پس یہ صورت بھی بیع حظوظ کے مشابہ ہے کیونکہ جو خریدار اپنا حصہ بیع کرتا ہے وہ معدوم یا غیر مملوک کی بیع نہیں کرتا
پس صورت مذکورہ میں مال مستفاد میں حرمت نہ ہوگی جب کہ کمپنی قائم کرنے والے کافر ہوں البتہ کفار کی کمپنیوں میں شرکت خود مکروہ ہیں جیسا مبسوط کے قول سے معلوم ہوا اگر مسلمانوں کی کمپنیاں بھی سودی لین دین کرتی ہو جیسے آجکل غالب یہی ہے تو کفار کی کپنیوں کی شرکت مسلم کمپنیوں کی شرت سے اہون ہوگی
علی ما ذکرنا من احکام الخلط قاعدة إذا اجتمع الحلال والحرام غلب الحرام ولكن صرح في الاشباه بانه خرجت عن هذه القاعدة عشرة... العاشرة قال في القنية من الكراهة غلب على ظنه ان أكثر بياعات اهل السوق لا تخلو عن الفساد فان كان الغالب هو الحرام تنزه عن شرائه ولكن مع هذا لو اشتراه يطيب له- قال الحموي ووجهه ان كون الغالب في السوق الحرام لا يستلزم كون المشتري حراما لجواز كونه من الحلال المغلوب والاصل الحل فلما ثبت خروج هذه المسائل عن القاعدة فلا اشكال والله اعلم-
(امداد الفتاوي: ٣/٤٩٤-٤٩٩، مكتبه دار العلوم كراتشي)
جائز تجارات اور حلال اشیائیں بنانے والی کمپنی کے شیر جو اکویٹی اور آرڈنری کے نام سے جانے جاتے ہیں خریدنا جائز ہے، اور سالانہ ملنے والا منافع بھی لینا جائز ہے اس لئے کہ کمپنی کرنے پر یہ منافع نہیں ملتا اور کم منافع لینے پر کم ملتا ہے اس لئے یہ نفع ہے سود نہیں ہے، البتہ کمپنی کے جو پریفرنس اور ڈینچر شیرز ہوتےہیں ان کی خرید وفروخت جائز نہیں ہے
اس لئے کہ شیرز رکھنا کمپنی میں حصہ دار بننے کے معنی میں ہے اور اسکے لئے یہ شرط ہے کہ جو کمپنی جائز تجارات اور حلال اشیاء بنانے والی ہواس کمپنیکے شیرز رکھنا جائز ہے اور جو کمپنی شراب بناتی ہو یا جوا کھیلتی ہو یا سودیکاروبار کرتی ہو اس کپمنی کے شیرز رکھنا یا اس کا ڈیوی ڈنڈ استعمال میں لیناناجائز اور حرام ہے-
کمپنی کو مالی فائدہ ہو یا کمپنی کی پیداواربڑھ جائے تو کمپنی کے شیرزکا بھاؤ بڑھ جاتا ہے۔۔۔اس لئے جب شیرکا بھاؤ زیادہ ہوجائے تو اسے نفع کے ساتھ بیچناجائز ہے- (ڈے ٹریڈینگ کرنا جائز ہے)
(فتاوی دینیہ: ٤/٢٢٣-٢٣٦، جامعه حسينيه)
آپ بھی کمپنی میں ہمارے ساتھ حصہ دار بن جائیں نفع و نقصان دونوں میں شریک نہیں، اگر نفع ہوگا تو نفع میں شرکت آپ کی ہوگی، اگر خدانخواستہ نقصان ہوا تو ہمارے ساتھ ساتھ آپ کو نقصان برداشت کرنا پڑے گا، یہ بات فائنس کمپنیوں سے ہوگی جو حکومت کی اجازت سے عمل میں آئی ہیں۔
(محمود الفتاوي: ٢/٤٢٧، مكتبة أنور)
کسی کمپنی کے شیئر ز ابتداء میں جاری ہو رہے ہوں اس وقت ان کو ایک شرط کے ساتھ لینا جائز ہے، وہ یہ کہ وہ کمپنی کوئی حرام کاروبار شروع نہ کر رہی ہو، اس لئے اگر کسی حرام کاروبار کے لئے وہ کمپنی قائم کی جا رہی ہے تو اس کمپنی کے شیئر ز لینا کسی حال میں بھی جائز نہیں۔
کمپنی جب مکمل طور پر قائم ہو چکی اور ایک مرتبہ اس کمپنی کے تمام شیئر سبسکرائب ہو گئے اس کے بعد جب اس کمپنی کے شیئرز کا اسٹاک مارکیٹ میں لین دین ہوگا وہ حقیقی معنی میں شیئرز کی خرید و فروخت ہے، اس لیے جو آدمی اسٹاک مارکیٹ سے شیئرز خریدنا چاہتا ہے اس کے لئے یہ سودا چار شرائط کے ساتھ درست ہوگا۔ پہلی شرط یہ ہےکہ وہ کمپنی حرام کاروبار میں ملوث نہ ہو۔ دوسری شرط یہ ہے کہ اس کمپنی کے تمام اثاثے اور املاک سیال اثاثوں یعنی نقد رقم کی شکل میں نہ ہوں، بلکہ اس کمپنی نے منجمد اثاثے حاصل کر لیے ہوں ، مثلا: بلڈنگ بنالی ہو، یا زمین خرید لی ہو، لہذا اگر اس کمپنی کا کوئی فکسڈ اثاثہ وجود میں نہیں آیا تو اس صورت میں اس کمپنی کے شیئرز کو اس کی لکھی ہوئی قیمت ( فیکس وبلیو ) سے کم یا زیادہ میں فروخت کرنا جائز نہیں بلکہ برابر سرا بر خریدنا ضروری ہے، اس لیے کہ جتنے لوگوں نے اس کمپنی میں اشتراک کیا ہے ان کی اشتراک کردہ رقم سے ابھی تک کوئی سامان نہیں خریدا گیا اور نہ اس سے کوئی بلڈنگ بنائی گئی ، نہ کوئی مشین خریدی گئی اور نہ ہی کوئی اور اثاثہ وجود میں آیا، بلکہ ابھی تک وہ تمام پیسے نقد کی صورت میں ہیں، تو اس صورت میں دس روپے کا شیئر دس روپے ہی کی نمائندگی کر رہا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے دس روپے کا نوٹ دس روپے کی نمائندگی کرتا ہے، لہذا جب دس روپے کا شیئر دس روپیے ہی کی نمائندگی کررہا ہے تو اس صورت میں اس کو گیارہ روپیے میں یا نو روپے میں خریدنا یا فروخت کرنا جائز نہیں لیکن اگر کمپنی کے کچھ اثاثے منجمد شکل میں ہیں تو اس صورت میں دس روپے کے اس شیئر کو کم یا زیادتی پر فروخت کرنا جائز ہے، لیکن اگر کسی وقت نقد رقم اورواجب الوصول قرضہ دس روپی سے سے زیادہ ہو جائے تو اس صورت میں دونوں مجموعی مقدار سے کچھ زیادہ میں وہ شیئر فروخت ہو سکتا ہے اس سے کم میں نہیں ۔ تیسری شرط یہ ہےکہ وہ شیئر ہولڈر اس کمپنی کے اندر سودی کاروبار کے خلاف آواز ضرور اٹھائے اگر چہاس کی آواز مسترد ہو جائے۔ چوتھی شرط یہ ہے کہ جب منافع تقسیم ہوتو وہ شخص آمدنی کی تفصیلات سے یہ معلوم کرلے کہ آمدنی کا کتنا فیصد حصہ سودی ڈپازٹ سے حاصل ہوا ہے،تو اب یہ شخص اپنے نفع میں سے اتنی مقدار بلا نیت ثواب صدقہ کر دے۔ (اس سلسلہ میں کچھ تفصیلات امداد الفتاوی، فقہی مقالات وغیرہ میں موجود ہے ) فقط واللہ تعالیٰ اعلم ۔
(محمود الفتاوي: ٢/٤٣٧-٤٣٨، مكتبة أنور)
جن کمپنیوں کا ذریعہ آمدنی ہی سود ہے یعنی اس کا منافعہ سود ہی سےحاصل ہوتا ہے تو ایسی کمپنیوں کے حصص خریدنا درست نہیں ہے لیکن اگر اس کا ذریعہ آمدنی سود نہیں ہے؛ بلکہ پیداوار یا اجرت ہے لیکن اس میں کچھ معاملات سودی بھی ہوجاتے ہیں، تو اس کے منافع میں حرمت نہ ہوگی، جب کہ کمپنی قائم کرنے والے کا فرہوں؛ البتہ کفار کی کمپنیوں میں شرکت خود مکروہ ہے، جیسا کہ مبسوط کے قول سے معلوم ہوا۔ اگر مسلمانوں کی کمپنیاں بھی سودی لین دین کرتی ہوں جیسا کہ آج کل غالب یہی ہے، تو کفار کی کمپنیوں کی شرکت، مسلم کمپنیوں کی شرکت سے اہون ہے۔
(محمود الفتاوي: ٢/٤٤٠، مكتبة أنور)

Have a question that needs a clear, sourced answer?
Submit your question privately. Our team reviews each submission and responds with a researched answer, citing the references used.