Business & Finance

Rulings on Stocks

Answered
June 3, 2026
The Question

What are stocks? What is it fiqhi takyeef? Are they permissible to buy? If so, what are the conditions and the basis for them?

The Answer
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب حامدا ومصليا ومسلما

Stocks are a type of security that gives stockholders a share of ownership in a company. Stocks also are called “equities.” Keeping this in mind, there is a difference of opinion whether one may buy stocks if the c ompany have transactions and investments that include giving or taking interest.

The following conditions below have been taken from a source which is the translated conditions regarding stocks tobe permissible by Mufti Muhammad Taqi Uthmani Hafidhahuallah1:

1.     The main business of the company is not in violation of Shariah. Therefore, it is not permissible to acquire the shares of the companies providing financial services on interest, like conventional banks, insurance companies, or the companies involved in some other business not approved by the Shariah, such as the companies manufacturing, selling or offering liquors, pork, haram meat, or involved in gambling, night club activities etc.

2.     If the main business of the companies is halal, like automobiles, textile, etc. but they deposit their surplus amounts in an interest-bearing account or borrow money on interest, the shareholder must express his disapproval against such dealings, preferably by raising his voice against such activities in the annual general meeting of the company if one has the opportunity/ability.

3.     If some income from interest-bearing accounts is included in the income of the company, the proportion of such income should be given in charity and must not be retained. For example, if 4% of the whole income of a company is accrued from interest-bearing deposits, then 4% of the dividend should be given in charity.

4.     The shares of a company can be purchased only if the company owns some non-liquid assets. If all the assets of a company are in liquid form, i.e., in the form of money, then that cannot be purchased or sold, except on par value, because in this case the share represents money only and the money cannot be traded in except at par value.

 

In addition to the second condition, the investment in stocks will only be permissible if the amount of Sharia non-compliant revenue is negligible. Many scholars have agreed that 5% is negligible.

Furthermore, regarding condition three, the interest-bearing debt to market ratio should not exceed 33%. Also, interest-bearing securities to market cap ratio should not exceed 33%.

 

In conclusion, it will be permissible to buy stocks with the consideration of the above conditions.

Allah Ta’ala Knows Best

Answered by
Maulana Bakhtiyar Ahmed
Approved by
Mufti Husain Ahmad Madani

References

1 https://askimam.org/public/question_detail/43930

حصص تو کبھی براہ رأست کمپنی سے خریدے جاتے ہیں، کبھی ایجنسیوں کےواسطے لئے جاتے اور کبھی شخصی طور پر لوگ اپنا خرید کیا ہوا حصہ کسی اور کے ہاتھفروخت کرتے ہیں، یہ تینوں صورتیں جائز اور درست ہیں- ان تمام صورتوں میں شیئرز کےمالکان یا تو خود شیئرز پر قبضہ کرچکے ہیں یا کمپنی کے مینجر اور منتظمین نے وکالۃاس کی طرف سے شیئرز کی أصل ملکیت پر قبضہ کیا ہے-

پھر یہ خرید وفروخت اس روپیے کی خرید وفروخت نہیں ہے، جس کی دستاویزخریداران حصص کو حاصل ہوئی ہے بلکہ یہ سامان کا وثیقہ اور اس سامان کی خرید وفروختہے جس کی ابتدائی قیمت کمپنی نے مقررکی تھی تواب کسی قدر فرق کے ساتھ بھی فروخت کیاجائے اور أصل قیمت میں کتنی ہی کمی بیشی کے ساتھ بيچا جائے سود کا تححق نہیں-

اور جب اصولی طور پر شیئرز کی خرید وفروخت جائز ٹھہری تو اب حکم کامدار كمپنی کی نوعیت پر ہوگا، اگر کمپنی جائز کاروبار کرتی ہو تو اس کا شیئر خریدناجائز ہوگا، کمپنی کے أصل مالکان مسلم ہوں یا غیر مسلم، اور اگر وہ نا جائز اور غیرشرعی کارو بار کرتی ہو جیسے شراب سازی مجسمہ سازی وغیرہ تو اس کے شیئر ز خریدناجائز نہ ہوگا۔

چنانچہ شیئرز پر حقیقۃ قبضہ کے بغیر یا یقینی طور پر ملکیت ثابت ہویےبغیر انہیں آگے بیچنا جائز نہیں- البیع المضاف الی المستقبل بھی ناجائز ہے-بیع مالا یملک بھی ناجائز ہے-

شیئرز ہولڈر اگرشرکت ختم کرنا چاہے اور کمپنی سے نکلنا چاہے تو کسی دوسرے کو فروخت کئے بغیر نکلنہیں سکتا ہے لیکن کمپنی کا پہلے سے یہ معاہدہ ہوتا ہے اور معاہدہ کی پابندی ضروریہے اس وجہ سے اس پر عمل کرنے کی گنجائش ہے- اگر کمپنی سودی لین دین میں ملوث ہو تواس کے سالانہ اجلاس میں آواز اٹھائی جائے- نفع کا جتنا حصہ سودی ڈپازٹ سے حاصل ہواہو اس کو صدقہ کردیا جائے

کمپنی  کے قواعد میں یہ باتشامل ہوتی ہے کمپنی مختلف بینکوں سے سودی قرضہ حاصل کریگی- اگر یہ بات صحیح ہو تو یہناجائز ہے اس کی وجہ سے سب شرکاء سود لینے کے گناہ میں ملوث ہوں گے- چونکہ معاملہمعمولی اور قلیل مقدار میں ہوتا ہے اور بذات خود مقصود نہیں ہوتا، نیز بسا  اوقات بڑی کپنیوں کو حکومتی قوانین کی بنا پردفع ضرر کے لئے مجبورا لینا پڑتا ہے لہذا اس کی گنجائش ہوسکتی ہے-پھر غیر مسلموں کیکمپنی ہو تو اس میں مزید تخفیف ہوگی- امداد الفتاوی میں بحث فرمائی جس کا خلاصہ یہہے کہ غالب کا اعتبار کرتے ہوئے گنجائش ہے- البتہ کمپنی کی آمدنی میں جو معمولیمقدار سود کی ہو تو مالکان حصص کو حاصل شدہ منافع میں سے بقدر رقم صدقہ کردیناچاہئے-

(فتاويدارالعلوم زكريا: ٥/٢٢٥-٢٢٨، زمزم)

یہ شیئرز درحقیقت کسی کمپنی کے اثاثوںمیں شیئرز ہولڈر کی ملکیت کے ایکمتناسب حصے کی نمائندگی کرتا ہے-مثلا اگر میں کسی کمپنی کا شیر خریدتا ہوں تو وہسرٹیفیکٹ جو ایک کاغذ ہے ، وہ اس کمپنی میں میری ملکیت کی نمائندگی کرتا ہے- جبکوئی کمپنی وجود میں آتی ہے تو پہلے وہ اپنا لائحہ عمل اور خاکہ شائع کرتی ہے اوراپنے شیئرز جاری کرتی ہے، اور شیئرز جاری کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ کمپنی میںحصہ دار بننے کی دعوت دےرہی ہے- اگرچہ عرف عام میں  یہ کہا جاتا ہے کہ اس نے شیئرز خریدے لیکن شرعیاعتبار سے وہ خریدوفروخت نہیں ہے- بلکہ جب میں نے پیسے دے کر وہ شیئرز حاصل کئے تواس کے نتیجے میں مجھے کوئی سامان نہیں مل رہا ہے- اسلئے کہ کمپنی نے ابھی تک کامشروع نہیں کیا، اور نہ ہی ابتک کمپنی کے املاک اور اثاثے وجود میں آئے ہیں- لکہکمپنی تو اب بن رہی ہے۔۔۔ تو گویا کہ شرکت کا معاملہ کر رہا ہے- یہ ہے شیئرز کی حقیقت-عام طریق کار یہ ہے کہ وہ شیئرز ہولڈر وقتا فوقتا اپنے شیئرز اسٹاک مارکیٹ میں بیچتےرہتے ہیں-

حرام کاروبار میں ملوث نہ ہو، کمپنی کے تمام اثاثے اور املاک سیالاثاثوں یعنی نقد رقم کی شکل میں نہ ہوبلکہ اس کمپنی نے کچھ فکسڈ اثاثے حاصل کرلئےہوں، اگر نقد رقم کی شکل میں ہو تو اس صورت میں اس کمپنی کے شیئرز کو فیس ویلو سےکم یا زیادہ میں فروخت کرنا جائز نہیں بلکہ برابر سرابر خریدنا ضروری ہے- لیکن اگرکمپنی کچھ اثاثاے منجمد کی شکل میں ہیں تو اس صورت میں دس روپے کے اس شیر کو کمی یازیادتی پر فروخت کرنا جائز ہے-

علماء کی دوسری جماعت کا یہ کہنا ہے کہ اگرچہ ان کمپنیوں میں یہ خرابیپائی جاتی ہے، بنیادی کاروبار مجمعوی طور پر حلال ہے تو دو شرطوں کے ساتھ اس کمپنیکے شیرز لینے کی گنجائش ہے- اول کہ یہ شیر ہولڈر سودی کاروبار کے خلاف آوازاٹھائے، اس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ سالانہ میٹینگ میں اٹھائے کہ ہم سودی لین دینکو درست نہیں سمجھتے، اس سے وہ انسان اپنی ذمہداری پوری ادا کردیتا ہے-

جب منافع تقسیم ہو تو وہ انکم اسٹیٹمنٹ کے ذریعہ معلوم کرے کہ آمدنیکا کتنا فیصد سود ہے اسے صدقہ کرلے-

(فقهيمقالات: ١/١٤١-١٥٣، ميمن اسلامك ببلشرز)

حصص کی حقیقت یہ ہے کہ ایک کمپنی، اس کے کچھ حصے تو مالکان اپنے پاسرکھ لیتے ہیں، اور کچھ حصوں میں دوسروں کو شریک کرلیتے ہیں- جو لوگ ان حصوں کو خریدلیتے ہیں وہ اپنے حصوں کے تناسب سے کمپنی کی ملکیت میں شریک ہوجاتے ہیں اور کچھلوگ اپنے حصوں کو فروخت کرکے اپنی ملکیت دوسروں کو منتقل کردیتے ہیں، اس لئےانحصوں کی خرید وفروخت جائزہے بشرطیکہ کمپنی کا کاروبار صحیح ہو- اور ان حصص پر کمپنیکیطرف سے ملنے والے منافع جائز ہے بشرطیکہ وہ کل منافع کو حصص پر تقسیم کرتے ہوں-

اول: جب تک کمپنی نے کوئی مل یا کارخانہ نہیں لگایا، اس وقت تک حصص کیحیثیت نقد رقم کی ہے اور دس روپے کی رقم کو نو یا گیارہ روپے میں فروخت کرنا جائزنہیں یہ خالص سود ہے-

دوم: عام طورسے ایسی کمپنیاں سودی کاروبار کرتی ہیں جو گناہ ہے، اوراس گناہ میں تمام حصہ دار شریک ہوںگے-

سوم: کمپنی کی شراکت اس وقت جائز ہے جبکہ اس کے معاملات صحیح ہوں،اگر کمپنی کا کوئی معاملہ خلاف شریعت ہوتا ہے اور حصہ داروں کو اس کا علم بھی ہےتو حصہ دار ھی گناہگار ہوںگے اور اس کمپنی میں شرکت کرنا جائز نہیں ہوگا-

اگر کمپنی کا کاروبار شرعا جائز نہیں ہوگا تو اس کا منافع بھی حلالنہیں ہوگا، دوسری شرط یہ ہے کہ وہ کمپنی باقاعدہ حساب کرکے حاصل ہونے والے منافع کیتقسیم کرتی ہو، اگر أصل رقم کے فیصد کے حساب سے منافع مقرر کردیتی ہے تو یہ جائزنہیں بلکہ سود ہے-

(آپکے مسائل اور ان کا حل: ٧/١١٧-١٢٠، مكتبه لدهيانوي)

شیئرز مارکیٹ وہ جگہ ہے جہاں اس مارکیٹ میں اندراج شدہ کمپنیوں کےحصص کی خرید وفروخت ہوتی ہے۔۔۔ جب لوگ کمپنی کے حصے لے کر سرمایہ دے دیتے ہیں توحصہ دار کو کمپنی ایک سرٹیفیکٹ جاری کرتی ہے جو اس بات کی سند ہوتی ہے کہ اس شخصکا اس کمپنی میں اتنا حصہ ہے اس سرٹیفیکٹ کو اردو میں حصہ عربی میں سہم اور انگریزیمیں شیئرز کہتے ہیں-

کمپنی کا أصل کاروبار حلال ہو-بعض شریعہ ورڈوں نے ان کمپنیوں کے شیئرزمیں بھی کاروبار سے روکا ہے جو کمپنیاں آلات حرب وضرب بناتی ہیں-

کمپنی کا سودی قرض خواہ طویل مدتی یا قصیرمدتی اس کے اوسط بازار کی قیمتیا سرمایہ کے مقابلہ میں (علی وجہ الاختلافین) ٣٣ فیصد سے زائد نہ ہو-

کمپنی کی حرام سرمایہ کاری ٣٣ فیصد سےزائد نہ ہو اس کی بازار کی قیمتیا سرمایہ کئ مقابلہ میں- الراجحی بورڈ نے اس معیار کو حذف کردیا اور علت یہ بیانکی گئی کہ ان ضوابط کی بنیاد اجتہاد ہے جس میں ضرورت کے اعتبار سے نظر ثانی کیگنجائش ہے-

کمپنی کا واجب الوصول دین اور نقود ٣٣فیصد سے زائد نہ ہو- کمپنی کیحرام آمدنی کل آمدنی کے مقابلہ میں ٥ فیصد سے زائد نہ ہو- اس معیار میں بھی بورڈسکا اختلاف ہے، لیکن تمام لوگوں کا اتفاق ہے کہ شیئرز ہولڈرکا تمام حرام آمدنی سےخلاصی حاصل کرنا واجب ہے-

اس قسم کی کمپنیوں کے شیئرزمیں معاملات کرنا حاجت کے ساتھ مقید ہے؛لہذا جب ایسی کمپنیاں وجود میں آجائیں جو سود سے احتراز کرتی ہوں، تو اب ضرورت پوریہوگئی؛ لہذا اُنہیں کمپنیوں پر اکتفاء کرنا لازم ہوگا-

کمپنی کا سودی قرض خواہ وہ طویل مدتی ہو یا قصیر مدتی اس کے پورےسرمائے کے مقابلے میں ۲۵ فیصد سے زائد نہ ہو، اس بات کو ذہن میں رکھتےہوئے کہ سودی قرض حرام ہے، چاہے اس کی مقدار تھوڑی ہو یا زیادہ سود کی یہ شرح اسسے کم ہے جو کہ اس سے پہلے فیصلے میں تھا اور وہ مقدا را یک تہائی تھي

(كتابالنوازل: ١١/١٨٢، دار الاشاعت)

بظاہر اس عقد کی حقیقت شرکت عنان ہے کیونکہ جو لوگ کمپنی قائم کرتے ہیںوہ دوسروں کو شریک کرنے کے وقت خود کو بھی کمپنی کا ایک حصہ دارقرار دیتے اور اپنیعمارات مملوکہ متعلقہ۔۔ کو نقد کیطرف محمول کرلیتے ہیں۔۔۔ البتہ اس صورت میں کمپنیقائم کرنے والوں کیطرف سے شرکت بالنفقہ نہ ہوگی بلکہ بالعروض ہوگی سو بعض ائمہ کےنزدیک یہ صورت جائز ہے- پس ابتلاۓ عام کی وجہ سے اس مسئلہ میں دیگر ائمہ کے قول پرفتوی دےکر شرکت مذکورہ کے جواز کا فتوی دیا جاتا ہے-

وحاصله جواز بيع الحقوق الموجودة قبل القبض دون المعدومة پس یہ صورتبھی بیع حظوظ کے مشابہ ہے کیونکہ جو خریدار اپنا حصہ بیع کرتا ہے وہ معدوم یا غیرمملوککی بیع نہیں کرتا-

پس صورت مذکورہ میں مال مستفاد میں حرمت نہ ہوگی جب کہ کمپنی قائمکرنے والے کافر ہوں البتہ کفار کی کمپنیوں میں شرکت خود مکروہ ہیں جیسا مبسوط کےقول سے معلوم ہوا اگر مسلمانوں کی کمپنیاں بھی سودی لین دین کرتی ہو جیسے آجکلغالب یہی ہے تو کفار کی کپنیوں کی شرکت مسلم کمپنیوں کی شرت سے اہون ہوگی-

علی ما ذکرنا من احکام الخلط قاعدة إذا اجتمع الحلال والحرام غلبالحرام ولكن صرح في الاشباه بانه خرجت عن هذه القاعدة عشرة... العاشرة قال فيالقنية من الكراهة غلب على ظنه ان أكثر بياعات اهل السوق لا تخلو عن الفساد فانكان الغالب هو الحرام تنزه عن شرائه ولكن مع هذا لو اشتراه يطيب له- قال الحمويووجهه ان كون الغالب في السوق الحرام لا يستلزم كون المشتري حراما لجواز كونه منالحلال المغلوب والاصل الحل فلما ثبت خروج هذه المسائل عن القاعدة فلا اشكال واللهاعلم-

(امدادالفتاوي: ٣/٤٩٤-٤٩٩، مكتبه دار العلوم كراتشي)

جائز تجارات اور حلال اشیائیں بنانے والی کمپنی کے شیر جو اکویٹی اورآرڈنری کے نام سے جانے جاتے ہیں خریدنا جائز ہے، اور سالانہ ملنے والا منافع بھی لیناجائز ہے اس لئے کہ کمپنی کرنے پر یہ منافع نہیں ملتا اور کم منافع لرنے پر کم ملتاہے اس لئے یہ نفع ہے سود نہیں ہے، البتہ کمپنی کے جو پریفرنس ار ڈیینچر شیرز ہوتےہیں ان کی خرید وفروخت جائز نہیں ہے-

اس لئے کہ شیرز رکھنا کمپنی میں حصہ دار بننے کے معنی میں ہے اور اسکے لئے یہ شرط ہے کہ جو کمپنی جائز تجارات اور حلال اشیاء بنانے والی ہواس کمپنیکے شیرز رکھنا جائز ہے اور جو کمپنی شراب بناتی ہو یا جوا کھیلتی ہو یا سودیکاروبار کرتی ہو اس کپمنی کے شیرز رکھنا یا اس کا ڈیوی ڈنڈ استعمال میں لیناناجائز اور حرام ہے-

کمپنی کو مالی فائدہ ہو یا کمپنی کی پیداواربڑھ جائے تو کمپنی کے شیرزکا بھاؤ بڑھ جاتا ہے۔۔۔اس لئے جب شیرکا بھاؤ زیادہ ہوجائے تو اسے نفع کے ساتھ بیچناجائز ہے- (ڈے ٹریڈینگ کرنا جائز ہے)

(فتاویدینیہ: ٤/٢٢٣-٢٣٦، جامعه حسينيه)

آپ بھی کمپنی میں ہمارے ساتھ حصہ دار بن جائیں نفع ونقصان دونوں میںشریک نہیں، اگر نفع ہوگا تو نفع میں شرکت آپ کی ہوگی، اگر خدانخواستہ نقصان ہوا توہمارے ساتھ ساتھ آپ کو نقصان برداشت کرنا پڑے گا، یہ بات فائنس کمپنیوں سے ہوگی جوحکومت کی اجازت سے عمل میں آئی ہیں۔

(محمود الفتاوي: ٢/٤٢٧، مكتبة أنور)

کسی کمپنی کے شیئر ز ابتداء میں جاری ہورہے ہوں اس وقت ان کو ایک شرطکے ساتھ لینا جائز ہے، وہ یہ کہ وہ کمپنی کوئی حرام کاروبار شروع نہ کر رہی ہو، اسلیے اگر کسی حرام کاروبار کے لیے وہ کمپنی قائم کی جارہی ہے تو اس کمپنی کے شیئر زلینا کسی حال میں بھی جائز نہیں۔

کمپنی جب مکمل طور پر قائم ہو چکی اور ایک مرتبہ اس کمپنی کے تمام شیئرسبسکرائب ہو گئے اس کے بعد جب اس کمپنی کے شیئرز کا اسٹاک مارکیٹ میں لین دین ہوگاوہ حقیقی معنی میں شیئرز کی خرید و فروخت ہے، اس لیے جو آدمی اسٹاک مارکیٹ سے شیئرز خریدنا چاہتا ہے اس کے لیے یہ سودا چار شرائط کے ساتھ درست ہوگا۔ پہلی شرط یہ ہےکہ وہ کمپنی حرام کا روبار میں ملوث نہ ہو۔ دوسری شرط یہ ہے کہ اس کمپنی کے تماماثاثے اور املاک سیال اثاثوں یعنی نقد رقم کی شکل میں نہ ہوں، بلکہ اس کمپنی نےمنجمد اثاثے حاصل کر لیے ہوں ، مثلا: بلڈنگ بنالی ہو، یا زمین خرید لی ہو، لہذااگر اس کمپنی کا کوئی فکسڈ اناثہ وجود میں نہیں آیا تو اس صورت میں اس کمپنی کے شیئرزکو اس کی لکھی ہوئی قیمت ( فیکس دبلیو ) سے کم یا زیادہ میں فروخت کرنا جائز نہیںبلکہ برابر سرا بر خرید نا ضروری ہے، اس لیے کہ جتنے لوگوں نے اس کمپنی میں اشتراککیا ہے ان کی اشتراک کردہ رقم سے ابھی تک کوئی سامان نہیں خریدا گیا اور نہ اس سےکوئی بلڈنگ بنائی گئی ، نہ کوئی مشین خریدی گئی اور نہ ہی کوئی اور اثاثہ وجود میںآیا، بلکہ ابھی تک وہ تمام پیسے نقد کی صورت میں ہیں، تو اس صورت میں دس روپے کا شیئردس روپے ہی کی نمائندگی کر رہا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے دس روپے کا نوٹ دسروپے کی نمائندگی کرتا ہے، لہذا جب دس روپے کا شیئر دس روپیے ہی کی نمائندگی کررہا ہے تو اس صورت میں اس کو گیارہ روپیے میں یا نو روپے میں خریدنا یا فروخت کرناجائز نہیں لیکن اگر کمپنی کے کچھ اثاثے منجمد شکل میں ہیں تو اس صورت میں دس روپےکے اس شیئر کو کم یازیادتی پر فروخت کرنا جائز ہے، لیکن اگر کسی وقت نقد رقم اورواجب الوصول قرضہ دس روپیسے سے زیادہ ہو جائے تو اس صورت میں دونوں مجموعی مقدارسے کچھ زیادہ میں وہ شیئر فروخت ہو سکتا ہے اس سے کم میں نہیں ۔ تیسری شرط یہ ہےکہ وہ شیئر ہولڈر اس کمپنی کے اندر سودی کاروبار کے خلاف آواز ضرور اٹھائے اگر چہاس کی آواز مسترد ہو جائے۔ چوتھی شرط یہ ہے کہ جب منافع تقسیم ہوتو وہ شخص آمدنی کیتفصیلات سے یہ معلوم کرلے کہ آمدنی کا کتنا فیصد حصہ سودی ڈپازٹ سے حاصل ہوا ہے،تو اب یہ شخص اپنے نفع میں سے اتنی مقدار بلانیت ثواب صدقہ کر دے۔ (اس سلسلہ میںکچھ تفصیلات امداد الفتاوی، فقہی مقالات وغیرہ میں موجود ہے ) فقط واللہ تعالیٰاعلم ۔

(محمود الفتاوي: ٢/٤٣٧-٤٣٨، مكتبة أنور)

جن کمپنیوں کا ذریعہ آمدنی ہی سود ہے یعنی اس کا منافعہ سود ہی سےحاصل ہوتا ہے تو ایسی کمپنیوں کے حصص خرید نا درست نہیں ہے لیکن اگر اس کا ذریعہآمدنی سود نہیں ہے؛ بلکہ پیداوار یا اجرت ہے لیکن اس میں کچھ معاملات سودی بھی ہوجاتے ہیں، تو اس کے منافع میں حرمت نہ ہوگی، جب کہ کمپنی قائم کرنے والے کا فرہوں؛ البتہ کفار کی کمپنیوں میں شرکت خود مکروہ ہے، جیسا کہ مبسوط کے قول سے معلومہوا۔ اگر مسلمانوں کی کمپنیاں بھی سودی لین دین کرتی ہوں جیسا کہ آج کل غالب یہیہے، تو کفار کی کمپنیوں کی شرکت، مسلم کمپنیوں کی شرکت سے اہون ہے۔

(محمود الفتاوي: ٢/٤٤٠، مكتبة أنور)

For your questions

Have a question that needs a clear, sourced answer?

Submit your question privately. Our team reviews each submission and responds with a researched answer, citing the references used.