Would it be permissible to slaughter such a sheep that has it’s tail docked for udhiya?

Udhiya of Sheep With The Tail Docked Off
It is common practice for sheep to get their tails docked by farmers. Would it be permissible to slaughter such a sheep (which had it’s tail docked) for udhiya?
الجواب حامدا ومصليا ومسلما
Although, the classical jurists of the Hanafi school ofthought considered docking off the tail to be a defect which would render theudhiya impermissible, nowadays the tail is docked off to prevent health issuessuch as fly strike and to keep the animal cleaner. Thus, docking off the tailwould no longer be considered a defect. Therefore, it will be permissible toslaughter a sheep which had its tail docked for udhiya.
And Allāh Ta’āla Knows Best
References
ويضحي...لابالعمياء...ومقطوع أكثر الأذن او الذنب
رد المحتار:٩/٤٦٨، دار الكتب العلمية
الفتاويالتاتارخانية: ١٧/٤٢٩، مكتبة زكريا
واعلم ان الكللا يخلو عن عيب والمستحب ان يكون سليما عن العيوب الظاهرة فما جوزها هنا جوزها معالكراهة
رد المحتار:٩/٤٦٨، دار الكتب العلمية
جامع المضمراتوالمشكلات: ٤/٦٨٧، دار الكتب العلمية
ومقطوعة الذنببالكلية لا تجوز
الفتاوي الهندية:٥/٣٦٨، دار الكتب العلمية
تبيين الحقائق:٦/٤٨٠، دار الكتب العلمية
ولا تجوز مقطوعة الأذن والذنب وان كان أكثر الذنب معها جاز
مختارات النوازل:٣/١٩٧، مؤسسة ايفا للطبع
مجمع الأنهر:٤/١٧١، دار الكتب العلمية
كل عيب يزيل المنفعة على الكمال، أو الجمال على الكمال يمنع الاضحية، ما لا يكون بهذه الصفة لايمنع
الفتاويالتاتارخانية: ١٧/٤٣١، مكتبة زكريا
الفتاوي الهندية:٥/٣٦٩، دار الكتب العلمية
اکثر حضرات فقہاء کی عبارت کے پیش نظر ناجائز فرماتے ہیں، بعض اس کو مقامیحالات اور آب ہوا کے اعتبار سے عیب شمار نہیں کرتے بلکہ صحت کا باعث سمجھتے ہیں.لہذا عرف عام اور مستنداطباء کی رائ کو مد نظر رکھتے ہوۓ اس کو عیب شمار نہیں کرتے .دم بریدہ جانور کی قربانی کا ذکر حدیث میں موجود ہے لیکن تحدید مذکور نہیں ہے
فتاوی دارالعلوم زکریا: ٣٦٠-٣٧٠ ، زمزم ببلشرز
بعض دم کو عضو کامل فرما کر اس کے کٹے ہونے کی صورت میں کامل عضو ختم ہونے کاکہتے ہے، اس لۓ یہ عیب ہے اور قربانی جائز نہییں ہوگی؟ جواب: اس کے کاٹنے سے عیب پیدا نہیںہوتا، بلکہ صحت دوبالا ہوجاتی ہے، دم کے ہونے سے وہ مکھیوں اور جراثیم اور تکالیفکا شکار ہوکر دبلا پتلا ہونا شروع ہوجاتا ہے حتی کہ صحت خراب ہوجاتی ہے اور قربانیمیں افضل یہ ہے کہ صحتمند تازہ جانور ذبح کیا جاۓ.خصی جانور کو حضورﷺ نے قربانی کی حالانکہ عضو معطل ہوگیا، لیکن اس کی وجہ سےگوشت میں لذت اور اضافہ ہوا تو اس وجہ سے عیب شمار نہیں ہوا.
فتاوی دارالعلوم زکریا: ٣٦٠-٣٧٠ ، زمزم ببلشرز
اگر فوت عضو کا شبھ ہوتوفوت وہ مانع ہے جو منقص قیمت ہو اور اس سے قیمت بڑھ جاتی ہے، لہذا مضر نہیں
امداد الفتاوی: ٣/٥٥٠ ،مكتبة زكريا
نیز دمبہ بڑا ہونے کے بعددم بریدہ معلوم نہیں ہوتا بلکہ خلقۃ چھوٹی دم والا محسوس ہوتا ہے اور فقہاء کیتصریح کے مطابق جس جانور کی دم خلقۃ چھوٹی ہو اس کو ذبح کرنا جائز اور درست ہے. نیز جس کی دم قدرتی طور پر نہ ہو اس کی قربانیبھی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک جائز ہے- امام محمد كي نزدیک ناجائز ہے اوراکثر نے انہیں کا قول لیا ہے
فتاوی دارالعلوم زکریا: ٣٦٠-٣٧٠ ، زمزم ببلشرز

Have a question that needs a clear, sourced answer?
Submit your question privately. Our team reviews each submission and responds with a researched answer, citing the references used.