How do we deal with worn down religious books/papers?

What to do with Worn Down Religious Books/Papers
How do we deal with worn down religious books/papers? Do we need to burn them, recycle them, or shred them? What is the correct and practical way of doing so? Is it ok to recycle, shred and recycle or garbage?
الجواب حامدا ومصليا ومسلما
It should be known that copies of the Qur’ān, the names of Allāh, the Prophets, and the angels should be dealt with the utmost respect. When such papers come to wear down, they should be put away respectfully.
The following methods should be used specifically with worn down Quran’s that are not reasonable to keep/use:
1. Burying them
2. Burning them
The practical ways of putting away such papers other than the Quran are through:
1. Erasing the name of Allāh, the Prophets, and the angels.
2.Burning or shredding the papers which have the name of Allāh, the Prophets, or the angels.
3.Shredding papers of the Qur’ān and transferring them toa recycling company.
Whichever method a person finds most suitable/respectful, they may do so.
And Allāh Ta’āla Knows Best
References
المصحف اذا صار خلقا وتعذر القرائة فيه لا يحرق بالنار، الي هذا اشار محمد في السير الكبير وبه نأخذ ولا يكره دفنه، ومن اراد دفنه
-ان شاء وضعه في موضع طاهر لا ينبغي ان يلفه بخرقة طاهرة وتحفر لف حفيرة ويلحد ولا يشق. وان شاء غسله بماء حتي يذهب مائ ه يصل اليه يد المحدثين ولا يصل اليه الغبار ولا الاقذار تعظيما لكلام الله عز وجل.
ورسائل تستغني عنها وفيها اسم الله تعالي يمحي ثم يلقي في الماء الكثير واتخذ منه قراطيس كان افضل.
اذا صار المصحف خلقا ينبغي ان يلف في خرقة طاهرة ويدفن في مكان طاهر او تحرق
الفتاوي التاتارخانية ١٨ /٦٩، زكريا
ويدفن المصحف كالمسلم اذا صار بحال لا يقرأ فيه ولا بأس ان تدفن كتب الشرع او تلقي في ماء جار او تحرق والأول احسن ويجوز محو بعض الكتابة ولو قرآنا بالريق
الفقه الاسلامية وادلته ١/٤٥١، دار الفكر
المصحف اذا صار خلقا لا يقرأ منه ويخاف ان يضيع يجعل في خرقة طاهرة ويدفن ودفنه اولي من وضعه موضعا يخاف عن يقع عليه النجاسة او نح و ذلك ويلحد له... كذا في الغرائب
المصحف اذا صار خلقا وتعذرت القرائة منه لا يحرق بالنار أشار الشيباني الي هذا في السير الكبير وبه نأخذ كذا في الذخيرة.
الفتاوي الهندية ٥/٣٩٩، دار الكتب العلمية
قال في حاشيته: واما غيره من الكتب فسيأتي في الحظر والإباحة انه يمحي عنها اسم الله تعالي وملائكته ورسله ويحرق الباقي ولا بأس بان تلقي في ماء جار كما هي او تدفن وهو احسن-
رد المحتار ١ /٣٢٠، دارالكتب العلمية
وفي الذخيرة: المصحف اذا صار خلقا وتعذرت القرائة منه لا يحرق بالنار. اليه اشار محمد وبه نأخذ ولا يكره دفنه الخ
الكتب التي لا ينتفع بها يمحي عنها اسم الله وملائكته ورسله و يحرق الباقي ولا بأس بأن تلقي في ماء جار كما هي او تدفن وهو احسن كما في الانبياء
وفي حاشيته قال: )كما في الانبياء( كذا في غالب النسخ وفي بعضها كما في الأشباه لكن عبارة المجتبي: والدفن احسن كما في الأنبياء والأولياء اذا ماتو وكذا جميع الكتب اذا بليت وخرجت عن الانتفاع بها: يعني ان الدفن ليس فيه اخلال بالتعظيم لان افضل الناس يدفنون-
رد المحتار ٩ /٦٠٥، دار الكتب العلمية
اذا صار المصحف خلقا بحيث لا يقرأ منه لا يحترق... ولا يكره دفنه... وان شاء غسله بالماء حتي يذهب مائه وان شاء وضعه في موضع طاهر لا يصل اليه يد المحدثين و لا يصل الغبار اليه تعظيما لكلام الله تعالي
المحيط البرهاني ٨/١٠، ادارة القرآن
قرآن کريم کے نا قابل انتفاع اوراق کو جاری پانی ميں ڈالديا جائے يا کہيں محفوظ جگہ دفن کرديا جائے
وفي البريقة المحمودية شرح الطريقة المحمدية...وفيه ايضا الكتب الذي يستغني عنها وفيها اسم الله تعالي تلقي في الماء الكثير الجاري او تدفن في ارض طيبة... واقول الراجح هو الدفن او الغسل
احسن الفتاوي ٨/١٥، سعيد
ان اوراق کتب حديث سے الله تعالی انبياء کرام عليهم السلام اور ملا ئکہ کا نام مٹا کر جلانا جائز ہے مگر بہتر يہ ہے کہ ان کو جاری پانی ميں بہاديا جائے يا دفن کرديا جائے-
احسن الفتاوي ٨/١٦، سعيد
جس قرآن کے کچه صفحات يا اجزاء بوسيده ہوجائيں تو ان کو نکال کر صحيح اجزاء مجلد کرادينے چاہئيں- قرآن کريم کے بوسيده اوراق جمع کرکے اور پاک کپڑے ميں لپيٹ کر انہيں يا تو اتنی گہرائی ميں دفن کرديا جائے کہ وه دوباره اوپر نہ آسکيں اور اگر
زمين ايسی نرم ہو کہ بعد ميں ان اوراق کے اوپر آنے کا احتمال ہ وتو بہتر يہ ہے کہ احتياط کے ساته کسے ڈرم وغيره ميں رکه کر ان اوراق کو جلاديا جائے اور پهر اس راکه کو يا تو دفن کرديا جائے يا بہتے دريا ميں بہا ديا جائے-
کتاب النوازل ١٥/٨٣، دا ر الاشاعت
البتہ اگر قرآن مجيد يا مقدس اوراق کے بوسيده و پرانے ہونے يا ان کے اغلاط کی وجہ سے ان کے استفاده کرنے کے دشوارہونے کی وجہ سے اور ان کو بے ادبی سے بچانے کے خاطر کوئی اس طرح کا عمل کرے آگ ميں جلانا،قطع يا بريد کرنا، حروف ونقوش کو مٹانا تو جائز ہے-
بلکہ اگر مذکوره مقصد کے لئے آگ ميں جلانے کی ضرورت پيش آئے، تو بہت سے فقہائے کرا م کے نزديک اس کی گنجائش اور حضرت عثمان رضی الله عنہ اور ديگر صحابہ کرام و تابعين سے اس کا ثبوت پايا جاتا ہے، خاص طور پر جبکہ اس طرح کے مواد کو پاک وصاف جگہ دفن کرنا مشکل ہو، جہاں کسی کے پاؤں نہ پڑتے ہوں جيسا کہ آج کل شہروں ميں دفن کرنے کی پاک اور قابل احترام جگہيں ميسر آنا مشکل ہيں -
علمی وتحقيقی رسائل ٢٨٨، اداره غفران
بعد ميں جب مشينوں وغيره کے ذريعہ سے پختہ لکهائی ہونے لگی، تو اس پر عمل مشکل ہوگيا- اس طرح کے حالات ميں اگر کاغذ کو پاک پانی سے دهو کريا ہاته يا مشين وغيره مسل کراس کے نقوش و حروف مٹادئے جائيں۔۔۔ تو فقہائے کرام کی عبارت کی روشنی ميں اس کی گنجائش ہے اور اس ميں موجوده دور کی رسائکلنگ کا طريقہ بهی داخل ہے-
علمی وتحقيقی رسائل ٢٨٩، اداره غفران
اور اس نسخہ کے علاوه جن لوگوں کے علاوه کے پاس اپنے اپنے نسخے تهے جن ميں باہم کچه فرق پايا جاتا تها ان کو جلانے، مٹانے، شق يا دفن کرنے کا حکم فرمايا تها جس کا ذکر مستند و معتبر احاديث و روايات ميں آيا ہے۔۔۔ جن کے مجموعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بوقت ضرورت مقدس اور قرآنی اوراق کو بے ادبی و بے احترامی وغيره سے بچانے کی خاطر جلا دينا جائز ہے-
علمی وتحقيقی رسائل ٢٩٢، اداره غفران
جمہور فقہاء کرام کے نزديک بے ادبی سے بچانے کے لئے جلانا بهی بلا کراہت اور اسی کے بعض محققين حنفيہ بهی قائل ہے- ليکن بہت سے مشائخ حنفيہ کے نزديک قرآن مجيد اور دينی مضامين کے اوراق اور نسخوں کو بے ادبی سے بچانے کے لئے
مکروه ہے- اور اس کے بجائے ان کو پاک کپڑے ميں لپيٹ کر پاکيزه جگہ ميں جہاں لوگوں کی آمد ورفت نہ ہوتی ہو، احتياط کے ساته دفن ک ردينا يا پاک وصاف پانی سے دهو کرنقوش کو مٹانا بہتر ہے-
اور دلائل کی رو سے ہمارے نزديک مشائخ حنفيہ کا يہ قول کراہت تنزيہی پر محمول ہے۔۔۔ اور يہ بات ظاہر ہے کہ کراہت تنزيہی کا ارتکاب بهی گناه نہيں کہلاتا اور اس کے مرتکب پر نکير کرنا درست نہيں ہوتا -
بعض حضرات نے فرمايا کہ بے ادبی سے بچانے کے خاطر بہرحال جلان ا افضل ہے، کيونکہ اس ميں اہانت کا بالکليہ خاتمہ ہوجاتا ہے، اور يہی وجہ ہے کہ حضرت عثمان رضی الله عنہ نے بهی اس عمل کو اختيار کيا-
علمی وتحقيقی رسائل ٣١١، اداره غفران
اور ابرايہيم نخعی نے کتابوں کے نسخوں کے جلانے کو مکروه قرار ديا ہے جب کہ ان ميں الله کا نام ہو، اور جائزقرار دينے والوں کا قول درستگی کے زياده قريب ہے، اور ابوبکر بن طيب نے فرمايا کہ حاک م کے لئے ان نسخوں کا جلانا جائز ہے جن ميں قرآن مجيد ہو جب کہ اس کا اجتہاد اس کو مناسب سمجهے-
مذکوره عبارت ميں جلانے کا جواز مذکورہے اور ساته ہی يہ بهی اہانت سے بچانے کے لئے جلانا، دراصل مقدس اوراق کا اکرام و احترام ہے اور مذکوره عبارت ميں يہ بهی صراحت ہے ک ہ حاکم کو بهی يہ عمل جائز ہے- اور آج کے دور ميں مسلمانوں کے ملک کی حکومت کا کوئی اداره جلانے کے بجائے کوئی دوسرے طريقہ مثلا ريسائکل کرنے کو مناسب سمجهے، وه بهی اس ميں شامل ہے-
علمی وتحقيقی رسائل ٣١٢، اداره غفران
ظاہرہے کہ بعض اوقات دهونا ممکن يا سہل نہيں ہوتا، بالخصوص موجوده دورميں اور اس کے مقابلہ ميں، جلادينا ممکن اور سہل ہے، جس پر ہر شخص اپنے اپنے مقام پر بآسانی عمل کرسکتا ہے والله اعلم-
علمی وتحقيقی رسائل ٣١٧، اداره غفران
)تحفہ الاحوذی( ميں کہتا ہوں کہ اگر آپ غور کرے تو يہ بات پہچان لينگے کہ احتياط جلانے ميں ہے نہ کہ دفن کرنے ميں، اسی وجہ حضرت عثمان رضی الله عنہ نے جلانے کا طريقہ اختيارفرمايا-
علمی وتحقيقی رسائل ٣٢٩، اداره غفران
کفايت المفتی ميں ہے:
قرآن مجيد کے بوسيده اوراق کو محفوظ اور محتاط مقام ميں دفن کردينا بهی جائز ہے ليکن جلادينا آج کل زياده بہت ر ہے، کيونکہ ايسا محفوظ مقام دستياب ہونا مشکل ہے کہ وہاں آدمی يا جانور نہ پہنچ سکيں-
علمی وتحقيقی رسائل ٣٣٢، اداره غفران
قرآن کريم کو جلانا اگر اس وجہ سے پيش آيا کہ وه بوسيده ہوگيا تها اور تلاوت کے قابل نہيں رہا تها، اسکو بے ادبی سے بچانے
کے لئے جلاديا تب تو ايمان ميں کوئی فرق نہيں آيا، البتہ اس نے غلطی کی۔ ايسی حالت ميں پاک کپڑے ميں لپيٹ کر قبر بنا کر دفن کردينا چاہئے تها -
فتاوی محموديہ ٧/١٣٥، دار الاشاعت
خلاصہ يہ کہ احتياط کا تقاضا يہی ہے کہ ايسے اوراق کو جلانے کے بجائے دفن کيا جائے، ليکن چونکہ بعض علماء نے جلانے کی بهی اجازت فی ہے اور اس کا ماخذ بهی ہے، اس لئے اگر کوئی نذر آتش کرے تو اسے حرام کہنا بهی مشکل ہے-
فتاوی عثمانی ١ /١٩٥، معار ف القرآن
مذکوره دلائل و عبارات اور فتاوی جات کی روشنی کا خلاصہ يہ نکلا کہ فاضل، غير ضروری اور بوسيده يا نا قابل استعمال يا اغلاط پر مشتمل قرآنی نسخوں اور مقدس اوراق کو بے احترامی سے بچانے کی خاطرضرورت کے وقت احتياط کے ساته حسب حال جلانے مٹانے اور شق و قطع کرنے کی اجازت ہے، اور قرآن مجيد کے بوسيده نسخوں اور دينی کتابوں يا مقدس اوراق سے کتابت اور نسوخ کو مٹا کر جلانا ان مشائخ حنفيہ کے نزديک جائز نہ کہ واجب ہے-
اس لئے ان ميں سے جس صورت کو بهی کوئی حسب ضرورت و حيثيت اختيار کرے، اور اپنی طرف سے ادب و احترام کے
تقاضوں کو پورا کرے تو اس کی اجازت ہے۔۔۔ اور محدثين عظام و فقہاء کرام کے اقوال کی روشنی ميں اور مسئلہ کے مجتہد فيہ ہونے کی وجہ سے فی نفسہ حرام کہنا مشکل ہے، جس ميں اصولی اعتبار سے ری سائکلنگ کا طريقہ بهی داخل ہے -
اور کوئی شخص ان ميں سے کسی قول پر اعتماد کرتے ہوئے اپنی ضرورت و حالت کے مطابق عمل کرے تو اس پر دوسرے کو نکير کا حق نہيں اگرچہ دوسرا شخص کسی اور قول راجح يا افضل کيوں نہ سمجهتا ہو -
علمی وتحقيقی رسائل ٣٣٥، اداره غفران
فقہائے کرام بالخصوص فقہائے حنفيہ کے قواعد کی روشنی ميں موجوده دور کے مطابق قرآن مجيد کے بوسيده نسخوں اور مقدس اورا ق کو دوباره کار آمد بنانا يا ان کی ری سائکلنگ کرنا جائز ہے بلکہ اگرميسرہو تو ادب کے مطابق موجوده حالات ميں دوسری صورتوں کے مقابلہ ميں افضل و احسن صورت قرار دی جاسکتی ہے-
جس کی تفصيلی فقہی عبارات کی روشنی ميں ذکرکی جاتی ہے، اور چونکہ حنفيہ کی بعض کتب فقہ سےجلانے اور مٹانے وغيره کے ناجائز ہونے کو سمجها جاتا ہے اور بہرصورت دفن کرنے پر زوردياجاتا ہے-
علمی وتحقيقی رسائل ٣٣٨، اداره غفران
البتہ اگر ری سائکلنگ کے عمل کے دوران کسی کا رنده کی طرف سے بے ادبی کی کوئی دوسری وجہ پائی جارہی ہو تو اس کی
نشاندی کر کے اس کے ازالہ کی شرعی اصولوں کے مطابق کوشش کرنی چاہئے نہ يہ کہ اس کی وجہ سے اصل عمل کے ہی عدم جواز کا حکم لگاديا جائے يا تشدد وغيره کا راستہ اختيار کيا جائے۔۔ ۔
کيونکہ اولا تو اس کو پهينکنے کے بجائے ڈالنے سے تعبير کرنا چاہئے، دوسرے يہاں بے ادبی مقصود ہی نہيں بلکہ ا س طرز عمل۔۔۔ کا مقصد اوراق کو بے حرمتی سے بچانا ہے جيسا کہ بے حرمتی کی نيت سے قرآن مجيد کے بوسيده اوراق کو جلانے، قطع کرنے اور ضرورت کے وقت جلانے يا قطع کرنے اور بے حرمتی سے بچانے کے لئے ايسا کرنے کے دونوں عمل فقہائے کرام کے نزديک الگ الگ حکم رکهتے ہيں، اس ی طرح يہاں بهی يہ طرز عمل جائز ہوگا، کيونکہ وه ضرورت کی وجہ سے بلکہ بے احترامی سے بچانے کے لئے اختيار کيا جارہا ہے-
اس کی تائيد فقہائے کرام کے اقوال سے بهی ہوتی ہے کہ فقہائےکرام نے اس قسم کے اوراق اور صحيفے سمندر يا دريا ميں حوض يا کنويں ميں ڈالنے کے لئے "القاء" کے الفاظ استعمال کئے ہيں جس کے معنی ڈالنے کے ہيں-
علمی وتحقيقی رسائل ٣٧٧، اداره غفران
ان اوراق اور نسخوں کو پاک صاف پانی ميں حل کرنے کے لئے ڈرم ميں ڈالن ا بے حرمتی ميں اس لئے داخل نہيں کہ فقہائے کرام نے اس قسم کے اوراق اور صحيفے سمندر يا دريا ميں يا حوض يا کنويں ميں ڈالنے کے لئے "القاء" کے الفاظ استعمال کئے ہے جس کے معنی ڈالنے کے ہيں۔۔ ۔ ٤٠٤
اس کے باوجود اگر اس ڈرم ميں مقدس تحريری مواد ڈالتے وقت مزيد احتياط ممکن ہو مثلا پہلے ڈرم ميں پانی ڈالا جائے پهر قريب سے تحريری مواد ان ميں پہنچايا جائے تو اس پر عمل کرنا مناسب ہے-
علمی وتحقيقی رسائل ٤٠٦، اداره غفران

Have a question that needs a clear, sourced answer?
Submit your question privately. Our team reviews each submission and responds with a researched answer, citing the references used.