Daily Life & Etiquette

Coloured abayas, scarfs, or niqabs in public

Answered
June 3, 2026
The Question

What is the ruling about wearing different colours abayas, scarfs, or niqabs in public?

The Answer
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب حامدا ومصليا ومسلما

In principle, the purpose of clothing is to conceal a woman’s beauty. Thus, wearing different coloured abayas, scarves, niqab, or burqa in public will be permissible with the following conditions:

1.    It conceals the body completely

2.    The clothing is loose enough that it does not reveal the contour of the body

3.    Does not attract unnecessary attention to the public with colours (bright or shiny) or designs (embroidery or adorning pattern)

 

Allāh Ta’āla Knows Best

Answered by
Maulana Bakhtiyar Ahmed
Approved by
Mufti Husain Ahmad Madani

References

 

قلت: وقد علمت أن العبرة للحمة لا للظاهر على الظاهر، فافهم وكره لبسالمعصفر والمزعفر الأحمر والأصفر للرجال مفاده أن لا يكره للنساء ولا بأس بسائرالألوان) وفي المجتبى والقهستاني وشرح النقاية لأبي المكارم: لا بأس بلبس الثوبالأحمر اهـ. ومفاده أن الكراهة تنزيهية لكن صرح في التحفة بالحرمة فأفاد أنهاتحريمية وهي المحمل عند الإطلاق، قاله المصنف

(ردالمحتار: ٩/٢١٥، دار الكتب العلمية)

لبس الثياب الجميلة يباح إذا لم يتكبر بها، كما أن جمع المال الحلالحلال، إذا لم يضيع الفرائض ولا يمنع حقوق الله تعالى ولا يتكبر به

(مختارات النوازل: ٣/٣١، مؤسسة إيفا للطبعوالنشر)

 

سوال: عورت کے لئے سفید لباس پہنا کیسا ہے؟ جبکہ شوہر کو بہت پسند ہوبعض لوگ کہتے ہیں عورتوں کو سفید لباس نہیں پہننا چاہیے کیونکہ اس سے تشبہ بالرجاللازم آتا ہے۔

جواب: عورت کیلئے ہر رنگ کالباس پہنا جائز ہے اور اگر شوہر کو سفید رنگ کا لباس پسند ہے تو بیوی کو شوہر کیپسند کا لحاظ رکھتے ہوئے سفید لباس بھی زیب تن کرنا چاہیے، البتہ اگر کوئی ایساعلاقہ ہو کہ جہاں سفید لباس صرف مردوں کا شعار سمجھا جاتا ہو تو وہاں پر عورتوں کوچاہیے کہ لباس پر کوئی کڑھائی وغیرہ کر کے کپڑے پہنیں تا کہ تشبہ بالرجال لازم نہآئے۔

(فتاوي عباد الرحمن: ٥/١٩٤، دار الإفتاء والتحقيق)

سوال: کس قسم کے رنگ کا کپڑا شریعت مطہرہ میں برقع کے لئے استعمالکرنا چاہئے؟

جواب: ہر قسم کے رنگین کپڑےکا برقع استعمال کرسکتی ہے، اصل چیز ڈھانچتا ہے۔

(آپ کے مسائل اور ان كا حل:٨/٧٢، مكتبه لدهيانوي)

عورت کے لئے ہر رنگ کے کپڑے پہنا نیز ریشم کے کپڑے پہننا جائز ہے

(فتاوي دينيه: ٥/٦٦)

مردوں کے لئے سفید رنگ کا کپڑا پہنا افضل ہے اور زعفرانی رنگ کا کپڑاپہننا ممنوع ہے اسی طرح بالکل سرخ رنگ کا کپڑا پہنا ممنوع (مکروہ) ہے۔ (در مختارج: ۵، ص: ۲۲۷، امداد الفتاویٰ)اور عورتیں ہر طرح کے رنگ کے کپڑے پہن سکتی ہیں۔ (عورتوں کے لئے باریک کپڑا پہنا جسسے ستر کے اعضاء چھپ نہ سکیں گناہ ہے)

(فتاوي دينيه: ٥/٥٩)

رنگین لباس جو عورتوں یا ہیجڑوں یا فساق فجار کے لباس کے مشابہ ہو،پہنا نا جائز ہے

(كفايتالمفتي: ١٢/٣٠٤، اداره فاروق كراچي)

جو لباس کفار یا فساق یا مردوں کے ساتھ مخصوص ہے، عورتوں کو اس کااستعمال ناجائز ہے، جو مشترک ہے، اس کا استعمال جائز ہے، تا ہم صلحاء کا لباس جوعورتوں کے ساتھ مخصوص ہو اس کا استعمال ستحسن ہے

(فتاوي محموديه: ٢٨/٧٩-٨٠، دار الاشاعت)

سوال: ۔ شادی شدہ عورت کے لئے چوڑیاں اور کالی پوت کا مالا ضروری ہے؟

الجواب: چوڑیاں اور کالی پوتکا مالا شادی شدہ عورت کے لئے ضروری نہیں، البتہ ایسی ہیئت نہ بنائے جس سے شوہر کونفرت ہو اور دوسرے یہ سمجھیں کہ یہ شوہر کے انتقال کی وجہ سے سوگ میں ہے۔

(فتاوي محموديه: ٢٧/٤٢٧، دار الاشاعت)

سوال: ۔ آج کل جو شہروں میں یہ کالا برقعہ عام طور پر رائج ہے یہجائز ہے یا نہیں؟ اگر نا جائز ہے تو کیا علت ہے؟ ایک لباس ہے جس کا نام جمپر ہے،وہ اوپر سے بہت تنگ اور نیچے سے کچھ کھلا ہوتا ہے، اس کا استعمال کیسا ہے؟ نیزلہنگے کے بارے میں کیا خیال ہے؟ نیز عورتیں جو اپنے سروں پر لوہے کی سلاخیں لگاتیہیں، تا کہ بال آگے کی طرف نہ آئیں، وہ جائز ہیں یا نہیں؟ اور چھوٹی چھوٹی بچیاںجو تھوڑے تھوڑے بال کٹوا لیتی ہیں، اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟ نیز ہونٹوں پر سرخیکے بارے میں بھی کچھ روشنی ڈالئے؟

الجواب: جو لباس کفار یافساق کا شعار نہ ہو اور مقصو د ستر اس سے حاصل ہو جاتا ہے، تو وہ درست ہے، ورنہدرست نہیں سلاخیں تو وہ ہوتی ہیں، جو دروازے یا کھڑکی میں لگائی جاتی ہیں، تا کہروشنی اور ہوا آتی رہے، آدمی یا جانور کتا وغیرہ نہ آسکے، وہ سلاخیں سر میں کیسےلگائی جاتی ہیں؟ چھوٹی بچی کا تو سر منڈا بھی دیا جاتا ہے، جیسا کہ عقیقہ کے وقتاس میں کوئی حرج نہیں، ہونٹ تو قدرت کی طرف سے سرخ ہوتے ہیں اس کے متعلق کیاپوچھنا

(فتاوي محموديه: ٢٧/٤٢٨، دارالاشاعت)

نیز حضرت مفتی محمد شفیع صاحب احکام القرآن میں اس بارے میں جوفرماتے ہیں اس کا ترجمہ تحریر کیا جاتا ہے:

جان لیجئے کہ جس زینت کے ظاہر کرنے سے اللہ تعالی نے منع فرمایا ہے۔میرے نزدیک اس میں وہ لباس بھی شامل ہے جسے ہمارے زمانہ کی اکثر آزاد عورتیں اپنےکپڑوں کے اوپر پہنتی ہیں اور اپنے گھروں سے نکلتے ہوئے اس سے پردہ کرتی ہیں اور وہمختلف رنگی ریشمی بنی ہوئی چادر ہوتی ہے اور اس میں آنکھوں کو اچھے لگنے والےسونے،چاندی کے نقش ونگار ہوتے ہیں۔

...نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات صحابہ کے زمانہ میں برقعہ کس رنگ کا ہوتاتھا، اس بارے میں تفصیل تو نہیں مل سکی، البتہ بعض احادیث سے حضرات صحابیات رضیاللہ عنہن کے کالی چادر اور اوڑھنی پہنے کا ثبوت ملتا ہے۔ چنانچہ تفسیر ابن کثیر میںہے:

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں کہ جب آیت ولیدنین عليهن من جلابيبهن کے نازل ہوئی تو انصاری عورتیں ایسے سکون سے باہر رکھتیں گویاان کے سروں پر کوے بیٹھے ہوں اور وہ اپنے کپڑوں پر کالی چادریں اوڑھی ہوئی ہوتیں ۔

... صورت مسئولہ میں سیاہ برقعہ پہننے میں شرعا کوئی قباحت نہیں۔چادر یا برقعہ اوڑھنے سے عورت کا اصل مقصود پردہ کرنا اور اجنبی مردوں سے اپنے آپکو چھپانا ہے۔ اس میں کوئی خاص رنگ یا کوئی خاص برقعہ اور اور ضروری نہیں۔ اور اوربرقعہ سیاہ ہو یاکسی اورنگ کا، اگر اس سے عمل پردہ ہو جاتا ہے اور اس میں کسی قسمکی بے پردگی نہیں ہوتی تو اس کا پہنا جائز ہے۔ کسی خاص رنگ کے برقعہ پہننے کوضروریسمجھنا اور اس کے علاوہ دیگر رنگ کے برقعوں کو نا جائز سمجھنا غلط ہے۔ جبکہ حضراتصحابیات سے کالی چادر اوڑھنا روایات سے ثابت ہے۔

(فتاوي بينات: ٤/٤٦١-٤٦٢، مكتبه بينات)

بعض لوگ کہتے ہیں کہ جیسا دیس و ویسا بھیس اور جس ملک میں جو لباسعزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے وہ پہنا جائے ، شرعی حکم کیا ہے؟

جواب: - لباس کے لیے اسلام نے چند خاص حدود متعین کر دی ہیں، ان کےاندر رہ کر جو بھی لباس اختیار کیا جائے درست ہے۔ اول یه که مرد وعورت کے جسم کاوہ حصہ چھپ جائے جن کا ستر اور پردہ واجب ہے، اور اتنا باریک اور چست بھی نہ ہو کہجسم کے اعضاء نمایاں ہوں۔ دوم یہ کہ کفار سے ایسی مشابہت نہ ہو کہ اس لباس کو دیکھےتو کوئی خاص قوم سمجھ میں آتی ہو، اور نہ اس لباس کا تعلق غیر اسلامی شعار سے ہو،جیسے زنار سکھوں کی پگڑی وغیرہ۔ تیسرے نخنوں سے نیچے نہ ہو یہ حکم صرف مردوں کے لیےہے۔ چوتھے مردوں کے لیے ریشمی اور شوخ رنگ کے لباس بھی ممنوع ہیں، ان حدود کی رعایتکے ساتھ جو بھی لباس ہو جائز ہے، البتہ ہر جگہ کے اہل دین اور ثقہ لوگوں کا جولباس ہو، اس کی ھے اتباع زیادہ بہتر اور مستحب ہے۔

(كتاب الفتاوي: ٦/٩٥، كتب خانه نعيميه ديوبند)

 

Q: Is it best forone who wears niqab to wear all black? I know it is permissible to wear othercolors as long as it isn't bright or attractive, but I was just wondering whichis best.

A: The Burqa' andNiqab of a woman serve to conceal her beauty. As such, the Burkaand Niqab should:

1) Completelyconceal the body.

2) Be loose suchthat it does not show the outline and contours of the body.

3) Not be beautifulor of eye-catching colours, that it attracts attention. This includes brightand shiny embroidery and beads.

4) Not be unusualor extraordinary such that it attracts attention. It is preferable to wear acolour that is commonly worn in that particular area.

According to theprinciples outlined above, it is permissible for a woman to wear a Burqa' orNiqab of any colour long as it does not violate any of the above-mentionedconditions

(ContemporaryFatawa: 2/205, Darul Iftaa Mahmudiyyah)

For your questions

Have a question that needs a clear, sourced answer?

Submit your question privately. Our team reviews each submission and responds with a researched answer, citing the references used.