What is the ruling of keeping a beard and what is the minimum required length

Beard and it's Minimum Length
What is the hukm of keeping a beard and what is the minimum required length?
الجواب حامدا ومصليا ومسلما
The ruling for the length of growing the beard is derived from the following narrations:
Imaam Bukhari (Rahimahullaah) reports on the authority of Imaam Naafi' (Rahimahullah) who narrates from Sayyiduna Abdullah ibn Umar (Radhiallaahu Anhu) that Rasulullah (Sallallaahu Alayhi Wasallam) said, 'Oppose the Mushrikeen (polytheists); lengthen the beards and trim the moustaches.
Imaam Naafi' (Rahimahullah) further states, 'And ibn Umar (Radhiallaahu Anhu) during Hajj or Umrah used to hold on to his beard with his fist and cut off whatever was in excess of that.
A similar hadith has also been narrated by Sayyiduna Abu Hurayra (Radhiallaahu anhu) who is reported to have trimmed his beard up to one fist as well.
Both the aforementioned ahadith imply that it is obligatory for a person to grow his beard until it reaches the length of a fist. Cutting the beard lower than a fist’s length will result in a person being sinful.
And Allāh Ta’āla Knows Best
References
عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ: "خَالِفُوا الْمُشْرِكِينَ، أَوْفُوا اللِّحَى، وَأَحْفُوا الشَّوَارِبَ".
وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا حَجَّ أَوْ اعْتَمَرَ، قَبَضَ عَلَى لِحْيَتِهِ، فَمَا فَضَلَ أَخَذَهُ.
صحيح البخاري ٧\٤٦٥، دار التاصيل
عن ابن عمر رضي الله عنه انه كان يقبض علي لحيته ثم يقبض ما تحت القبضة - قال محمد وبه نأخذ وهو قول ابي حنيفة
كتاب الآثا ر٢/ ٨٥٧، دار السلام
والسنة فيها القبضة وهو ان يقبض الرجل لحيته فما زاد منها علي قبضه قطعه. كذا ذكره محمد في كتاب الأثار عن الامام قال وبه نأخذ.
رد المحتار ٩/٥٨٣، دار الكتب العلمية
وكره قصها وقص اللحية من سنن الاعاجم وهو اليوم شعار كثير من المشركين والافرنج والهنود ومن لا خلاق له في الدين ممن يتبعونهم ويحبون ان يتزيو بزيهم. وقال في الدر المختار ولا باس بنتف الشيب واخذ اطراف اللحية والسنة فيها القبضة وهو ان يقبض الرجل لحيته فما زاد منها علي قبضة قطعه كما ذكر محمد في كتاب الآثار عن الامام قال وبه نأخذ.
ثم قال وكذا يحرم علي الرجل قطع لحيته فعلم من ذلك ان ما يفعله بعض من لا خلاق له في الدين من المسلمين في الهند والاتراك حرام نعم اذا نبتت اللحية للمرأة فيستحب لها حلقها
بذل المجهود ١/٣٣٦، دار البشائر
وقص اللحية من صنع الاعاجم وهو اليوم شعار كثير من المشركين كالافرنج والهنود ومن لا خلاق له من الطائفة القلندري ة وقال ابن ملك واما الاخذ من اطراف اللحية طولها او عرضها للتناسب فحسن لكن المختار ان لا يأخذ منها شيئا الا اذا نبتت اللحية للمرأة فيستحب لها حلقها
المرقاة المفاتيح ٢/٨٤، دار الكتب العلمية
وبما قررناه اندفع ما في البدائع من ان الصحيح ان السنة فيه القص واعفاء اللحية تركها حتي تكث وتكثر والسنة قدر القبض فما زاد قطعه
البحر الرائق ٣/ ١٩، دار الكتب العلمية
ولا بأس اذا طالت لحيته ان يأخذ من اطرافها ولا بأس ان يقبض علي لحيته فان زاد علي قبضته منها شيء جزه وان كان ما زاد طويلة تركه كذا في الملتقط والقص سنة وهو ان يقبض الرجل لحيته فان زاد منها علي قبضته قطعه كذا ذكر محمد رحمه الله تعالي في كتاب الآثار عن ابي حنيفة رحمه الله تعالي قال وبه ناخذ كذا في محيط السرخسي. ولا يحلق شعر حلقه وعن ابي يوسف رحمه الله تعالي لا بأس بذلك ولا باس بأخذ الحاجبين وشعر وجهه ما لم يتشبه بالمخنث كذا في الينابيع
الفتاوي الهندية ٥/ ٤٣٨، دار الكتب العلمية
ولا بأس بنتف الشيب واخذ أطراف اللحية والسنة فيها القبضة وفيه: قطعت شعر راسها اثمت ولعنت. زاد في البزازية وان باذن الزوج لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق ولذا يحرم علي الرجل قطع لحيته والمعني المؤثر التشبه بالرجا ل
رد المحتار ٩/٥٨٤، دار الكتب العلمية
ولا يفعل لتطويل اللحية اذا كانت بقدر المسنون وهو القبضة.
وفي حاشيته قال: وما وراء ذلك يجب قطعه هكذا عن رسول الله ﷺ انه كان يأخذ من اللحية من طولها وعرضها فان قلت يعارضه ما في الصحيحين... فالجواب انه قد صح عن ابن عمر راوي هذا الحديث انه كان ياخذ الفاضل عن القبضة... وعن النبي ﷺ يحمل الاعفاء علي اعفائها من ان يأخذ غالبها او كلها كما هو فعل مجوس الاعاجم من حلق لحاهم... فيقع بذلك الجمع بين الروايا ت -
واما الاخذ منها وهي دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة ومخنثة الرجال فلم يبحه احد
الفتح القدير ٢/٣٥٢ رشيديه
ولا يحل إذا لم يقصد الزينة او تطويل اللحية اذا كانت بقدرالمسنون وهو القبضة وصرح في النهاية بوجوب قطع ما زاد علي القبضة
واما الاخذ منها وهي دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة ومخنثة الرجال فلم يبحه احد واخذ كلها فعل يهود الهند ومجوس الاعاجم.
قال في حاشيته: ان ما استدل به صاحب النهاية لا يدل علي الوجوب... ولذا حذف الزيلعي لفظ يجب وقال وما زاد يقص وفي شرح الشيخ اسماعيل لا باس بان يقبض علي لحيته فاذا زاد علي قبضته شيء جزه كما في المنية وهو سنة كما في المبتغي وفي المجتبي والينابيع وغيرهما: لا بأس باخذ اطراف اللحية اذا طالت.
وتحت قوله واما الأخذ منها ا قال: بهذا وفق في الفتح بين ما مر وبين ما في الصحيحين عن ابن عمر عنه ﷺ احفو الشوارب واعفو اللحي لانه صح عن ابن عمر.. انه كان يأخذ الفاضل عن القبضة
رد المحتار ٣/٣٩٨، دار الكتب العلمية
ولا يفعل لتطويل اللحية اذا كانت بقدر المسنون وهو القبضة كذا في الهداية وكان ابن عمر يقبض علي لحيته فيقطع ما زاد علي الكف...وما في الصحيحين عن ابن عمر عنه عليه الصلاة والسلام احفو الشوارب واعفو اللحي فمحمول علي اعفائها من ان ياخذ غالبها او كلها كما هو فعل مجوس الاعاجم من حلق لحاهم فيقع بذلك الجمع بين الروايات وأما الأخذ منها وهي دون ذلك كما يفعل بعض المغاربة والمخنثة من الرجال فلم يبحه احد كذا في فتح القدير. وقد صرح في النهاية بوجوب قطع ما زاد علي القبضة بالضم ومقتضاه الاثم بتركه
البحر الرائق ٢/ ٤٩٠، دار الكتب العلمية
جميع اللحية.. وظاهر كلامهم ان المراد بها الشعر النابت علي الخدين من عذار وعارض الذقن وفي شرح الارشاد اللحية الشعر النابت بمجتمع الخدين والعارض وما بينهما وبين العذار وهو القدر المحاذي للاذن يتصل من الاعلي بالصدغ ومن الاسفل بالعارض
رد المحتار ١/٢١٥، دار الكتب العلمية
ايک مشت تک پہونچنے سے پہلے پہلے کٹوانا بالاتفاق ناجائز ہے- حديث شريف ميں حضور اقدس ﷺ نے صاف طور سے ڈارهی رکهنے اور بڑهانے کا حکم فرمايا
فتاوي محموديه جلد ١٩/٣٩٢، فاروقيه
داڑهی کا رکهنا واجب ہے اور منڈانا اور ايک قبضہ تک پہونچنے سے پہلے کٹانا ناجئز ہے
فتاوي محموديه جلد ١٩/٣٩٤، فاروقيه
خط بنوانا يعنی جو بال داڑهی کی حد سے بڑه کر رخسار پر پيدا ہوگئے ہوں ان کو منڈوانا درست ہے، نيچے جو لب کے بال ہوتے ہيں ان کو منڈوانا منع ہے حلق پر جو بال ہوتے ہيں ان کو بهی نہيں منڈوانا چاہئے
ان الفاظ کا تقاضہ تها کہ بڑهانے کی کوئی حد مقرر نہ ہوتی اور کٹانا بالکل جائز نہ ہوتا مگر حديث کے راوی صحابی کا معمولی تها کہ ايک مشت سے جو مقدار آگے بڑه جاتی اس کو کٹا ديتے۔ اس حديث کو امام محمد رحمہ الله نے کتاب الآثار ميں روايت کيا ہے اور اس کو امام ابو حنيفہ رحمہ الله کا مذہب قرار ديا ہے۔۔۔ صحابہ نے اس حديث شريف کا وہی مطلب سمجها اور اسی پر اجماع ہے
يہ گمان نہيں کيا جاسکتا کہ ان کو يہ حديث نہيں پہونچی ہو کيونکہ وه خود اس کے راوی ہيں اگر ان کا عمل نہ ہوتا تو ايک مشت سے زائد کو بهی کٹانے کی اجازت نہ ہوتی
اب اور كوئی شخص ايک مشت سے پہلے ہی کٹانے کو جائز کہتا ہے وه ثبوت پيش کرے کہ کس حديث سے ثات ہے، کيونکہ يہ کٹانا بڑهانے کی ضد ہے جس کی ممانعت کے امر حضور اقدسﷺ کے دوامی عمل سے ہے صحابہ کرام کے اجماع و توارث سے ہے بلکہ يہ "ما انا عليہ واصحابی" کی بناء پر شعار ميں داخل ہے اس کو فقط صحابہ کرام کا طرز عمل کہہ کر ہلکا اور خفيف سمجهنا خطرناک ہے اسی وجہ سے فقہائے کرام نے فرايا کہ ايک مشت سے پہلے قطع کرنا کسی کے نزديک مباح نہيں
داڑهی کی حد شرعی ايک قبضہ ہے، امما محمد رحمہ الله نے کتاب الآثار ميں سند کے ساته اس کو نقل کيا ہے، فتح القدير اور در مختار وغيره کتب فقہ ميں لکها ہے کہ ايک مشت تک پہنچنے سے پہلے کاٹنا يا کاٹ کر ايک مشت سے کم کرالينا کسی کے نزديک بهی مباح نہيں کسی نے اس کو مباح قرار نہيں ديا- اجماع کے درجہ ميں ہے
داڑهی کی جو مقدار ايک مشت سے زائد ہوجائے اس کو کٹانے کی اجازت ہے اس سے پہلے اجازت نہيں، جو شخص داڑهی منڈاتا ہے يا چهوٹی يا ايک انگل دو انگل رکهتا ہے، ايک مشت کی مقدار نہيں پہونچنے ديتا۔۔۔ دونوں خلاف شرع کے مرتکب اور گنہگار ہيں
ڈارهی کے چهوٹے بڑے بالوں کو برابر کرنا۔۔۔ الجواب: نہيں کرنا چاہئے جو بال ايک مشت سے زائد ہوجائيں ان کو کاٹ سکتا ہے
فتاوي محموديه ١٩/٣٩٤ الي ١٩/٤٠٦ فاروقيه
مٹهی سے زياده ڈاڑهی کتروانا جائز ہے۔۔۔ مقدار قبضہ يعنی ايک مٹهی سے اگر ڈاڑهی زائد ہوجائے اس وقت کتروانا درست ہے
امداد الفتاوي ٤/٢٢٠، زكريا بك ڈبوڈ
ڈاڑهی رکهنا واجب اور قبضہ سے زائد کٹانا حرام ہے
امداد الفتاوي ٤/٢٢٣، زكريا
چاروں ائمہ اور جمہورعلماء امت اس بات پر متفق ہيں کہ کم از کم ايک مشت (٤ انگل) داڑهی رکهنا واجب ہے، اور اس سے کم رکهنا جائز نہيں ہے- نبی اکرم ﷺ نے داڑهی بڑهانے کی سخت تاکيد فرمائی اور داڑهی نہ رکهنے پر سخت وعيد فرمائی ہے
داڑهی کی حد کنپٹی کے برابر ابهری ہوئی ہڈی سے لے کر دوسری کنپٹی کے برابر ابهری ہوئی ہڈی تک ہے اور نيچے والے
ہونٹ سے لے کر ٹهوڑی کے نيچے تک جو بال آئيں وه سب داڑهی ميں داخل ہيں نيز حلق اور حلق کے اوپر کے بال نہ منڈائے جائيں البتہ حلق سے نيچے کے بال منڈانے ميں کوئی حرج نہيں
كتاب النوازل ١٥/ ٥٥٤، دار الاشاعت
داڑهی کا ہر جانب مقدار قبضہ ہونا ضروری ہے، اس سے کم ہونے کی صورت ميں اس کا کترنا جائز نہيں ہے
ہر مسلمان پر ايک مشت داڑهی رکهنا واجب ہے، جو شخص ڈاڑهی مونڈتا يا ايک مشت ہونے سے پہلے داڑهی کٹاتا ہے، خسخسی کرتا ہے تو وه سخت گنہگار اور شرعا فاسق ہے
داڑهی کی مقدار کم از کم ايک مشت ہونا ضروری ہے اس سے کم رہتے ہوئے داڑهی کو کٹانے اور منڈانے والا شخص سخت گنہگار مخالف سنت اور فاسق ہے-
آج کل جو ايک فيشن چلا ہے کہ داڑهی کاٹ کر لوگ چهوٹا کرديتے ہيں اور خط لگا کر يہ کہتے ہيں کہ اتنی ہی داڑهی رکهنی چاہئے
الجواب: داڑهی مونڈنا حرام ہے اسی طرح ايک مشت سے کم رہتے ہوئے داڑهی کتروانا بهی درست نہيں ہے -
كتاب النوازل ١٥/ ٥٥٤ الي ١٥/ ٥٥٩، دار الاشاعت
شريعت مطہره نے مردوں پر داڑهی رکهنے کو واجب اور لازم قرارديا ہے، اور اس کی کم از کم حد طولا و عرضا ايک مشت ہے، يعنی ڈاڑهی ايک مشت سے کم کرنا ناجائز ہے، يہ ائمہ اربعہ کا متفقہ اور مسلمہ حکم ہے - ايک مشت سے پہلے ڈاڑهی کٹانے وا؛ا يا چهوٹی رکهنے والا فاسق و فاجر ہے
فتاوي دار العلوم زكريا ٧/ ٢٨٦، زمزم
عربی ميں لحي اس ہڈی کو کہتے ہے جس پر دانت ہوتے ہيں اور چونکہ ڈاڑهی اسی ہڈی پر پيدا ہوتی ہے اسی لئے ڈاڑهی کو لحيۃ کہتے ہيں پس اس ہڈی پر جو بال ہوں ان کو کٹوانا يا منڈوانا جائز نہيں ہے
فتاوي دار العلوم زكريا ٧/ ٢٨٩، زمزم
ريش بچہ يعنی ہونٹ کے نيچے ٹهوری پر جو بال ہوتے ہيں يہ ڈاڑهی کے حکم ميں ہے اور بچہ کے دونوں جانب لب زريں کے بال منڈوانے کو فقہاء نے بدعت لکها ہے
فتاوي دار العلوم زكريا ٧/ ٢٩٠، زمزم
مذکوره بالا آثار سے پتہ چلتا ہے کہ بہت سے صحابہ کرام کا عمل ايک مشت ڈاڑهی رکهنے کا تها نيز يہ مقدار صحابہ کرام نے نبی پاکﷺ کے عمل سے اخذ کی ہوگی کيونکہ اس ميں قياس کا کوئی دخل نہيں ہے - اور احناف کا يہی مذہب ہ ے
فتاوي دار العلوم زكريا ٧/ ٢٩٣، زمزم
احاديث کی روشنی ميں ايک مشت ڈاڑهی رکهنا وا جب ہے اور ايک مشت سے پہلے ڈاڑهی کٹانے والا يا چهوٹی رکهنے والا فاسق و فاجر ہے
فتاوي دار الع لوم زكريا ٧/ ٢٩٥، زمزم
ڈاڑهی رکهنا سنت مؤکده ہے جو سنن فطرت ميں داخل ہے۔۔۔ حديثيں اس باب پر بہت ہی زياده ہے اور ظاہر ہے کہ وه سب ہی وجوب پر دلالت کرتی ہے۔۔۔ علمائے احناف کا يہ فيصلہ ہے کہ ڈاڑهی منڈوانا حرام ہے۔۔۔
حلية المسلمين مع رساله اعفاء اللحية ٢٦ -٣٣، مكتبه صفدريه
واضح ہوجاتاا ہے اس سے کہ علامہ کا رجحان يہ ہے کہ ڈاڑهی رکهنا نہ صرف يہ کہ سنت ہے بلکہ واجب ہے اور حق بات بهی صرف يہی ہے - جس ميں شک و شبہ کی مطلقا سرے سے گنجائش ہی نہيں۔۔۔ ان مذکوره تين دليلوں ميں سے ہر ايک دليل ڈاڑهی رکهنے کے وجوب اور اس کے منڈوانے کے حرام ہونے پر واضح حجت ہے - اور اسی طرح مذاہب اربعہ اسی حکم پر جو ان دلائل سے ثابت ہوتا ہے اتفاق رکهتے ہيں
حلية المسلمين مع رساله اعفاء اللحية ٣٤ -٤٩، مكتبه صفدريه
ليکن ڈاڑهی کے کم کرانے کو معيوب نہيں سمجهتے حالانکہ شريعت مطہره ميں جس طرح ڈاڑهی رکهنے کا حکم ہے اس طرح اس کی ايک مقدار بهی متعين ہے چنانچہ اس سے کم رکهنا شرعا معتبر نہيں اور وه مقدار ايک قبضہ ہے - اس سے کم کرنا بالاتفاق تمام علماء کے نزديک ناجائز و حرام ہے
داڑھی کا وجوب ١٠، مکتبۃ الشيخ بہادر آباد
امر وجوب کے لئے ہوتا ہے، پس معلوم ہوا کہ يہ دونوں حکم واجب ہيں اور واجب کا ترک حرام ہے - پس داڑهی کٹانا اور موچهيں بڑهانا دونوں حرام فعل ہيں
داڑھی کا وجوب ١٤، مکتبۃ الشيخ بہادر آباد
اسی طر ح اور دوسرے حضرات نے بهی ڈاڑهی کے وجوب پر ائمہ کا اجماع نقل کيا ہے - علامہ قرطبی فرماتے ہيں کہ ڈاڑهی کا منڈانا اور اس کا نوچنا اور اس کا کترنا سب ناجائز ہے
داڑھی کا وجوب ٢١، مکتبۃ الشيخ بہادر آباد

Have a question that needs a clear, sourced answer?
Submit your question privately. Our team reviews each submission and responds with a researched answer, citing the references used.