In sajdah, should the heels/ankles of both feet be touching? Or should each foot be straight?

Do your ankles touch in sajdah?
In sajdah, should the heels/ankles of both feet be touching? Or should each foot be straight?
الجواب حامدا ومصليا ومسلما
One should keep their heels/ankles apart from each foot in sajdah. The foot should be straight with the toes facing towards qibla.
And Allāh Ta’āla Knows Best
References
رکوع میں دونوں ٹخنوں کا ملانا سنت ہے یا نہیں- اگر کوئ شخص اس پر عامل ہو تواس کو منع کرنا جائز ہے یا نہ؟
جواب: شامی میں ہے ويكره القيام على أحد القدمين في الصلوة بلا عذر وينبغي ان يكون بينهما مقدار أربع اصابع اليد لانه أقرب الي الخشوع... وما روي انهم الصقو الكعاب بالكعاب اريد به الجماعة اي قام كل واحد بجانب الآخر كذا في فتاوي المسرقند
تجربہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ رکوع اور سجود میں الصاق الکعبین حقیقہ متعذر ہے یا بہت تکلف اور دقت سے ہوتا ہے- ایڑیوں کو تو ملایا جاسکتا ہے مگر تجربہ سے معلوم ہوا کہ ایڑیوں کے ملانے سے کعبین نہیں ملتے البتہ محاذات کعبین پوری طرح اس میں حاصل ہوجاتی ہے اور یہی مقصود شارع علیہ السلام معلوم ہوتا ہے جیسے کہ احادیث سے ثابت ہے-
(فتاوی دارالعلوم دیوبند: ٢/٢٠٣، دار الاشاعت)
حدیث ثانی مردوں کے لئے رکوع وسجود میں سنت تجافی کے مطابق ہے وکفی به مرجحا... نیز نماز میں امرخشوع سے بھی اسی کی ترجیح ثابت ہوتی ہے کیونکہ بلا ضرورت حرکت خشوع کے منافی ہے-
(أحسن الفتاوی: ٣/٥٠، ایچ ایم سعید)
جب بندہ کی نظر سے در مختار کا یہ جزئیہ گزرا اسی وقت سے قلب نے اس کو قبول نہیں کیا اس لئے کہ یہ کلیات ذیل کے خلاف ہے:-
مردوں کے لئے رکوع وسجود میں تجافی، پاؤں کی انگلیوں کا قبلہ رخ ہونا الصاق کعبین سے انگلیاں قبلہ رخ نہیں رہ سکتی، نماز میں بلا ضرورت حرکت کرنا-
مندرجہ بالکلیات احادیث صحیحہ سے ثات ہیں اور بالاتفاق مسلم ہیں-
کلیات مذکورہ کے خلاف ہونے کے علاوہ الصاق کعبین کی نہ کسی حدیث سے تائید ہوتی ہے اور نہ ہی ائمہ مذہب سے اس کا کوئ ثبوت ہے اور نہ جمہور فقہاء نے اس کا ذکر کیا ہے- اس لئے بندہ شروع ہی سے قولا وعملا اس کے خلاف رہا ہے-
مجتبی میں الصاق الکعبین کے ساتھ استقبال الاصابع القبلہ کا ذکر بین دلیل ہے کہ الصاق سے ان کا مراد وہی ہے جو سعایہ میں علامہ سندھی رحمہ اللہ سے نقل کی گئ ہے یعنی کعبین میں محاذاۃ اس لئے کہ الصاق بمعنی ضم کی صورت میں پاؤں کی انگلیاں مستقبل قبلہ نہیں ہوسکتی-
(أحسن الفتاوی:٣/٤٠، دارالاشاعت)
مولانا عبد الحئ رحمہ اللہ نے سعایہ میں اصالہ رکوع میں الصاق کعبین کی تردید فرمائ ہے اور ہم اس میں ان کے ساتھ اتفاق رکھتےہیں- ضمنا سجدہ میں الصاق کی تردید ہوگئ ہے یہ صحیح ہے، لیکن اس کی وجہ غالبا یہ ہے کہ ضم عقبین کی حدیث حضرت مولانا رحمہ اللہ کی نظر میں نہیں ہے۔۔۔ اور خود مولانا رحمہ اللہ نے سجدہ کے بیان کے وقت اس مسئلہ سے تعرض نہیں کیا- ہاں سجدہ کے بیان میں ضم فخذین کو سنت بتایا اور ابو داؤدد کی حدیث کا حوالہ دیا-
(مرغوب الرسائل: ١/٩٨، جامعة القرأة كفلية)
فقہاۓ احناف میں سے متقدمین کی کتابوں میں اس کا ذکر نہیں ملتا البتہ بعض متأخر من فقہاء نے ذکر فرمایا ہے تواس کا مطلب ایڑیوں کو ملا نانہیں ہے بلکہ محاذات اور برابر رکھنا ہے، نیز رکوع میں بھی یہی معنی مراد ہے۔
(فتاوی دار العلوم زکریا: ٢/١٦٥، پبلشرز)
وبعد ذلك فلا حاجة الي اقامة الدليل علي سنية هذا الالصاق إذا ثبت ضعف نقله في المذهب ونص الطحاوي علي سنية التجافي بين الاعضاء في الركوع والسجود جميعا
(امداد الاحكام: ١/٢٧٨، مكتبه دارالعلوم كراتشي)

Have a question that needs a clear, sourced answer?
Submit your question privately. Our team reviews each submission and responds with a researched answer, citing the references used.