The Question

‎Is it permissible to pray qadha salah in congregation? If so, will that be better than praying alone?

The Answer
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب حامدا ومصليا ومسلما

From the outset, it is important that we pray our ṣalawāt within its appointed time and should make every effort accordingly to do so. If one so happens to miss a ṣalāh and it becomes qadhā upon them, it will be better to make up the prayer in congregation if multiple people have also missed that particular prayer. It should be noted that congregation prayer for qadhā can only be established if the intention amongst the people is for the same missed prayer from the same day.  

Note: When praying qadhā ṣalāh, it is essential that it is done in such a manner that does not reveal that you have missed a ṣalāh to other people. 

Allāh Ta’āla Knows Best

Answered by
Maulana Bakhtiyar Ahmed
Approved by
Mufti Husain Ahmad Madani

References

وإذا قضى الفوائت إن قضاها بجماعة، وكان صلاة يجهر فيها بالقراءة يجهر فيها الإمام، وإن قضاها وحده يخير إن شاء جهر، وإن شاء ٦ي٦٥ت٦٧يتيب٦خافت والجهر أفضل، ويخافت فيما يخافت حتما، وكذلك الإمام، وفي الوقاية المنفرد خُيّر إن أدى وخافت حتما إن قضى اليتيمة: سئل والدى عن رجل عليه صلوات كثيرة أراد أن يقضيها هل عليه أن ينوى أن هذا أمسية، أو أول من أمس؟ فقال: لا يجب.

(الفتاوي التاتارخانية: ٢/٤٥٤، زكريا)

- ولو فاتت من جماعة صلاة فجر أو ظهر من يوم واحد، جاز لهم قضاؤها بالجماعة، لأن الموجب واحد فيتحد الواجب معنى، ولو كان في فجر أيام لكل واحد فجر يوم أو ظهر يوم واحد لا يجوز لهم أن يقتدوا بواحد منهم لاختلاف الأوقات وهي معالم للوجوب، فصار كأن الفروض مختلفة فلا يجوز الأقتداء.

(الفتاوي التاتارخانية: ٢/٤٥٥ت٥٧، زكريا)

ومتى قضى الفوائت إن قضاها بجماعة فإن كانت صلاة يجهر فيها يجهر فيها الإمام بالقراءة، وإن قضاها وحده يتخير بين الجهر والمخافتة الجهر أفضل كما في الوقت ويخافت فيما يخافت فيه حتماً وكذا الإمام كذا في الظهيرية، الترتيب بين الفائتة والوقتية وبين الفوائت مستحق كذا في الكافي.

(الفتاوي الهندية: ١/١٣٤، دار الكتب العلمية)

ومن فاتته صلاة عن وقتها فقضاها في وقت آخر أذن لها وأقام، واحدا كان أو جماعة؛ لحديث ليلة التعريس حين نزل رسول الله عليه الصلاة والسلام في وادى، فقال: " من يكلأنا الليلة، قال بلال أو أنس رضى الله عنهما: أنا، فغلب رسول الله ﷺ النوم، فتوسد رسول الله ﷺ إلى مؤخر رحله، ونام، فلم يستيقظ حتى طلعت الشمس، وكان (۲) فاستيقظ ونادى، فاستيقظ النبى الله من منامه، وأمر بـ عمر رضى الله عنه معهم بلالا فأذن وصلى ركعتي الفجر، ثم أمر فأقام وصلى بهم الفجر (٣). وشغل رسول الله ﷺ عن أربع صلوات يوم الخندق، فقضاهن بعد هوى من الليل، قال ابن مسعود رضى الله عنه: أمر بلالا فأذن فأقام للأولى، ثم أقام لكل صلاة بعدها. وقال جابر رضى الله عنه: أمره فأذن وأقام لكل صلاة. وقال أبو سعيد الخدرى رضى الله عنه: أمره بالإقامة لكل صلاة. والمعنى فيه وهو: أن القضاء على هيئة الأداء وشبهه، ثم الأداء بالأذان والإقامة بجماعة، وكذلك القضاء، فإن اكتفوا بالإقامة لكل صلاة جاز؛ لأن الأذان لإعلام الناس، فلا حاجة إلى ذلك في القضاء، والإقامة لإقامة الصلاة، وهو محتاج إلى ذلك. ولكن الأحسن أن يؤذن ويقيم لكل صلاة؛ ليكون القضاء على سنن الأداء، ولأنه إن لم يكن محتاجا إلى الإعلام، فهو محتاج إلى إحراز الثواب، وقد عرف ثواب الأذان والإقامة

وذكر الشيخ الإمام الأجل شمس الأئمة السرخسى قال الشيخ الـفـقـيـه أبو جعفر الهندواني: فالأحسن أن يؤذن ويقيم للأولى، ثم بعد ذلك يقضى كل صلاة بإقامة من غير أذان؛ لأن المقصود من الأذان هو الإعلام وهم مجتمعون، فلا حاجة إلى الإعلام. أما الإقامة فللتأهب والتحريم، وهو محتاج إلى ذلك

وذكر الإمام الصفار: وإن صلوا بغير أذان وإقامة وجماعة يجوز؛ لأن فعل النبي عليه الصلاة والسلام يدل على الجواز، ولا يدل على الوجوب

وفي الجامع الهاروني “: قوم ذكروا فساد صلاة صلوها في غير وقت تلك الصلاة، قضوها بأذان وإقامة فى غير المسجد الذى صلوا فيه تلك الصلاة مرة، وإن ذكروا لها في وقتها صلوها في ذلك المسجد، ولا يعيدون الأذان والإقامة، فإن صلوا فائتة في ذلك المسجد صلوها وحدانا

(المحيط البرهاني: ٢/١٠٠-١٠١، إدارة القرآن)

(و) يسن أن يؤذن ويقيم لفائتة رافعاً صوته لو بجماعة أو صحراء لا ببيته منفرداً وكذا) يسنان لأولى الفوائت لا لفاسدة ويخير فيه للباقي) لو في مجلس، وفعله أولى، ويقيم للكل (ولا يسن) ذلك (فيما تصليه النساء أداء وقضاء) ولو جماعة كجماعة صبيان وعبيد، ولا يسنان أيضاً لظهر يوم الجمعة في مصر (ولا فيما يقضى من الفوائت في مسجد) فيما لأن فيه تشويشاً وتغليظاً (ويكره قضاؤها فيه) لأن التأخير معصية فلا يظهرها. بزازية.

وفي الحاشية: قوله: (لا لفاسدة) أي إذا أعيدت في الوقت، وإلا كانت فائتة. وفي المجتبى: قوم ذكروا فساد صلاة صلوها في المسجد في الوقت قضوها بجماعة فيه ولا يعيدون الأذان والإقامة، وإن قضوها بعد الوقت قضوها في غير ذلك المسجد بأذان وإقامة. لكن سيأتي أن الإقامة تعاد لو طال الفصل. قوله: (فيه) أي في الأذان. قوله: (لو) في مجلس أما لو في مجالس، فإن صلى في مجلس أكثر من واحدة فكذلك وإلا أذن وأقام لها. قوله: (وفعله أولى لأنه اختلفت الروايات في قضائه ﷺ ما فاته يوم الخندق، ففي بعضها أنه أمر بلالا فأذن وأقام للكل، وفي بعضها أنه اقتصر على الإقامة فيما بعد الأولى، فالأخذ بالزيادة أولى خصوصاً في باب العبادات، وتمامه في الإمداد. قوله: (ويقيم للكل) أي لا يخير في الإقامة للباقي، بل يكره تركها كما في نور الإيضاح.

(رد المحتار: ٢/٥٧-٥٩، دار الكتب العلمية)

 

 

: - در مختار میں قضار فوائت کو مسجد میں مکر وہ لکھا ہے یعنی مکروہ تحریمی اور دلیل یہی ہے کہ نماز کو وقت سے مؤخر کر نا معصیت ہے اس لئے اس کو ظاہر نہ کرے اور علامہ شامی نے اس کے متعلق یہ لکھا ہے کہ غرض یہی ہے کہ اظہار نہ کرے بلکہ ایسی طرح قضا کرے کہ کسی کو خبر نہ ہو اگر مسجد میں بھی قضاء کرنے سے کسی کو معلوم نہ ہو کہ نظمیں پڑھ رہا ہے یا فرض تو مسجد میں بھی درست ہے

(فتاوي دارالعلوم ديوبند: ٤/٣٣٩، دار الاشاعت)

سوال: (۱۹۷۶) قضا نما ز جماعت کے ساتھ پر مہنا کیسا ہے؟

الجواب: - مسنون ہے

(فتاوي دارالعلوم ديوبند: ٤/٣٤٦، دار الاشاعت)

سوال: اگر امام کی عصر کی نماز فاسد ہوئی مغرب کے وقت لوگ آئے اور امام کو بتلایا تو اب جماعت کے ساتھ مسجد میں عصر کی نماز کی قضا کر سکتے ہیں یا نہیں؟

الجواب: صورت مسئولہ میں چونکہ امرِ عام کی وجہ سے قضا کرنا ہے تو مسجد میں جماعت کے ساتھ درست ہے بشرطیکہ وقت میں گنجائش ہو کہ قضا کے بعد وقتیہ بھی پڑھ سکیں۔

(فتاوي دار العلوم زكريا: ٢/٥٦٧، زمزم)

سوال یہ اگر چند اشخاص سے اجتماعی طور کچھ نمازیں قضاء ہوئی ہوں اور وہ لوگ ان نمازوں کو جماعت کے ساتھ ادا کرنا چاہیں تو کیا ایسا کرنا جائز ہے؟

الجواب ہو وقتی نمازوں کی طرح قضاء نمازیں بھی جماعت کے ساتھ ادا کی جاسکتی ہیں، اگر نمازیں چری ہوں تو ان میں جہرا قرات کرنا ضروری ہے اگر سری نمازیں ہوں تو ستراً قرأت کرنا لازمی ہے ۔

(فتاوي حقانية: ٣/٣٠٣، جامعه دار العلوم حقانيه)

سوال... قضا نماز کی جماعت ہو سکتی ہے؟

جواب... اگر چند افراد کی ایک ہی وقت کی نماز قضا ہوگئی ہو تو ان کو جماعت کے ساتھ ادا کرنی چاہئے، لیلۃ التعریس کا واقعہ مشہور ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رفقاء نے آخر شب میں پڑاؤ کیا تھا، فجر کی نماز کے لئے جگانا حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے ذمہ تھا، لیکن تھکن کی وجہ سے بیٹھے بیٹھے ان کی آنکھ لگ گئی، اور سورج طلوع ہونے کے بعد سب سے پہلے انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے، رفقاء کو اُٹھایا گیا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وادی سے کوچ کرنے کا حکم فرمایا، اور آگے جا کر اذان واقامت کے ساتھ جماعت کرائی ۔ نماز کے قضا ہونے کا یہ وا نہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوغیر اختیاری طور پر پیش آیا، اس سے اُمت کو قضا نماز کے بہت سے مسائل معلوم ہوئے

(آپ كے مسائل اور ان كا حل: ٣/٦٢٩-٦٣٠، مكتبه لدهيانوى)

سوال: ایک شخص رمضان کے آخری جمعہ کو قضائے عمری بالجماعت ہر ایک نماز کو اذان دیتے ہوئے پڑھتا ہے اگر کوئی نہیں پڑھتا تو اس کو ملامت کرتا ہے اور سخت گنہگار بتلاتا ہے اس کا کیا حکم ہے؟ حکم ہے؟

الجواب: ایسا کرنا جائز نہیں دلائل شرعیہ کے خلاف ہے۔ اس کے تارک کو گنہگار کہنا سخت گناہ ہے.

(فتاوي محموديه: ١١/٤٥٤، دار الاشاعت)

سوال (۸۴۳): - کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: چند حضرات سفر میں ہیں اور ان تمام حضرات کی نماز قضا ہو جاتی ہے، یہ لوگ اپنے مقام پر پہنچ کر اس نماز کو جو قضا ہو گئی تھی، جماعت کے ساتھ ادا کرتے ہیں، قضا نماز جماعت کی شکل میں ادا ا کی جاسکتی ہے یا فردا فردا ادا کرنا چاہئے؟

الجواب وبالله التوفيق: صورت مسئولہ میں جب سب لوگوں کی ایک ساتھ نماز قضا ہوئی ہے اور بعد میں سب اس کو ایک ساتھ مل کر ادا کریں، تو جماعت کے ساتھ ادا کرنا بھی درست ہے۔

(كتاب النوازل: ٤/٥٢٤، دار الاشاعت)

قضا نمازوں کو مخفی طور پر ادا کرنا چاہیے لیکن مسجد میں ادائیگی کو علانیہ نہیں کہا جائے گا لوگوں کو کیا معلوم کہ نوافل پڑھ رہے ہیں یا قضا، البتہ نماز عصر کے بعد اور بوقت فجر لوگوں کے سامنے قضا نمانہ نہ پڑھے، کیونکہ اس وقت میں نوافل مکروہ ہیں، لہذا دیکھنے والے اس نماز کو قضا ہی سمجھیں گے اور گناہ کا اظہار بھی مستقل گناہ ہے، لوگوں کے سامنے وتر کی قضا میں دعاء قنوت سے قبل تکبیر کہے مگر ہاتھ نہ اُٹھائے.

(احسن الفتاوى: ٤/١٨، سعيد)

نماز کا ذمہ میں قضاء رہنا معصیت ہے، اور معصیت کا اظہار بجائے خود معصیت ہے؛ لہذا جہاں تک ممکن ہو قضاء نمازوں کی ادائیگی میں میں اخفاء سے کام لینا چاہئے ۔ فقہاء ہاء. نے لکھا ہے کہ دوسروں کے سامنے اظہار کر کے نمازوں کا قضاء کرنا مکروہ تحریمی ہے ۔

آج کل بہت سی جگہ عید گاہ میں نماز عید سے قبل بر ملا فجر کی قضاء نماز پڑھی جاتی ہے، ایسے لوگ مذکورہ حدیث کی روشنی میں سخت گنہگار ہیں۔

(كتاب المسائل: ١/٣٢٥-٣٢٦، دار الاشاعت)

For your questions

Have a question that needs a clear, sourced answer?

Submit your question privately. Our team reviews each submission and responds with a researched answer, citing the references used.