Can I forfeit a portion or all of my share of inheritance?

Giving Up Their Share of Inheritance
Can a person give up their share of inheritance or settle on a lesser amount? Would it be permissible to forsake one’s share completely?
الجواب حامدا ومصليا ومسلما
In reference to your question, if an heir forgoes their share in inheritance and settles for a lesser amount, they will be given their new share and the rest of the wealth will be distributed amongst the remaining heirs in proportion to their respective shares.
However, if an heir forfeits their share completely and does not make a settlement, their portion of the wealth will still be their right, which they can demand at a later time. In other words, the right of inheritance may not be waived by simply abandoning it. Rather, if they wish to give up their share, they may do so after receiving it in their possession. This is particularly even more important these days when people are sometimes pressured or coerced into giving up their share.
And Allāh Ta’āla Knows Best
References
والثالث إما اختياري وهو الوصية او اضطراري وهوالميراث وسمي فرائض لأن الله تعالي قسمه بنفسه واوضحه وضوح النهار بشمسه
ولذا سماه ﷺ نصف العلم لثبوته بالنص لا غير رد المحتار ١٠/ ٤٩٢، دار الكتب العلمية
والثالث اما اختياري الخ وذلك لأنه اما ان يكون ثبوته من جهة الميتوإختياره وهو الوصية او يكون من جهة غيره وهو الشرع وهو الميراث
حاشية الطحطاوي ١١/ ٤٥٣، دار الكتب العلمية
الارث جبريلا يسقط بالاسقاط
تكملة رد المحتار ١١/ ٦٧٨، دار الكتب العلمية
قال فيالدرر: قال احد الورثة لا دعوي لي في التركة لا تبطل دعواه لأن ما ثبت شرعا من حقلازم لا يسقط بالإسقاط
تكملة رد المحتار ١٢/ ١٠٥، دار الكتب العلمية
وفيها: لوقال تركت حقي من الميراث او برئت منها ومن حصتي لا يصح وهو علي حقه لان الارث جبريلا يصح تركه
تكملة رد المحتار ١٢/ ١١٦، دار الكتب العلمية
وفي آخر الاشباه لو صولح الموصي له بالثلث عليالسدس صح- اقول لكنه مشكل لانه من قبيل الاسقاط في الاعيان وهو لا يجوز وقد صرحوبان الوارث لا يسقط حقه من التركة بالاسقاط وهذا مثله
تكملة رد المحتار ١٢/ ٣٤٨، دار الكتب العلمية
وذلك لأن الصلح لا تجوز بطريق الإبراء لان التركةاعيان والبرائة من الأعيان لا تجوز لكن لا بد من التقابض في المجلس فيما يقابلالنقدين لأنه في هذا القدر وان صالحو بعرض في هذه الصورة جاز مطلقا لعدم الربوا
مجمع الانه ر٣/ ٤٣٩، دار الكتب العلمية
وفي الاشابهوالنظائر: ولو قال الوارث تركت حقي لم يبطل حقه اذا الملك لا يبطل بالترك والحقيبطل به
الاشباه والنظائر ٣/٥٣، ادارة القرآن
البحر الرائق ٥/٣٧٦، دار الكتب العلمية
أخرجت الورثة احدهم عن التركة وهي عرض او هي عقار بما لاعطاه ل ه او اخرجوه ع ن تركة ذهب بفضة دفعوها له اوعلي العكس او عن نقدين بهما صح
رد المحتار ٨/٤٢٥، دار الكتب العلمية
اذا كانت التركة بين ورثة فأخرجوا احدهم منه بمالاعطوه اياه والتركة عقار او عروض صح قليلا كان ما اعطوه او كثيرا وان كانت التركةذهبا فاعطوه فضة او كانت فضة فاعطوه ذهبا فهو كذلك
الفتاوي الهندية ٤/ ٢٩٢، دار الكتب العلمية
امدادالفتاوی ميں بايں الفاظ بيان فرمائی ہے:
لم يبطل الخ اس صورت ميں ہےجبکہ بالکليہ دست بردارہوجائے۔۔۔ اور يحتمل السقوط اس صورت ميں ہے کہ جب اپنے حق سے کم پر صلح کرے،چنانچہ جاز الصلح کی دليل ميں بيان کرنا اس کا قرينہ ہے -
امداد الفتاوی ٣/ ٤٧٣، زكريا
ترک حصہکے بارے ميں تحقيق يہ ہے کہ اگر حق دين ميں ہے جس ميں مہر بهی داخل ہے تو ابراءصراحہ يا دلالہ سے حق ساقط ہوجاتا ہے اور اگر حق عين ميں ہے تو ابراء صحيح نہيںبلکہ ہبہ ضروری ہے، لہذا اس ميں ہبہ کی شرائط کا وجود ضروری ہے-٩/٢٧٦
سوال: اگر بہن اپنا حصہ ميراث معاف کردے يابهائيوں کو ہبہ کردے تو بهائی بری الذمہ ہونگے يا نہيں؟
الجواب: عفو وابراء دين سے ہوتا ہے، عين سے عفو وابراء صحيح نہيں- البتہاگر بهائيوں نے ترکہ ميں کوئی ايسا تصرف کرليا جس سے بہن کا حق عين سے منتقل ہو کربهائيوں کے ذمہ دين بن گيا تو عفو وابراء صحيح ہے، بہن کے معاف کرنے سے معافہوجائےگا-
ورثہ کے تصرف سے قبل اگر بہن ہبہ کردے تو يہ ہبۃالمشاع ہونے کی وجہ سے صحيح نہيں۔۔۔ جہاں بهائيوں سے حصہ نہ لينے کا دستور ہو وہاںطيب خاطر کا يقين نہ ہونے کی وجہ سے جائز نہيں بلکہ طيب خاطر کا يقين ہونے کی صورتميں بهی چونکہ اس سے رسم جاہليت اورظلم عظيم کی تائيد ہوتی ہے اسلئے جائز نہيں،دين سے ابراء کا بهی يہی حکم ہے کہ وجہ مذکور کی وجہ جائز نہيں-
احسن الفتاوی ٩/ ٢٧٩، سعيد
جو بهی شرعا وارث ہو شريعت کے مطابق اسے حو ملتاہے، يہ اپنی مرضی کی بات نہيں ہے کہ جسے چاہيں دے ديں اور جسے چاہے نہ ديں، اور جوشخص شرعی وارث ہے اسے بهی يہ حق نہيں ہے کہ اپنا حصہ نہ لے اسے اس کا حق ملے گا -
-لہذا صورت مسؤولہ ميں صرف يہ کہہ دينے سے کہ مجهےميرا حق لينا نہيں ہے اس سے اس کا شرعی حق ختم نہ ہوگا
-جن وارثوں کو حصہ نہ لينا ہو وه اپنا حصہ لينے کےبعد جنہيں چاہيں اپنی مرضی سے دے سکتے ہيں، والله اعلم
فتاوی رحيميہ ١٠/٢٨٠، دار الاشاعت
ميت کے تين وارثوں ميں سے ايک وارث نے کہا کہ ميراحصہ بقيہ دونوں کو ديدو ميں خود ليا کرونگا يہ نہيں کہا کہ ميں نے اپنا حصہ چهوڑا،اپنا حصہ ميں نہ لونگا تو اس طرح کہنے سے بهی يہ تخارج ہوجاوےگا يا يہ ہبہ ناجائزہے و ہبہ مشاع ہوجاوےگا؟
الجواب: اگر خود ان وارثوں سے کہا کہ ميں نے تم کوديا تو ہبہ ہے - اور جو اور کسی سے کہے کہ ديدو تو يہ توکيل بالہبہ ہے بہرحال يہتخارج نہيں جس کی حقيقت تصالح علی الاقرار ہے جو حکم يع ميں ہے- اور چونکہ ہبہمشاع کا ہے لہذا جہاں مشاع ہونا مانع صحت ہے وہاں جائز نہ ہوگا-
امداد الفتاوی ٣/٤٦٧، زكريا
ہاں غير اقوام کی تقليد ميں بعض مسلمانوں نے اپنیبہنوں کے حقوق لے لئے اور ان سے جبرا معاف کرا ليا تو يہ جبری معاف کرنا ہے اس سےحق ساقط نہيں ہوگا- جيسا کہ ہندوستان ميں بعض جگہوں پر رائج ہے -
فتاوی دار العلوم زکريا ٩/ ٧٨٥، زمزم
کسی سے کوئی چيز لينے يا اس کے استعمال کرنے کےلئے اس کا خوشی سے راضی ہونا ضروری ہے، لہذا اگرکسی وقت حالات سے يہ معلوم ہوجائےکہ کسی شخص نے اپنی ملکيت استعمال کرنے کی اجازت کسی دباؤ کے تحت يا شرما شرمی ميں
ديدی ہے اور وه دل سے اس پر راضی نہيں ہے تو ايسیاجازت کو اجازت نہيں سمجها جائےگا، بلکہ اس کا استعمال بهی دوسرے کے لئے جائز نہيںہوگا -
نيز يہ بهی ذہن ميں رہے کہ لڑکيوں کو ميراث سےمحروم کرنا اوران کو ميراث سے جو حصہ ملتا ہے وه لڑکوں کا آپس ميں تقسيم کرلينا يہبهی اسی حکم کے اندر داخل ہے اور سخت حرام ہے، اوربہنوں پر ظلم ہے، لڑکيوں )بہنوں(کا جو شرعی حق ہو )اور ان کے علاوه جو بهی وارث ہوں( ان کا حق ادا کرنا انتہائیضروری اور لازم ہے، ميراث کی تقسيم قانون الہی ہے، اس کے مطابق عمل کرنا بہت فضيلتاور اجر و ثواب کا باعث ہے اور اسکی خلاف ورزی پر دوزخ کی سخت وعيد ہے -
فتاوی دار العلوم زکريا ٩/ ٧٨٦، زمزم
لڑکی متوفی کے انتقال ہوتے ہی اس کا کل ترکہ اس کےشرعی وارثوں کی ملک ہوچکا اب اس کو کسی قانونی حيلہ سے اپنے قبضہ ميں لانا اور پهروقف کرنا ہرگز جائز نہيں اور اگر ايسا کرديا گيا تو شرعا وه وقف قابل اعتبار نہہوگا -
امداد المفتين ٢/ ٧٩٤، ادارة المعارف كراتشي
محض اس کے يہکہنے سے کہ ميں نہيں لونگا اس کا حق وراثت نہيں ہوگا جب تک وه کسی حق ميں ہہ کیصراحت نہ کرد ے- اس لئے مال تقسيم کرکے اس کا حصہ اس کے گهر پہنچاديں-
کتاب النوازل ١٨/ ٥٢٥، دار الاشاعت

Have a question that needs a clear, sourced answer?
Submit your question privately. Our team reviews each submission and responds with a researched answer, citing the references used.