Can a nikah officiated on a zoom call be valid?

Nikah Being Conducted By Zoom Meeting
I have a question regarding having nikah on zoom. Is it permissible or not? If there are permissible scenarios, can you please outline what exactly they are?
الجواب حامدا ومصليا ومسلما
It will be permissible to perform a nikah on zoom with the condition that the witnesses are in the presence of the person accepting the marriage proposal1. It is advised due to a difference of opinion2 regarding this matter that the person proposing stipulates a wakeel (representative) that is also in the presence of the person accepting. The representative will then give the proposal on behalf of the person and the person can accept with the two witnesses physically present in that gathering.
And Allāh Ta’āla Knows Best
References
(ومنشرائط الايجاب والقبول: اتحاد المجلس لو حاضرين) وذلك بأن لا يقوم أحدهما أو يشتغلبعمل يوجب اختلاف المجلس 1
(لوحاضرين) احتراز عن كتاب الغائب فانه لو بلغه الكتاب في مجلس فقبل في مجلس اخر صح
(حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ٤/٢٦، دار الكتب العلمية)
قال محمد في الأصل إذا كتب اليها يخطبها فزوجت نفسها منه كان صحيحاوالأصل في ذلك أن الكتاب من الغائب بمنزلة الخطاب من الحاضر...ولو قرأت الكتاب علىالشهود أو قالت ان فلانا كتب الي يخطبني فاشهدوا أني قد زوجت نفسي منه يصح لأنالشهود سمعوا كلامها بإيجاب العقد اسمعوا كلام الخاطب بإسماعها إياهم اما بقراءةالكتاب أو العبارة عنه
(المحيط البرهاني: ٤/٨٣، إدارة القران)
ولو أرسل اليها رسولا وكتب اليها كتابا بذلك فقبلت بحضرة شاهدين سمعاكلام الرسول وقراءة الكتاب جاز ذلك لاتحاد المجلس من حيث المعني لأن كلام الرسولكلام المرسل لأنه ينقل عبارة المرسل وان لم يسمعا كلام الرسول وقراءة الكتاب لايجوز
(بدائع الصنائع: ٢/٤٩٠، دار احياء التراث)
(الفتاوي الهندية: ١/٢٩٧، دار الكتب العلمية)
وإذا أرسل اليها رسولا... فاذا بلغ الرسالة وقال ان فلانا يسألك انتزوجي نفسك منه فأشهدت انها قد تزوجت كان ذلك جائزا إذا اقر الزوج بالرسالة اواقامت عليه البينة- ولو خطب امرأة بالكتابة او بالرسالة اليها فزوجت نفسها فان سمعالشهود كلام الرسول وقراءة الكتاب جاز والا فلا
(الفتاوي التاتارخانية: ٤/١٢٧، زكريا بكدبود)
فلا ينعقد بقبول الفعل كقبض مهر.. ولا بكتابة حاضر بل غائب بشرطاعلام الشهود بما في الكتاب. (وقال في حاشيته) لان سماع الشطرين شرط صحة النكاحوبإسماعهم الكتاب او التعبير عنه منها قد سمعوا الشطرين
(رد المحتار: ٤/٧٥، دار الكتب العلمية)
ومنها سماع الشاهدين كلام المتعاقدين جميعا... لان الشهادة أعنى حضورالشاهد شرط ركن العقد
(بدائع الصنائع: ٢/٥٢٧، دار احياء التراث العربي)
وانما لا تقبل شهادته لتمكن تهمة الكذب وفي الحضور والسماع لا تتمكنهذه التهمة
(المبسوط: ٥/٣٠، دار الكتب العلمية)
واما حضور الشهود عند العقد وهو شرط عندنا لقوله عليه السلام لا نكاحالا بشهود
(مختارات النوازل: ٢/١٣، مؤسسة ايفا للطبعوالنشر)
رجل بعث كتابا ليخطبها فقالت المرأة بمحضر من الشهود زوجت نفسي منهلا يصح النكاح لان سماع الشهود كلام المتعاقدين شرط
(مختارات النوازل: ٢/١٧، مؤسسة ايفا للطبعوالنشر)
فاذا بلغها الكتاب صار كأنه حاضرا ويخطب اليها نفسه فزوجت نفسها منهبشهود وهذا إذا اخبرت الشهود بالكتاب
(الفتاوي الولوالجية: ١/٣٢٠، دار الكتب العلمية)
شرطه الخاص به سماع اثنين بوصف خاص يذكر
(حاشية تبيين الحقائق: ٢/٤٤٥، دارالكتب العلمية)
الشرط فيه حضور الشاهدين لأسماعهما وفي رواية لا بد من سماعهما
(تبيين الحقائق: ٢/٤٥٥، دارالكتب العلمية)
ومنها سماع الشاهدين كلاهما معا
(الفتاوي الهندية: ١/٢٩٥، دارالكتب العلمية)
جوشخص نکاح کرتا ہو ٹیلیفون کے ذریعہ سے تو یہ شخص اس لڑکی یا اس کے ولی کو بذریعہ ٹیلیفون کہدے کہ اپنیبیٹی کے ساتھ میرا نکاح پڑھے تو وہ گواہوں کےروبرو یہ کہے کہ فلاں نے بذریعہٹیلیفون یہ پیغام دیا ہے کہ میرا فلانہ کے ساتھ نکاح پڑھے تو میں نے فلانہ کو فلاںکے نکاح میں دیدیا ،نکاح منعقد ہو جائیگا۔
(فتاوی فریدیہ: ٤/٤١٩، مولانا حسین صدیقی)
أجکل ٹیلیفون سیٹ کے کافی قسمیں ملتے ہیں،وہ ٹیلیفون جس سےصرف ایک آدمپی آواز سنسکتا ہے، دوسرا وہ جن کے ذریعہ بات کرنے والے ایک دوسرے کے کی تصویر بھی دیکھ سکتےہیں،وہ ٹیلیفون جن کے ذریعہ سے بات چیتکرنے والوں کی آواز حاضرین مجلس ھی سن سکتے ہیں، اول الذکر میں نکاح منعقد نہیںہوگا،اور آخرین میں چونکہ شہادت کے پورے تقاضے پورے ہو سکتے ہیں لہذا نکاح درست ہے-
فتاویحقانیہ: ٤/٣١٢،جامعہ حقانیہ
پون کے ذريعہ جو براست آواز آتی ہے، اسے رسول کے پيغامايجاب يا خط کے مضمون کے اعادہ کی طرح قرار دیں گے
خير الفتاوی: ٤/٣٧٠،مکتبہ امداديہ
2انٹرنیٹ پر ویڈیو کالنگ کے ذریعہ نکاح شرعا درست نہیںہے، ہاں اگر وکیل کے ذریعہ سے ہو تو جائز ہے۔
(کتاب النوازل:٨/٧٩، دار الاشاعت)
(آپ کے مسائل اور ان کا حل:٦/٩٧،مکتبہ لدھیانوی)
(فتاوی محمودیہ: ١٦/٢٢٥، دار الاشاعت)
ٹیلیفونپر نکاح نہیں پڑھا جاسکتا لہذا یا تو وہ لڑکا بذریعہ ٹیلیفون یا خط وغیرہ کسی کو وکیل بنادے اور یا ویسے کوئیآدمی فضولی اس کی طرف سے قبول کر لے ، اس صورت میں موقوف ہو گا اگر منظور کردے توصحیح ورنہ رد ہو جائیگا توکیل کی صورت بہتر ہے
(فتاوی مفتی محمود: ٥/٢٦٢، جمعیہ پبلکیشنز)
نکاحکے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ مرد اور عورت یا ان کے وکیلوں کا ایک مجلس میں ایجابوقبول کرنا اور اسی مجلس میں دو گواہوں کا اس کا سننا (ضروری ہے)
فتاویدینیہ: ٣/٢٠٢،جامعُ حسینیہ
فتاویعباد الرحمن: ٣/٣٤٤،دار الإفتاء والتحقيق
شرعیقانون کے مطابق نکاح منعقد نہیں ہوا ہے ،وجہ یہ ہے کہ شوہر بھی مجہول ہے اور ایجاب وقبول کی مجلس متحد نہیں ہے اور نہ شاہدیننے ایک ہی مجلس میں نہیں سنا-
فتاویرحیمیہ: ٦/،١٨٣،دار الاشاعت

Have a question that needs a clear, sourced answer?
Submit your question privately. Our team reviews each submission and responds with a researched answer, citing the references used.