Daily Life & Etiquette

Wudu after vagincal discharge

Answered
June 3, 2026
The Question

Do I need to perform wudhu for every type of discharge that comes out of the vaginal area?

The Answer
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب حامدا ومصليا ومسلما

Below are the three types of vaginal discharge along with their rulings1:

1.    Discharge from the outer/external section of the vagina. This will be considered pure and will not break one’s wudhu.

2.    Discharge from the inner section of the vagina (vaginal walls). There is a difference of opinion in regards to this type of discharge. Imām Abū Ḥanīfa states that this discharge will be pure and one will not need to make wudhu. Imām Muḥammed and Abū Yūsuf state that this discharge will be impure and will break the wudhu. The preferred opinion is that of Imām Abū Ḥanīfa.

3.    Discharge which originates from beyond the vagina (fallopian tube, uterus, and cervix).There is a consensus that this is considered impure and will break the wudhu.

Normal discharge can occur daily orless frequently as a means of cleansing dead cells and bacteria. This discharge originates from the vaginal walls (#2) as well as the cervix (#3). However, it is most common to only originate from the vaginal walls. Therefore, normal discharge will not break one’s wudhu. However, it would be better to make wudhu as a precaution when one has a chance or when it is convenient to do so.

It should be noted that the rulingsfor the first and second scenario are with the condition that it excretes naturallywithout discolouration or anything mixed with it such as blood or semen and itis not caused by arousal.2

 

Allāh Ta’āla Knows Best

Answered by
Maulana Bakhtiyar Ahmed
Approved by
Mufti Husain Ahmad Madani

References

1

(و)لا عند (وط) بهيمة أو ميتة أو صغيرة غير مشتهاة بأن تصير مفضاة بالوطء وإن غابتالحشفة ولا ينتقض الوضوء، فلا يلزم إلا غسل الذكر قهستاني عن النظم، وسيجيء أنرطوبة الفرج طاهرة عنده

وفي الحاشية:

قوله: (الفرج) أي الداخل، أما الخارج فرطوبته طاهرة باتفاق بدليلجعلهم غسله سنة في الوضوء، ولو كانت نجسة عندهما لفرض غسله.

أقول: قد يقال: إن النجاسة ما دامت في محلها لا عبرة لها، ولذا كانالاستنجاء سنة للرجال والنساء في غير الغسل مع أن الخارج نجس باتفاق، فلا تدل سنيةالغسل على الطهارة، فتدبر؛ نعم يدل على الاتفاق كونه له حكم خارج، البدن فرطوبتهكرطوبة الفم والأنف والعرق الخارج من البدن.

(ردالمحتار: ١/٣٠٥، دار الكتب العلمية)

وفي المجتبى: أولج فنزع فأنزل لم يطهر إلا بغسله لتلوثه بالنجسانتهى: أي برطوبة الفرج، فيكون مفرّعاً على قولهما بنجاستها؛ أما عنده فهي طاهرةكسائر رطوبات البدن.

وفي الحاشية:

(برطوبة الفرج) أي الداخل بدليل قوله «أولج». وأما رطوبة الفرجالخارج فطاهر اتفاقا. وفي منهاج الإمام النووي رطوبة الفرج ليست بنجسة في الأصح.قال ابن حجر في شرحه: وهي ماء أبيض متردد بين المذي والعرق يخرج من باطن الفرجالذي لا يجب غسله بخلاف ما يخرج مما يجب غسله فإنه طاهر قطعاً، ومن وراء باطنالفرج فإنه نجس قطعاً ككلّ خارج من الباطن كالماء الخارج مع الولد أو قبيله.وسنذكر في آخر باب الاستنجاء أن رطوبة الولد طاهرة. وكذا السخلة والبيضة. قوله:(أما عنده أي عند الإمام، وظاهر كلامه في آخر الفصل الآتي أنه المعتمد.

(رد المحتار: ١/٥١٥، دار الكتب العلمية)

رطوبة الفرج طاهرة خلافاً لهما

(ردالمحتار: ١/٥٦٤، دار الكتب العلمية)

 

سوال: بسله تمته را بعها،ادا انفتادی پر چہ الامداد ماه محرم ۱۳۳۵ میں شروع صفحہ ۳۵پر جو جواب ۱۶ شوال ۱۳۳۷ کا لکھا ہوا درج ہے وہمطابق سوال نہیں ہے کیونکہ سوال کیا گیا ہے سفیدی خارج من الفرج سے اور جواب میںجو دلائل قائم کئے گئے ہیں وہ نہیں رطوبت فرج کے سفیدی تو بسبب سیلان رحم کے زرجسے آتی ہے جیسا کہ مردوں کے جریان منی کی وجہ سے سفیاری آتی ہے اور رطوبت مذکورہفی الجواب وہ رطوبت ہے جو مثل رطوبت شفتین کے جل- فرج پر ہر وقت موجود رہتی ہے یہمعنی رطوبت کے میں نے مولانا محمود حسن صاحب مرحوم سے سنا ہے ۔ امید کرتا ہوں کہاس مسئلہ پر نظر ثانی فرما کہ اس کی اصلاح شائع فرما دیں آئندہ جو رائے عالی ہو

الجواب : واقعی میں طب نہجاننے کے سبب اس رطوبت کو سائل من الرحم نہیں سمجھا جو کہ نجس بھی ہے اور ناقض وضوبهی میں مطلق سمجھ گیا پھر اس مطلق میں غیر رسائل من الرحم سمجھ گیا جو کہ امامصاحب کے نزدیک طاہر ہے اور غیا ناقض وضواور یہ بھی غلطی ہے مطلق سمجھنے کی صورتمیں اس تفصیل کی ضرورت تھی جو کہ تقرا ولی امداد الفتاوی کے صفحہ ۳پر ایک ایسے ہی سوال کے جواب مرقوم ۱۲ رمضان میں نامہکیور ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہاں تین موقع ہیں اور ہر موقع کی رطوبت کا جدا حکمہے، خرج خارج کی رطوبت ظاہر ہے اور فرج داخل کے باطن یعنی جسم کی رطوبت کیس ہے اورخود خرج داخل کی رطوبت مختلف فیہ ہے امام صاحب کے نزدیک طاہر، صاحبین کے نز دیکنیس اور اس مقام پر روایات بھی مذکور ہیں ۔ پس تا ظرین کو چاہئے کہ اس مجمل کو استفصیل پر محمول کر لیں گی وہ مفصل تاریخ ہیں مقدم ہے مگر اس موخہ کو ناسخ نہسمجھیں ۔  ربیع الثانی ۱۳۲۲

(امدادالفتاوي: ١/١٢٠-١٢١، زكريا بكڈپو ديوبند)

یہاں تین موقع ہیں اور ہرجگہ رطوبت کا حکم جارا ۔ ایک موقع فرح    خارجکا ہے اس کی رطوبت در حقیقت پسینہ ہے اور وہ ظاہر ہے اور ایک موقع زرج داخل کاباطن یعنی اس سے آگے ہے یعنی رحم ایس کی رطوبت نازی یا مثل مندی ہے اور وہ نجر ہےاور ایک موقع خود خرج داخل اس کی رطوبت میں تردد ہے کہ وہ پسینہ ہے یا نمازی اسلئے اس کی سنجاست میں اختلاف ہے اور احتیاط اس کے نجس کہنے میں ہے

(امداد الفتاوي:١/١٠٨، زكريا بكڈپو ديوبند)

سوال: عورت کی پیشاب گاہ سےوقتا فوقتا نا پاک رطوبت نکلتی رہتی ہے، بعض اوقات اتنی بھی مہلت نہیں ملتی کہپوری نماز ادا کی جائے، ایسی صورت میں کپڑا اندر رکھ لیا جائے تو وضو ٹوٹ جائے گایا نہیں؟

الجواب: کپڑا اندر رکھنے سےاگر نجاست وہیں رک گئی باہر نہیں نکلی تو وضو باقی ہے اور ایک وضو سے کئی نمازیںادا کرنا درست ہے، اگر اندرونی حصہ (فرج داخل) میں وضو کی حالت میں کپڑا رکھ کربالکل غائب کر دیا تو وضوٹوٹ جائیگا اور کچھ اندر رہا اور کچھ باہر رہا بالکل غائبنہیں ہوا تو وضو نہیں ٹوٹے گا، جبکہ رطوبت باہر کے حصہ تک نہ پہونچی ہوں.

(فتاوي محموديه: ٨/١٤٥، دار الاشاعت)

سوال: سفید قطرے جو انڈے کیسفیدی کی طرح ہوں، جو ماہانہ ایام سے پہلے اور بعد میں ایک ہفتے تک یا اس سے کم یازیادہ دنوں تک آتے ہوں، تو اس دوران صرف وضو کر کے نماز پڑھی جاسکتی ہے؟

جواب: ماہواری کا غسل کرنےکے بعد جو سفید پانی آتا ہے وہ نجس ہے لیکن اس سے غسل واجب نہیں ہوتا، وضو کر کےنماز پڑھا کریں۔

(آپ كے مسائل اور ان كا حل:٣/١٣٣-١٣٤، مكتبه لدهيانوي)

سوال: خواتین کے پیشاب اورپاخانے کے علاوہ باقی فضلات (علاوہ حیض) نا پاک ہیں یا نہیں؟ یعنی ان کے کپڑے میںیا جسم پر لگے رہنے سے نماز ہو جاتی ہے یا نہیں؟ وضو باقی رہتا ہے یانہیں؟ (خروجفضلات سے)۔

جواب: رحم سے خارج ہونے والی رطوبت نا پاک ہےاور اس سے وضو بھی ٹوٹ جاتا ہے اور کپڑا بھی ناپاک ہو جاتا ہے) جس عورت کو سیلانالرحم (لیکوریا) کی بیماری ہو وہ معذور کے حکم میں ہے، یعنی وقت کے اندر ایک باروضو کر لینا اس کے لئے کافی ہے، نماز کے لئے پاک کپڑا استعمال کیا کرے.

(آپ كے مسائل اور ان كا حل:٣/١٣٥، مكتبهلدهيانوي)

سوال: عورت کی شرمگاہ سےنکلنے والی رطوبت پاک ہے یا نا پاک اور اس سے وضو ٹوٹتا ہے یا نہیں؟

الجواب: جو رطوبت شرمگاہ سےباہر ہوتی ہے وہ پاک ہے اور جو پانی (رطوبت) اندر سے آتا ہے وہ نا پاک ہے اس سےوضو ٹوٹ جاتا ہے۔ امام صاحب کے ہاں فرج داخل کی رطوبت فرج خارج کی طرح پاک ہے لیکنصاحبین کے نزدیک فرج داخل کی رطوبت نا پاک ہے، اور احتیاط نجس کہنے میں ہے، ہاںفرج داخل کے آگے سے جو پانی بہتا ہے وہ بالا تفاق ناپاک ہے۔

...یہاں تین موقع ہیں: (۱) فرجخارج جس کا دھونا غسل میں فرض ہے اس کی رطوبت پاک ہے۔ (۲) فرج داخل جس کادھونا نسل میں فرض نہیں ہے اس کی رطوبت میں اختلاف ہے اور احتیاط نجاست میں ہے-

نهفرج داخل نه فرج خارج بلکہ فرج داخل سے بھی متجاوز اس کی رطوبت نجس ہے(۳)

(فتاوي دار العلوم زكريا: ١٢٩٣-٢٩٤، زمزم)

عورت کی شرمگاہ کے بالائیحصے جس کو فقہ کی اصطلاح میں” فرج خارج کہتے ہیں، اس سے نکلنے والی رطوبت بالاتفاق حنفیہ کے یہاں پاک ہے، شرمگاہ کے اندرونی حصہ (فرج داخل) سے نکلنے والی رطوبتکے بارے میں اختلاف ہے کہ یہ پاک ہے یا نا پاک؟؟ لیکن راجح قول پاک ہونے کا ہے

لہذا کپڑے میں لگ جانے والیرطوبت راجح قول کے مطابق پاک ہے اور اس کو دھونا ضروری نہیں، فقہاء کے اختلاف سےبچتے ہوئے احتیاطاً دھولیں تو اور بہتر ہے۔

(كتاب الفتاوي: ٢/٤٧، كتب خانه نعيميهديوبند)

 

2

والنواقض جمع ناقضة (اثنا عشر شيئاً) منها: (ما خرج من السبيلين) وإنقل سمي القبل والدبر سبيلاً لكونه طريقاً للخارج وسواء المعتاد وغيره كالدودةوالحصاة (إلا ريحَ القبل) الذكر والفرج) في الأصح لأنه اختلاج لا ريح

(حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح: ١/١٣١، دار القباء)

منها ما يخرج من السبيلين من البول والغائط والريح الخارجة من الدبروالودي والمذي والمني والدودة، والحصاة الغائط يوجب الوضوء قل أو كثر وكذلك البولوالريح الخارجة من الدبر كذا في المحيط... المذيينقض الوضوء وكذا الودي والمني إذا خرج من غير شهوة بأن حمل شيئا فسبقه المني أوسقط من مكان مرتفع يوجب الوضوء كذا فـي المحيط

(الفتاوي الهندية: ١/١٢، دار الكتب العلمية)

كل ما خرج من السبيلين فهو حدث، أراد بالسبيلين الفرج والدبر والذكرمعتاداً كان الخارج أو غير معتاد، وقليلاً كان أو كثيراً، سال أو لم يسل، وعند زفررحمه الله ظهور النجس ناقض، وعند الشافعي الخارج من غير السبيلين غير ناقض، وعندناهو إذا جاوز إلى موضع يلحقه حكم التطهير ينقض الوضوء.

(مختارات النوازل: ١/٢٠٧، مؤسسة إيفا للطبع والنشر)‎

For your questions

Have a question that needs a clear, sourced answer?

Submit your question privately. Our team reviews each submission and responds with a researched answer, citing the references used.